ڈی ڈی سی انتخابات 2020 | پونچھ میں گنتی کیلئے انتظامات مکمل: راہول یادو

پونچھ/حسین محتشم /ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخابات کے سلسلہ میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ یہ بات ضلع الیکشن آفیسر پونچھ راہول یادو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ دوپہر ایک بجے تک انتخاباتی حلقہ جات کے نتائج کا اعلان ہونا شروع ہو جائے گا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے راہول یادو نے کہا کہ ضلع کے تمام مراکز پر ووٹوں کی گنتی کا آغاز ٹھیک آٹھ بجے ہوگا۔ ابتدائی نصف گھنٹہ کے دوران بوکس کی گنتی عمل میں لائی جائے گی اور دیگر لوازمات پوار کر کے ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع پونچھ میں جملہ 3مراکز پر ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور تینوں مراکز کی ووٹوں کی گنتی کیلئے 14 ہال رکھے گئے ہیں۔ ضلع الیکشن آفیسر نے بتایا کہ پونچھ میں تین مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں ایک ڈگری کالج پونچھ میں دوسرا شیش محل میں اور تیسرا، ڈائٹ مرکز پونچھ میں ہے۔ راہول یادو نے بتایا کہ ہر راؤنڈ کے مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کو اعداد و شمار بتانے کے بعد نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر حلقہ انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کے مرکز پر میڈیا پوائنٹ قائم کیا جائیگا اور رپورٹر کو بھی ووٹوں کی گنتی کے مرکز میں آنے کی اجازت حاصل رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کویڈ19 کے چلتے تمام افراد کو ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔ کویڈ ٹیسٹ کو دیکھ کر ہی داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
 
 
 

 راجوری میں ووٹوں کی گنتی کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی

سمت بھارگو

راجوری // ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات 2020 کی گنتی کے حوالے سے راجوری میںایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیر سنگھ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں حتمی شکل دی گئی۔میٹنگ کے دوران کاؤنٹنگ ہالز کے سامان ، سکیورٹی انتظامات ، مجسٹریٹ کی تقرری ، عملے کی نشاندہی ، کوویڈ 19 کے حفاظتی اقدامات کے انتظامات ، ٹریفک مینجمنٹ کے علاوہ مناسب گرمی / روشنی اور پینے کے پانی کی سہولیات کی دستیابی پر  بحث ہوئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقدہ ڈی ڈی سی انتخابات 2020 کے ووٹوں کی گنتی کا عمل 22 دسمبر 2020 کو صبح 9 بجے شروع ہو گا اور تکمیل تک جاری رہے گا ۔پی ڈی ڈی اور جل شکتی محکمہ جات سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامات پر بلا تعطل بجلی ، پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ متعلقہ افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ گنتی سے متعلق معلومات اور تفصیلات کے جامع اور درست باضابطہ کو یقینی بنائیں۔اے ڈی سی نے سیکورٹی کے وسیع انتظامات اور مقامات کی بیرکیڈنگ کی ہدایت کی تاکہ پر امن طریقے سے گنتی کا عمل مکمل کیا جاسکے۔اجلاس میں ضلع کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔
 
 
 

محکمہ جنگلات کے اہلکار | فاریسٹ رائٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کررہے ہیں: انقلابی 

