ڈی ایس پی کی ہلاکت کا معاملہ،پریس کالونی میں احتجاج

سرینگر//شب قدرکی رات جامع مسجد سرینگرمیں ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کی مارپیٹ سے موت واقع ہونے کے معاملے میں گرفتار صفاکدل کے مبشر احمد بٹ ولد نذیر احمد بٹ کے لواحقین نے جمعرات کو پریس کالونی میں احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام لگایاکہ پولیس جان بوجھ کر اس کیس میں انکے بیٹے کو پھنسانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ15دنوں میں پولیس انکے خلاف کوئی بھی ثبوت جمع کرنے میں ناکام رہی ہے اور پولیس نے اب زبردستی قتل کی اس واردات کو قبول کروانے کیلئے مذکورہ نوجوان کو مزید 10دنوں کی ریمانڈ میں لیا۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ پولیس زخمی نوجوان کو طبی امداد بھی فراہم نہیں کررہی ہے۔مذکورہ نوجوان کی بھابی شاہینہ نے بتایا کہ’’ پولیس نے میرے سسر کو کافی تک کیااور سکہ ڈافرکے محلہ صدر نے از خود مبشر کو پولیس اسٹیشن صفاکدل کے حوالے کیا تاہم پولیس اسٹیشن صفاکدل نے مبشر کو پولیس اسٹیشن نوہٹہ کے حوالے کردیا ۔ شاہینہ نے بتایا کہ پہلے تو دس دنوں تک مبشر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تاہم جب مبشر سے پولیس اسٹیشن نوہٹہ میں ملاقات کی اجازت دی گئی تو اسکے پائوں کے زخموں میں پس جمع ہوگیا تھا ۔ شاہینہ نے بتایا کہ جب ہم نے پولیس کو اس کا علاج و معالجہ کرانے کی درخواست کی تاہم پولیس نے اس کاعلاج کرانے سے انکار کیا ۔ شاہینہ نے بتایا کہ پہلے 15دنوں کی ریمانڈ کے دوران جب پولیس مبشر کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی تو پولیس نے عدالت سے مبشر کیلئے مزید 10دنوں کی ریمانڈ لی ہے تاکہ اس سے زبردستی یہ بات قبول کرائی جائے ۔ مبشر کی والدہ شمیمہ نے بتایا کہ مبشر بنگلور میں ایک نجی کمپنی میں بطور سیلز مین کام کرتا ہے اور چند دنوں قبل ہی عید کے سلسلے میں گھر آیا تھا ۔ شمیمہ نے بتایا کہ وہ شب قدر کے دن جامع مسجد میں شب بیداری کرنے گیا تھا جبکہ اسکے دوسرے دن 10بجے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ زخمی ہوا ہے۔ شمیمہ نے بتایا کہ مبشر ڈی ایس پی کے ساتھ مار پیٹ کے وقت کافی دور تھا کیونکہ اسکے پیر میں گولی کافی دور سے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبشر کے پیر میں جو گولی لگی تھی وہ گولی 3گھنٹے تک اسکے پائوں میں رہی اور اسکے بائوجود بھی ڈاکٹر اس کا پیر بچانے میں کامیاب ہوئے ۔ شمیمہ نے بتایا کہ اگر مبشر مارپیٹ کے وقت وہاں ہوتا تو اسکو کافی نزدیک سے گولی لگی ہوتی اور گولی اسکے پیر کے بیچوں بیچ سے ہوکر نکل گئی ہوتی۔ احتجاجیوں نے ریاستی پولیس کے سربراہ اور ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی ہے کہ وہ کیس میں ازخود مداخلت کرنے کے بے گناہ مبشر کو رہا کرائے۔