ڈی ڈی سی چنائواور عوامی شرکت | اعلانات بہت ہوئے،وعدے وفا بھی کریں

ضلعی ترقیاتی کونسل اور پنچایت ضمنی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں بھی عوام نے جس طرح رائے دہی کے عمل میں حصہ لیا ،وہ یقینی طور پراطمینان بخش ہے ۔ضلعی ترقیاتی کونسل انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے تحت کشمیر صوبہ کے25اور جموں کے 18حلقوں سمیت کل ملا کر 43حلقوں میں رائے دہی ہوئی جس دوران کشمیر کے196اور جموں کے 125امیدواروں سمیت مجموعی طور پر321امیدواروں کی سیاسی قسمت بیلٹ بکسوں میں محفوظ ہوگئی ہے۔
اب جہاں تک پنچ اور سر پنچ ضمنی انتخابات کا تعلق ہے تو سر پنچ کی خالی83اور پنچ کی خالی 331نشستوں کے لئے اس مرحلہ کے تحت رائے دہی ہونی تھی ۔سر پنچ حلقوں کیلئے 151مرد اور 72 خواتین امیدواروں سمیت کل 223امیدوارقسمت آزمائی کررہے تھے جبکہ پنچ حلقوں کیلئے  552 مرد اور 157 خواتین سمیت 709 امیدوار میدان میں تھے ۔
 انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کیلئے جموںصوبہ میں 837اور کشمیر میں 1305سمیت کل 2142پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے اور جہاںتک رائے دہندگان کا تعلق ہے تو دوسرے مرحلہ کیلئے تقریباً8لاکھ لوگوں کو اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنا تھا لیکن الیکشن کمیشن اعدادوشمار کے مطابق 49فیصد کے قریب رائے دہندگان نے ووٹنگ عمل میں حصہ لیا اور اس طرح یہ کہاجاسکتا ہے کہ چارلاکھ کے قریب رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا باضابطہ استعمال کیا ہے ۔ ووٹنگ عمل کے دوران لوگوں نے کس کے سر پر کامیابی کا تاج رکھا اور کس کو شکست سے دوچارکردیا ،یہ تو نتائج کے دن ہی پتہ چل پائے گا تاہم عوام کی شرکت سے تاحال یہ انتخاب کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ان انتخابات کے تئیں عوام کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سخت سردی کے باوجود دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کے تحت آج بھی جہاںضلع پونچھ کے سرنکوٹ علاقے کے ایک دور افتادہ گاؤں ہلجارہ میں ایک 135 سالہ شخص نے ووٹ ڈالاوہیں سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی سردی کے باوجود 105 سالہ بزرگ نے پولنگ بوتھ پر پہنچ کر اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔اتنا ہی نہیں ،چنائوکا جادو کس حد تک سر چڑھ کر بول رہا ہے ،اس کابخوبی اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صوبہ جموں کے ضلع اُدھمپور کے پنچھاری علاقے میں ایک نو بیاہتے جوڑے نے عروسی لباس میں ہی پولنگ بوتھ پر پہنچ کراپنا ووٹ کاسٹ کیالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ،اننت ناگ اور شوپیاں میں رائے دہی کی شرح خاصی کم رہی جبکہ کشمیر کے دیگر علاقوں میں شرح رائے دہی مجموعی طور بہتر رہی۔ ان انتخابات کے تئیں عوام کی دلچسپی اس حقیقت کی جانب واضح اشارہ ہے کہ لوگ ان انتخابات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
نتائج کچھ بھی ہوں ،ان انتخابات کو ترقیاتی بیانیہ تک ہی محدود رکھاجاناچاہئے ۔کسی بھی جانب سے اس عمل کو کسی بھی طرح کی سیاسی رنگت دینا مفید ثابت نہیں ہوگا۔ان انتخابات کے نتیجہ میں مفاہمت اور تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہونا چاہئے جس کا وعدہ بھی کیاگیا ہے۔مرکزی قیادت نے بارہا کہا کہ زمینی سطح پر جمہوری اداروںکے قیام سے جموںوکشمیرمیں تعمیر وترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔اسی امید کے ساتھ جموںوکشمیر کے لوگ بھی ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔دلّی سے سرینگر تک ارباب اختیار کی یقین دہانیوں سے امید کی جو فضا قائم ہوچکی ہے ،اُس کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔
ابھی ان انتخابات کے مزید مرحلے آنے ہیں اور بالآخر نتائج کا دن بھی آئے گا جس کے بعد سبھی پنچایتوں ،بلاک کونسلوں اور ضلعی کونسلوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہوجائے گا۔یہ سارے مرحلے جب طے ہونگے تو پنچایت کا تین ٹائروں والا نظام بھی مکمل ہوجائے گا جس کے بعد ایک ہی کام بچتا ہے اور ہے کہ اس انقلابی راج کے فوائد لوگوں کے گھروںکی دہلیز تک پہنچانا ۔عوام اپنی طرف حق ادائی کررہے ہیں تاہم اس کے بعد سرکار کیلئے امتحان کی گھڑی شروع ہوجائے گی جنہیں عوام کی امیدوں پر کھرا اتر نا ہی پڑے گاتاکہ حقیقی معنوں میں طاقت کا توازن عوام کے حق میں ہوجائے جو جمہوری نظام حکومت میں طاقت کا حقیقی سر چشمہ ہیں۔