کارپٹ صنعت کیلئے ایک جامع پیکج زیر غور: درابو

  سرینگر//وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے کہا ہے کہ حکومت ریاستی قالین سیکٹر کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک جامع پیکج تیار کرنے کے امکانات کا جائیزہ لے رہی ہے۔قالین تجارت اور تیار کرنے والوں کا ایک وفد وزیر خزانہ سے ملاقی ہوا اور انہوں نے قالینوں پر جی ایس ٹی نظام کے تحت لگنے والے12 فیصد ٹیکس میں کمی لانے کا مطالبہ وزیر کے سامنے رکھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی قالین صنعت جی ایس ٹی کی وجہ سے مشکلات سے نہیں جوجھ رہی ہے بلکہ اسے پہلے سے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر نے کہا کہ ا س سیکٹرکے ساتھ جڑے لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت ایک جامع پیکج کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ڈاکٹر درابو نے کہا کہ ریاستی حکومت جی ایس ٹی کونسل میں بھی ایک عرضداشت پیش کرے گی تا کہ قالینوں پر لگنے والے12 فیصد ٹیکس کو5 فیصد تک لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ہر ممکن کوشش کریں گے۔میٹنگ کے دوران وزیر کو بتایا گیا کہ قالین صنعت کے ساتھ 3.5 لاکھ کنبوں کے15 لاکھ سے زائد لوگ وابستہ ہیں اور ٹیکس میں اضافہ سے اُن کے روز گار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہیں بتایا گیا کہ یہ سیکٹر پہلے ہی کئی مشکلات سے دوچار ہے۔درابو نے کہا کہ حکومت دستکاری اور قالین سیکٹر کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی وعدہ بند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل حل کرنے سے روز گار کے کافی وسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کمرشل سیلز ٹیکس محکمہ کے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ جموں وکشمیر بنک، سی ایس ٹی،کارپٹ ایسوسی ایشن اور محکمہ صنعت کے نمائندوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جو قالین سیکٹر کے لئے جامع پیکج کے خدو خال تیار کرے گی۔دریں اثنا ایل او سی تاجروں کے ایک وفد نے بھی آج وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل کے بارے میں وزیر کو جانکاری دی۔ڈاکٹر درابو نے ان کے مسائل غور سے سُنے اور یقین دلایا کہ ان پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔میٹنگ میں کمشنر سیلز ٹیکس پرویز خطیب اور متعلقہ محکموں کے افسروں نے بھی شرکت کی۔