ڈی ایس پی پنڈت کی زیر چوب ہلاکت

سرینگر//پولیس افسر کو جامع مسجد سرینگر کے باہر زیر چوب ہلاک کرنے کے ملزم20افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس کے صوبائی سربراہ منیر احمدخان نے کہا کہ دیگر ملوثین کی تلاش جاری ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات صحیح سمت میں جا رہی ہے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر شب قدر کو پولیس کی سیکورٹی ونگ سے وابستہ ایک افسر ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کو مشتعل بھیڑ کی طرف سے زیر چوب ہلاک کرنے میں مبینہ طور پر ملوث20افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر منیر احمد خان نے بتایا ’’اس واقعے میں ملوث20افراد کو اب تک حراست میں لیا جاچکا ہے،جن میں سے ایک سجاد احمد گلکار ولد نذیر احمد ساکنہ پاندان نوہٹہ12جولائی کو ریڈ بگ بڈگام میں ہوئے تصادم آرائی میں جان بحق ہوا‘‘۔انہوں نے کہا کہ سجاد گلکار سنگبازی کے علاوہ چھرا زنی والے کیسوں میں بھی ملوث تھا۔پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جرم میں ملوث دیگر افراد کی نشاندہی اور تلاش جاری ہے،جبکہ دیگر ثبوتوں اور شہادتوں کی حصولیابی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔منیر احمدخان نے کہا کہ اس کیس سے متعلق تحقیقات سرعت سے جاری ہے،اور مزید کچھ گرفتاریاں متوقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کومقررہ وقت کے دوران عدلیہ کے سپرد کیا جائے گا۔ منیر احمد خان نے بتایا’’ اس واقعے میں عوام کی طرف سے اچھا ردعمل سامنے آیا اور چشم دید گواہ رضاکارانہ طور پر سامنے آئے اور حملہ آواروں کو تحقیقات کیلئے پیش کرنے میں پہل کی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس سے متعلق بیانات کو قلمبند کیا گیا،جس سے تحقیقات کی پیش رفت میں کافی مدد ملی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں اس واقعے کے سرغنہ کی نشاندہی کی گئی،اور اس کو حراست میں لیا گیا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ مجرم کی طرف سے انکشافات کے بعد حملہ میں استعمال کیا گیا ہتھیاربشمول آہنی سلاخ،شناختی کارڑ،سروس پستول اور مقتول پولیس افسر کا موبائل فون برآمد کیا گیا۔پولیس کے صوبائی کمشنر نے کہا کہ ابتدائی طور پر4مجرموں کو گرفتار کیا گیا،جس کے بعد دیگر گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ حملے سے متعلق تفصیلات فرہم کرتے ہوئے آئی جی کشمیر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آواروں نے جب یہ دیکھا کہ پولیس افسر جامع مسجد سرینگر کے باہر تعینات اہلکاروں کی پڑتال کر رہے تھے،اور جب وہ باہر آئے تو انہیں شرپسندوں نے پکارا۔آئی جی کشمیر کے مطابق اس دوران دیگر شرپسند بھی جمع ہوئے،اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔انہوں نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ پولیس افسر نے دفاع میں سروس پستول سے گولیاں چلائی،جس سے3حملہ آوار زخمی ہوئے،تاہم مشتعل ہجوم نے انہیں مارنے کا سلسلہ جاری رکھا اور وہ زیر چوب جان بحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں کئی چشم دید گواہوں نے اپنا بیان بھی قلمبند کرایا۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پولیس افسر کے سر اور چہرے کے علاوہ حساس حصوں میں گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی۔