کامیابی ہمارا مقدر،جدوجہد جاری رکھیں

سرینگر//تہاڑ جیل میں محبوس سینئر مزاحمتی لیڈر شبیر احمد شاہ نے اپنے پیغام میں کہاہے کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ جموں کشمیر کی تحریک آزادی کامیابی کے ساتھ نئی نسل کو منتقل ہوئی ہے جو اس بات سے بھی ثابت ہے کہ یہاں کے نوجوان قیمتی تحریک آزادی کی راہ میں اپنا سب کچھ نچھاور کررہے ہیں۔ شبیر احمد شاہ کے اہل خانہ نے گذشتہ دنوں دلی جاکر محبوس قائد سے ملاقات کی جس کے دوران شبیر شاہ نے کشمیر کے اطراف و اکناف میں جاری خون خرابے پر انتہائی رنج و ملال کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’’میںآئے دنوں نوجوانوں کے جان بحق ہونے پر صدمے کا شکار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کی زندگیاں انتہائی قیمتی ہیں اور خاص کر اُن کی اموات سے اُن کے والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ شبیر شاہ نے کہاکہ آج جب میں تہاڑ جیل کی تنگ کوٹھری میں اپنا محاسبہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو اُن نوجوانوں سے بہت چھوٹا پاتا ہوں جو آزادی کی راہ میں محو جد و جہد ہیں اور ہر ظلم ستم کو خندہ پیشانی کے ساتھ سہتے ہوئے عمل کی راہ میں محو سفر ہیں۔میں ان سبھی نوجوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔شبیر شاہ نے کہاکہ میں اُن قوتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو ہمارے مسائل کو طول دینے میں اپنا دن رات ایک کرتے ہیں کہ آخر تم کتنوں کو تہہ تیغ کرو گے؟ یاد رکھو کہ ظلم جب بڑھ جاتا تو اُس کا مٹنا یقینی ہوتا ہے۔میں اُن مائوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آزادی پسند نوجوانوں کو جنم دیکر اُن کی پرورش کی ہے۔آج جب میں تہاڑ جیل کی8فٹ لمبی اور6فٹ چوڑی کوٹھری میں صبح آزادی کا منتظر ہوں، میں نئی دلی کو یہ بات پھر بتادینا چاہتا ہوں کہ تنازع کشمیر کو خونین بنانے کے پیچھے صرف اُسی کا ہاتھ کار فرما ہے۔ ورنہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کو سیاسی طور ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرا آج بھی اس حقیقت پر پورا یقین ہے کہ کامیابی ہمارا مقدر ہے اور وہ دن دور نہیں ہے جب بھارت حقیقت کوتسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے میرا بھارت کو مشورہ ہے کہ وہ دیرینہ کشمیر تنازع سے متعلق اپنا غیر حقیقت پسندا نہ اپروچ ترک کرے جو پورے خطے کے پائیدار امن اور استحکام کیلئے ایک خطرناک صورتحال پیدا کررہا ہے۔