جموں // سیاسی وسماجی کارکن فاروق انقلابی نے محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکاروں پر الزام عائد کیا اور کہا کہ کچھ اہلکار ضلع راجوری کی تحصیل خواص کے بھیلہ ، کیری اور کیول گائوں میں جنگلات میں رہنے والے لوگوں کو جان بوجھ کر ہراساں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگل حقوق ایکٹ (ایف آر اے 2006) بھی شیڈول ٹرائب اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والے لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ انکے زیر قبضہ اراضی پر قابض رہیں گے۔ جس میں جنگلات کے حقوق اور قبضہ جنگلات کے رہائشی شیڈول ٹرائب (FDST) اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والے (OTFD) میں رہائش پذیر ہیں۔ فاروق انقلابی نے کہا کہ یہ ایکٹ پائیدار استعمال ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جنگل کے باشندوں کے ماحولیاتی توازن کی دیکھ بھال کیلئے ذمہ داریاں اور اختیارات کا بھی تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت جموں و کشمیر کے جنگل میں باشندوں کو یہ تمام حقوق دینے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں گوجر ، بکر وال  ، پہاڑی ، ڈوگرہ، چوپان اور کشمیری بولنے والے لوگ شامل ہیں جو جنگل کے آس پاس ہیں لیکن دوسری طرف جنگل کے کچھ رہائشیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجوری اور پونچھ کے کچھ علاقوں میں اس سے قبل بھی غریب لوگوں کی جھونپڑیوں (کوٹھوں) کو مسمار کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کاروائی جنگلات کے حقوق ایکٹ (ایف آر اے 2006) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فاروق انقلابی نے کہا کہ اگر محکمہ جنگلات کے ملازمین کا رویہ نہیں بدلا تو وہ جنگلات میں مقیم بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیں گے۔ عبدل رشید پسوال کی قیادت میں آج مختلف گائوں سے آئے ایک وفد نے بھی فاروق انقلابی سے ملاقات کی اور انہیں محکمہ جنگلات کے ملازمین کی جانب سے آرہی مشکلات بارے جانکاری دی۔
 
 
 

 سائنس اسٹریم متعارف کرانے کی تعریف 

محمد بشارت
بدھل // جی ڈی سی بدھل کے پرنسل کی طرف سے کالج میں سائنس اسٹریم متعارف کرنے پر مقامی لوگوں نے انہیں مبارک باد پیش کی ہے ۔ متعدد افراد نے جی ڈی سی بدھل کے پرنسپل ڈاکٹر مزمل حسین سے ملاقات کی اور سائنس کے سلسلے کو متعارف کرانے پر ان کی تعریف کی۔ جی ڈی سی بوھل کا قیام سال 2008 میں عمل میں لایا گیا تھا اور تب سے اس علاقے کے رہائشیوں نے کالج میں سائنس اسٹریم کے مضامین کا مطالبہ کیا تھا۔ کالج میں سائنس اسٹریم کی عدم فراہمی کی وجہ سے ، خواہشمند طلباء نے جی ڈی سی راجوری اور جی ڈی سی ریاسی سے بی ایس سی کی اور یہ کالج بدھل ٹاؤن سے بہت دور ہیں۔ پرنسپل جی ڈی سی بدھل نے سائنس کے شعبہ کو متعارف کرانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے بچوں کو یہ مضامین پڑھنے میں دوسری کالجوں میں نہیں جانا پڑے گا ۔
 
 
 

ووٹر فہرستوں سے نام غائب   

 بدھل /محمد بشارت  /ڈی ڈی سی انتخابات کے 8 ویں مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب ووٹر فہرستوں میں دھاندلیوں اور ہیرا پھیری کا انکشاف ہوا ہے ۔بلاک موگلہ کے پنچایتی حلقہ گنڈی وارڈ نمبر 5 میں 20 کے قریب ووٹران کے نام فہرست سے غائب تھے۔ وہیں کوٹرنکہ کے لوگوں نے بھی الزام لگایا کہ حالیہ اس سے قبل جو بھی انتخابات ہوئے ان میں ان کا نام فہرستوں میں درج تھا لیکن ڈی ڈی سی اور ضلمنی پنچایتی انتخابات میں انہیں اپنے نام فہرستوں میں نہیں ملے۔ لوگوں نے مانگ کی ہے کہ اس کی تحقیقات ہونے چاہئے کہ آخر کار ان کے نام ووٹر فہرستوں سے کیوں غائب ہیں ۔ 
 
 
 

مینڈھر کے 2پولنگ مراکز | این سی کا دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ  

جاوید اقبال
مینڈھر// ہفتہ کو ہونے والے آٹھویں مرحلے کے انتخابات کے دوران مینڈھر حلقہ کے سلواہ میں پولنگ بوتھ پر قبضہ اور مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے 2پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔عوامی اتحاد برائے گپکار کے ڈی ڈی سی اُمیدوار مینڈھر ذیشان رانا نے اس تعلق سے علاقے میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے 2پولنگ بوتھوں پر دوبارہ سے پولنگ کرائی جائے کیونکہ کے وہاں دھاندلیاں ہوئی ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حلقہ سے آزاد اُمیدوار کے حامیوں نے سلواہ کے علاقہ میں دو پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کیا تھا اور وہاں اپنے حق میں ووٹ ڈالے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے ہم نے ضلع انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو سکی، تاہم انہوں نے دوبارہ سے سلواہ کے دو پولنگ اسٹیشنوں پر انتخاب کا مطالبہ کیا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنے حامیوں کی بھی تعریف کی اور اُن لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا تھا ۔
 
