کاروان امن بس کے بعدآر پار تجارت بھی معطل

راجوری //پونچھ کے چکاں داباغ کے راستے بس سروس کے بعد تجارتی سلسلہ بھی بدستور منقطع ہے ، اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی اکائی نے آر پار تجارت منقطع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مسلسل چوتھے ہفتے بھی پونچھ راولاکوٹ کے درمیان کسی قسم کی کوئی تجارتی سرگرمی نہیں ہوئی ۔ذرائع نے بتایاکہ منگل کے روز بھی پچھلے تین ہفتوں کی طرح آر پار تجارت نہ ہوسکی اورمتعلقہ انتظامیہ و افسران کو اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے دیکھاگیا۔منگل کا دن تجارت کے لحاظ سے اس ہفتے کا پہلا دن تھا جس روز بھی یہ تعطل نہیں ٹوٹ سکا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بس سروس بھی معطل ہے جس کے نتیجہ میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے116مسافر پونچھ جبکہ جموں کشمیر کے تین مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں درماندہ ہیں ۔کسٹوڈین کراس ایل او سی ٹریڈ سنٹر پونچھ تنویر احمد نے اس بات کی تصدیق کی کہ منگل کے روز بھی تجارت نہیں ہوئی ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی اکائی نے آر پار تجارت کااستعمال علاحدگی پسند تحریک کےلئے کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پردیش بھاجپا کے ترجمان وریندر گپتا نے منگل کے روز کہا کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے NIAکی طر ف سے حال ہی میں کی گئی کارروائیوں کے بعد اسی قسم کی سفارش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول لائن کے آر پار ہونے والی تجارت کی رقومات کشمیر میں جاری تحریک کے لئے خرچ کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’ہم این آئی آے کی اس سفارش کی پوری طرح حمایت کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ آر پار تجارت کو فی الفور بند کر دیا جائے ‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قبل ازیں دیگر کئی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی اس بات کی اطلاع دی تھی کہ آر پارتجارت سے حوالہ رقومات اور منشیات کی اسمگلنگ کی جا رہی ہے تا کہ کشمیر میں ٹیرر فنڈنگ کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ علاحدگی پسند تحریک کو تقویت پہنچانے والے تمام راستوں کو مسدود کر دیا جانا چاہئے اس سے چاہے کسی کو معاشی یا سیاسی طور پر کتنا بی نقصان کیوں نہ ہوتا ہو۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مزید آ ر پار روابط بحال کئے جانے کی زور دار وکالت کی تھی ۔پارٹی کے 18ویں یوم تاسیس کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لئے ریاستی اسمبلی میں مخصوص رکھی گئی نشستوں کو پُر کئے جانے کی بھی تجویز رکھی تھی تا کہ آر پار روابط کو مزید استحکام بخشا جا سکے ۔وزیر اعلیٰ کی دلیل تھی کہ امرتسر پنجاب کے واہگہ بارڈر سے تجارت میںبھی کئی مشکلات ہیں ، وہاں سے کئی بار گانجا اور چرس پکڑی جاتی ہے لیکن اسے بند کرنے کی کوئی بات نہیں کرتا لیکن سرینگر مظفر آباد روڈ پر اگر کبھی غلطی سے بھی ایسا ہو جاتا ہے تو اس تجارت کو بند کرنے کی بات اٹھائی جاتی ہے لیکن ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