کامران یوسف تہاڑ سے رہا

 نئی دہلی // 6ماہ کی طویل اسیری کے بعد فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف کوبدھ کی صبح تہاڑجیل سے رہاکیاگیا۔ دلی کے پٹیالہ ہائوس کورٹ کی جانب سے سوموارکو انکی ضمانتی عرضی منظورکی گئی تھی۔ تہاڑجیل کے باہر دلی میں کام کررہے کئی فوٹو جرنلسٹ اوراُسکے کچھ رشتہ دارموجودتھے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کامران کی ضمانتی درخواست منظور ہونے کے وقت عدالت نے انہیں 50ہزار روپیہ زر ضمانت رکھنے کی ہدایات کی تھی اور کامران کے پاس یہ پیسہ نہیں تھا۔معلوم ہوا ہے کہ دلی میں کام کررہے مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ کشمیری جرنلسٹوں اور میڈیا سے وابستہ دیگر افراد شام ہیں نے 50ہزار کی یہ رقم عدالت میں جمع کروائی۔بتایا جاتا ہے کہ دو فوٹو جرنلسٹوں نے عدالت میں اپنے کیمرے گروی رکھنے کی استدعا کی تھی جو نہیں مانی گئی۔ قطر کی راجدھانی دوحہ میںکام کرنے والے ایک کشمیری جرنلسٹ نے بھی زر ضمانت رقوم میں اپنا حصہ ادا کیا۔