ڈھکوں میں خانہ بدوش بکروالوں پر فورسز کی زیادتیاں

 بانڈی پورہ //خانہ بدوش بکروال طبقہ نے اس بات کا الزام لگایا ہے کہ بانڈی پورہ اور گاندربل کے ڈھکوں میں فورسز نے ان پر قہرڈھایا ہے اور فی کنبہ دو دو بھیڑ اور دس ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ضلع حکام بانڈی پورہ نے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے گریز پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ کے دفتر پر آئے خانہ بدوش بکروالوں کے وفد نے بتایا ہے کہ گاندربل کی ڈھوکوں گاڈسر، جگنئی،جبڈور،وشن سر ، مسجد ناڑ وغیرہ میں موسم گرما میں بھیڑ بکریوں کو لے کر جانے والے بکروالوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ کارروائیاں کی گئیں۔ خانہ بدوشوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ علاجات تمام تر مواصلاتی نظام سے مکمل منقطع ہونے کی وجہ سے ان پر زیادتیاں کی جارہی ہیں اور اسی بات کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔خانہ بدوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے محمد گلزار جوگی، سرفراز بجران، مقصود سیال، آمین جنگل، اسحاق جنگل کے علاوہ درجنوں لوگوں نے بتایا کہ ایک فوجی یونٹ کے آفیسرنے ڈھوکوں میں لوگوں پہ غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھی ہے حد تو تب ہوئی جب ڈھوکوں سے کوچ کرنے پر انہیں یرغمال بنا یا گیا اور فی کنبہ دو دو بھیڑ اور بیس ہزار روپے دے کر کوچ کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔متاثرین کے مطابق دوران یرغمال بزگوں، عورتوں، اور بچوں کو شدید سردی کے دوران کئی راتیں کھلے آسماں تلے گزانے پر مجبور کیا گیا اور بالآخر فی کنبہ دس ہزار روپے اور ایک ایک بھیڑ وصولنے کے بعد ہی مزکورہ آفیسر نے غریب خانہ بدوشوں کو جانے دیا۔خانہ بدوش بکروالوں کا وفد ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ شاہد اقبال چوہدری کے دفتر پہنچا لیکن وہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر محمد قاسم وانی سے ملے۔ انہوں نے تحریری طور پر ایس ایس پی بانڈی پورہ شیخ  ذوالفقار آزاد کو آگاہ کیا ۔ ایس پی بانڈی پورہ نے ایس ایچ او تلیل گریزکو ہدایت دی ہے کہ فوری طور کارروائی کریں۔