 
 

درہال کے 10مراکز پر جعلی ووٹنگ کا الزام |   این سی اور کانفرنس کا وفد انتظامیہ سے ملاقی

 راجوری /سمیت بھارگو//این سی اور کانگریس نے درہال کے 10پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ڈی ڈی سی حلقہ کے دس پولنگ اسٹیشنوں پر بوتھ پر قبضہ کرنے اور جعلی ووٹنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگرنس اور این سی نے وہاں دوبارہ سے پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے پرویز رشید مرزا کی سربراہی میں این سی اور کانگریس کے وفد نے راجوری میں ضلعی انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ درہال اور آس پاس کے دس بوتھوں پر بی جے پی کے حامیوں نے قبضہ کر کے وہاں جعلی ووٹ کاسٹ کئے ہیں ۔انہوں نے ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ووٹنگ اور بوتھ پر قبضہ ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس کافی ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ان دس حلقوں میں پولنگ نہ ہوئی تو ہم 22تاریخ کو گنتی کی اجازت نہیں دیں گے ۔
 
 
 

مینڈھر کے 2پولنگ مراکز | این سی کا دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ  

جاوید اقبال
مینڈھر// ہفتہ کو ہونے والے آٹھویں مرحلے کے انتخابات کے دوران مینڈھر حلقہ کے سلواہ میں پولنگ بوتھ پر قبضہ اور مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے 2پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔عوامی اتحاد برائے گپکار کے ڈی ڈی سی اُمیدوار مینڈھر ذیشان رانا نے اس تعلق سے علاقے میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے 2پولنگ بوتھوں پر دوبارہ سے پولنگ کرائی جائے کیونکہ کے وہاں دھاندلیاں ہوئی ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حلقہ سے آزاد اُمیدوار کے حامیوں نے سلواہ کے علاقہ میں دو پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کیا تھا اور وہاں اپنے حق میں ووٹ ڈالے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے ہم نے ضلع انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو سکی، تاہم انہوں نے دوبارہ سے سلواہ کے دو پولنگ اسٹیشنوں پر انتخاب کا مطالبہ کیا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنے حامیوں کی بھی تعریف کی اور اُن لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا تھا ۔
 
 
 

نئے مضامین کی فہرست میںفارسی نظر انداز  ڈگری یافتگان کا اظہار برہمی

پونچھ/حسین محتشم/جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ہائرسیکنڈری کی سطح پر نئے مضامین کی فہرست میں فارسی زبان کو نظر انداز کیا گیا ہے ،جس کو لیکر اس زبان میں ڈگریاں حاصل کر چکے بے روزگار نوجوان برہمی کا اظہار کر رہے ہیں ۔پونچھ کی تحصیل مینڈھر کے گورسائی سے تعلق رکھنے والے ریسرچ اسکالرسید کوثر علی جعفری نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف سماجی اور سیاسی عوامل میں فارسی زبان اور ادب کا کلیدی کردار رہا ہے اور یہ ہندوستانی اشرافیہ کی ترجیحی زبان تھی ۔انہوں نے کہا کہ فارسی زبان اس ملک کی آج کی ہندی اور اردو زبانوں کی ماں ہے۔ اس زبان نے بلاشبہ ہندوستان میں صدیوں سے امن ، قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں صوفیوں اور عظیم اولیاء نے اسی زبان میں تبلیغ دین کی جس کا ثبوت یہاںثقافتی اور آرکیٹیکچرل ورثہ ، شاندار فن اور دستکاری کو دیکھ کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دوسری ریاستیوں میں مختلف یونیورسٹیوں نے فارسی میں آنرز کورسز ، پی جی اور پی ایچ ڈی کیلئے طلباء کے خصوصی داخلے لئے ہیں ان طلبہ کا اندراج نہ صرف مسلمانوں تک محدود ہے بلکہ ملک کے بڑے عقائد خصوصا ہندو، سکھ اور عیسائی طلبہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا،بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں و کشمیر میں ہائر سیکنڈری سطح پر اس نصاب کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے لفٹینٹ گورنر اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فارسی زبان کو ہائر سکنڈری کی سطح پر بھی متعارف کرایا جائے تاکہ طلباء اور ریسرچ اسکالرز کا مستقبل خراب نہ ہواور جو لوگ اس زبان میں بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر کے بے روزگار بیٹھے ہیں ان کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔
 
