ڈینگی میں پچھلے سال کے مقابلے پانچ گناکمی ، امسال محض 62 افراد کو متاثر پایا :ڈائریکٹرہیلتھ سروسز

جموں // ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ڈاکٹر چندر پرکاش کا کہنا ہے کہ خطہ میں ڈینگی کے مرض پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017 کے 307 مثبت کیسوں کے مقابلے میں امسال اب تک صرف 62 افراد کو ڈینگی سے متاثر پایا گیا ہے۔ ڈاکٹر چندر پرکاش نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے صوبہ جموں میں ڈینگی پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ صوبہ میں پچھلے سال 307 کیسوں کو مثبت پایا گیا تھا۔ تاہم اس سال مثبت پائے جانے والے کیسوں کی تعداد محض 62 ہے۔ ان میں پانچ گنا کمی دیکھی گئی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز ضلع جموں سے سامنے آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں آبادی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کچی آبادی والے علاقوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر ضلع کٹھوعہ جبکہ تیسرے نمبر پر ضلع سانبہ ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جموں سے سب سے زیادہ 32 کیسز سامنے آئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ضلع کٹھوعہ ہے جہاں سے 15 کیس سامنے آئے ہیں۔ تیسرے نمبر پر ضلع سانبہ ہے جہاں سے 7 کیس سامنے آئے ہیں۔ باقی سب اضلاع میں ایک ایک کیس کو مثبت پایا گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’مثبت پائے جانے والے کیسوں میں سے ایک کشمیر کا بھی تھا۔ ایک سی آر پی ایف اہلکار وہاں (کشمیر میں) تعینات تھا۔ جب وہ چھٹی پر گھر آیا تو اسے بخار ہوا، جب وہ یہاں علاج کرانے کے لئے آیا تو اسے ڈینگی سے متاثر پایا گیا۔ 9 متاثرہ افراد ایسے تھے جن کا تعلق دوسری ریاستوں سے تھا‘۔ ڈاکٹر پرکاش نے کہا کہ خطہ جموں میں اس مرض پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اگر ہم اس سال سامنے آنے والے کیسوں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس بیماری پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب حاصل کی ہے۔ اس میں میڈیا، این جی اووز، جموں میونسپلٹی ، ہیلتھ ایجوکیشن کے اداروں اور محکمہ ایجوکیشن نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان محکموں اور اداروں کی مدد سے لوگ باخبر ہوگئے ہیں کہ ڈینگی کیسے ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ گھر کے آگے پیچھے پانی کو اکٹھا نہیں ہونے دینا ہے۔ ڈینگی سے بچنے کے لئے سارے جسم کو ڈھکنے والے کپڑے پہننے چاہیے۔ ڈینگو کا مچھر دن کے وقت کاٹتا ہے۔ سردیاں شروع ہونے کے ساتھ اس بیماری کا خطرہ خود بہ خود ختم ہوگا‘۔ یو اےن آئی