کالج امتحانات کا بھی بگل بج گیا

 
سرینگر//سکولی تعلیم محکمہ کے بعد یونیورسٹی نے کالج امتحانات کا بگل بجاتے ہوئے نومبر کے آخر ی ہفتہ سے امتحانات شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔کشمیریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خورشید اقبال کی صدارت میں وادی کشمیر کے کالجوں کے پرنسپلوں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں کشمیر میں حالیہ حالات کے تناظر میں تعلیمی منظر نامہ کا جائزہ لیاگیا ۔مختلف انڈر گریجوٹ کورسز کیلئے نصاب مکمل ہونے کا جائزہ لینے کے دوران ممبرا ن نے بہ اتفاق رائے فیصلہ لیا کہ امتحانات لیتے وقت طلبہ کے جائز مفادات اور خدشات کو ملحوظ خاطر رکھاجاناچاہئے۔انڈر گریجوٹ امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میںطلبہ کے وسیع تر مفاد میں اور تعلیمی نقصان کی بھرپائی کیلئے فیصلہ لیا گیا کہ کشمیر کے سرمائی زون میں (لداخ ،کرگل ،ٹنگڈار ،گریز)کے کالجوں میں انڈر گریجوٹ امتحانات اس ماہ یعنی نومبر کے اختتام تک شروع ہونگے۔میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی لیا گیا کہ کشمیر وادی میں فسٹ ایئر اور سکینڈ ایئر کے بائی انیول امتحانات دسمبر2016کے دوسرے ہفتے سے شروع ہونگے جبکہ تھرڈ ایئر کے سالانہ امتحانات(دونوں ریگولر و بیک لاگ امیدواروںکیلئے)کیلئے یہ فیصلہ لیا گیا کہ کشمیروادی کے طلبہ کو یونیورسٹی کی ویب سائٹ (انڈر گریجوٹ ای ٹٹوریل سیکشن میں یا شہر کے کچھ کالجوں کی ویب گاہوں پر)پر پہلے سے دستیاب برقی تعلیمی مواد سے استفادہ کرتے ہوئے دسمبر کے آخر تک تیاری مکمل کریں اور اس کے بعد امتحان دسمبر2016کے آخری ہفتہ میں شروع ہوگا تاہم یہ فیصلہ لیاگیا کہ لیبارٹری سے منسلک کورسوں میں پریکٹیکل امتحان تھیوری امتحان کے بعد لیاجائے گا۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ دوسرے سمسٹر (2015بیچ)کا امتحان ترجیحی بنیادوں پر دسمبر کے وسط میں لیاجائے گا کیونکہ انہوں نے نصاب پہلے ہی مکمل کرلیاہے جبکہ اس بیچ کے تیسرے سمسٹر کا امتحان مارچ2017میں لیاجائے گا تاکہ نیا تعلیمی سیشن آرام سے شروع ہوسکے۔میٹنگ میں مزید فیصلہ لیاگیا کہ 2016بیچ کے پہلے سمسٹر کا امتحان جنوری2017کے وسط سے شروع ہوگا جبکہ اسی بیچ کے دوسرے سمسٹر کا امتحان پہلے سے ویب سائٹ پر اپ لوڈ شدہ تعلیمی مواد کو دھیان میں رکھتے ہوئے مارچ 2017کے وسط میں لیا جائے گا۔میٹنگ میں کالج پرنسپلوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایک بار پھر طلبہ کو آگاہ کریں کہ ان کے کورس کا تعلیمی مواد پہلے سے ہی ویب سائٹ پر دستیاب ہے تاکہ طلبہ اس سے استفادہ حاصل کرسکیں۔طلبہ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی تعلیمی شکایات و خدشات کے ازالہ کیلئے متواتر طور اپنے کالجوں کو جاتے رہیں ۔وائس چانسلر نے کالجوں کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ طلبہ کے وسیع تر مفاد میں تمام امتحانات کے بروقت اور شفاف انعقاد کیلئے وہ اضافی کوششیں کریں۔