 
 

اپنی پارٹی نے جموں رورل کیلئے 4ایس سی، او بی سی عہدیداران کا اعلان کیا | ہماری جماعت سماج کے کمزور طبقہ جات کی فلاح وبہبودی کی وعدہ بند:حسن میر

جموں//اپنی پارٹی نے ضلع جموں رورل کے لئے دیگر پسماندہ طبقہ جات(او بی سی) اور شیڈیول کاسٹ(ایس سی)کے چار عہدیداران نامزد کئے ہیں۔ پریس بیان کے مطابق او بی سی ریاستی کارڈی نیٹر مدن چلوترہ اور ایس سی کارڈی نیٹر بودھ راج بھگت نے گاندھی نگردفتر پر منعقدہ ایک میٹنگ میں سنیئر نائب صدر غلام حسن میر ، جنرل سیکریٹری وجے بقایہ، صوبائی صدر منجیت سنگھ، صوبائی صدر خواتین ونگ نمرتبہ شرما اور دیگر لیڈران کی موجودگی ضلع جموں رورل کے لئے چار عہدیدران کی تعیناتی کا اعلان کیا۔ ست پال ورما کو او بی سی ضلع صدر جموں دیہات جبکہ کلدیپ راج گپتا کا نائب صدر مقرر کیاگیاہے۔ سنیل کمار بھگت کو ایس سی ضلع صدر جموں رورل اور اجے رانا کو ضلع جنرل سیکریٹری ایس سی جموں دیہات بنایاگیاہے۔ اس موقع پر بولتے ہوئے سنیئر نائب صدر اور سابقہ وزیر غلام حسن میر نے نئے دفتری عہدیداران کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وہ اپنے اپنے طبقہ جات کی بہتری کے لئے خدمات انجام دیں گے۔ میر نے کہا’’ اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں او بی سی اور ایس سی طبقہ جات کی بہتری کی وعدہ بند ہے اور اُن کی فلاح کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ دونوں طبقہ جات کو سابقہ حکومتوں نے نظر انداز کیا اور انہیں حقیقی معنوں میں نمائندگی کی ضرورت ہے تاکہ اُن کی دہائیوں پرانی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں او بی سی طبقہ جات کو 27فیصد ریزرویشن حاصل ہے جس کو جموں وکشمیر میں بھی لاگو کیاجانا چاہئے۔ تعلیم اور نوکریوں میں اِنہیں نمائندگی دینے سے دبے کچلے طبقہ کو بھی اپنے بچوں کو بہتر تعلیم فراہم ہوں گے۔ تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے سابقہ ایم ایل سی اور اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وجے بقایہ نے اپنی پارٹی او بی سی اور ایس سی سیل کو مضبوط بنانے کے لئے اوبی سی اسٹیٹ کارڈی نیٹر چلوترہ اور اسٹیٹ ایس سی کارڈی نیٹر بودھ راج گپتا کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے ایس سی برادری کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ سابقہ وزیر اور صوبائی صدر منجیت سنگھ نے کہاکہ او بی سی طبقہ جات کے لوگ زیادہ تر سرحدی علاقہ جات میں رہائش پذیر ہیں جنہیں حکومتی توجہ درکار ہے۔اس موقع پر اپنی پارٹی لیڈران سابقہ ایم ایل اے فقیر ناتھ، پارٹی کارڈی نیٹر جموں سینٹرل پرنو شگوترہ، وجندر سنگھ دتا، ابہے بقایہ، گورو کپور، شنکر سنگھ چب، سابقہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نرمل کوتوال، اعجاز کاظمی، سلیم چوہدری، سردیش رانا، سنجے دھر، جوگیندر سنگھ، وائی بہو مٹو، ونود پنڈیتہ، ویشال زوتشی، جے پی سنگھ، راج کمار للوترہ، ایڈووکیٹ تیجندر سنگھ، جنمیت بالی، وپل بالی، گوہر رشید وانی، اشرف چوہدری، پشپ دیو اپل ، یشپال بھی موجود تھے۔
 
 

جناب زینب سلام اللہ علیھا کا جشن ولادت باسعادت

پونچھ/حسین محتشم/کربلا کی شیر دل خاتون ثانی زہرا زینب کبری سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں محفل میلاد منعقد ہوئی ۔محفل کے د وران قصیدہ خوانی اور جشن کا شاندار اہتمام کیا گیا ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں عاشقان اہل بیت عصمت و طہارت شریک ہوئے۔ محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس موقع پر مدح خواں  اہل بیت نے جناب زینب سلام اللہ علیھا کے حضور میں نذرانہ عقیدت پیش کیا جبکہ ذاکرین اور علماء نے ثانی زہرا کے فضائل و مناقب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی- اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں حجۃ الاسلام مولانا کرار حسین جعفری نے دین اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون کو انسانوں کیلئے ایک مکمل نمونہ قرار دیا۔
 
 
 

بزرگ عالمِ دین مولانا قاری نور حسین کا انتقال 

تھنہ منڈی //تھنہ منڈی کے گاؤں بھنگائی کے رہنے والے بزرگ عالمِ دین مولانا قاری نور حسین  گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ مرحوم پچھلے تقریبا ایک برس سے علیل تھے ۔مرحوم کو آبائی گاؤں بھنگائی میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا ،جن میں بڑی تعداد میں علماء و حفاظ بھی شریک تھے۔ مولانا مرحوم کی وفات کو علمی و دینی خسارہ قرار دیا گیا ۔ مہتمم مدرس التوحید جامع مسجد تھنہ منڈی مفتی عبدالرحیم ضیائی قاسمی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بلند پایہ عالم با عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بافیض علمی شخصیت کے مالک تھے ۔یاد رہے کہ 90 کی دہائی میں مولانا نے مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی میں بھی کئی برس تک علمی خدمات انجام دیں اس کے بعد قریب بیس سال تک سرینگر میں بحیثیت امام و خطیب نمایاں خدمات دیتے ہوئے اخری عمر میں آبائی گاؤں میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا۔ 
 
 
 

بلاک پیڑی کے صارفین بجلی کی کٹوتی سے پریشان 

محمد بشارت
 بدھل // شدت کی سردی کے دوران بلاک پیڑی کے متعداد علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے عوام کو سخت ترین مشکلات سے دوچار ہیں ۔پنچایت حلقہ سوکڑ کے سرپنچ شبیر گورسی نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرما شروع ہوتے ہی یہاں بجلی اکثر وبیشتر غائب رہتی ہے جس سے سبب لوگوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔محکمہ بجلی کے خلاف سراپا احتجاج لوگوں نے کہا کہ وہ بجلی محکمہ کو ماہانہ بجلی کی بلیں ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی انہیں شیڈول کے مطابق بجلی فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے بجلی فیس میں بھی اضافہ کیا ہے لیکن لوگوں کو معقول بجلی سپلائی فراہم کرنے میں محکمہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سوکڑ ، پنہیڈ،  چمبی، تراڑ میںبجلی کا ترسیلی نظام بھی بہتر نہیں ہے کیونکہ معمولی ہوا چلنے سے ہی بجلی کئی کئی دنوں تک غائب ہو جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوے کہا کہ موسم سرما کے دوران بجلی کے نظام کو ٹھیک کیا جاے تا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
 
 

اپر پوٹھا سیداں اور محلہ گجراں گھپ اندھیرے میں

بختیار حسین
سرنکوٹ// اپر پوٹھا م سیداں و محلہ گجراں ورڈ نمبر 6 کی عوام پچھلے پندرہ دنوں سے بجلی کی سپلائی سے محروم ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی ان علاقوں کے بجلی ٹرانسفارمروں کو ٹھیک کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ 15 دن پہلے ان کا بجلی ٹرانسفارمر خراب ہوتا ہے پھر اس کو مرمت کیلئے ورکشاپ پہنچایا گیا  لیکن اس کی مرمت نہیں ہو پائی ہے۔مقامی سرپنچ اپر پوٹھا نے بتایا کہ پندرہ دن گزر گئے وارڈ  نمبر 6 میں کوئی بجلی نہیں ہے۔