ڈوگراں ۔پشانہ سڑک 32 سال سے تشنہ ٔ تکمیل

سرنکوٹ// سرکار کی جانب سے گائوں گائوں سڑک پہنچائے جانے کے دعوئوں کی تب نفی ہوجاتی ہے جب دورافتادہ اور پہاڑی علاقوں پر نظر پڑتی ہے ۔اس کی مثال ڈوگراں پو شانہ سڑک ہے جو پچھلے بتیس سال سے تشنہ ٔ تکمیل ہے ۔ڈوگراں اور پوشانہ میں بہت بڑی آبادی آباد ہے جسے سڑک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات کاسامناہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ڈوگراں و پوشانہ سڑک کا کام بتیس سال پہلے شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ بتیس سال میں یہ سڑک کئی محکموں اور ایجنسیوں کے تحت آئی اور اب پچھلے پانچ برسوں سے یہ کام پی ایم جی ایس وائی کے ذمہ ہے لیکن ابھی تک محض پانچ کلو میٹر سڑک پر کٹائی کا کام کیا گیا ہے اور متعلقہ محکمہ کے کام کرنے کی رفتار نہایت ہی آہستہ ہے۔لوگوں نے کہا کہ اس آٹھ کلو میٹر سڑک کے کام کو مکمل کرنے میں حکام کی طرف سے انتہائی درجہ کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجارہاہے جس سے لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔لوگوں نے کہا کہ سڑک کی سہولت دستیاب نہ ہونے سے کئی مریضوں کی جانیں جاچکی ہیں اور مریضوں کو کندھے پر اٹھاکر چندی مڑھ لیجاناپڑتاہے ۔مقامی سرپنچ کرامت حسین نے بتایا کہ ڈوگراں اور پوشانہ علاقے جو آٹھ پنچایتوں پر مشتمل ہیں،میں سڑک کا نہ ہونا حکام کے منہ پر بدنما داغ ہے ۔انہوں نے ضلع انتظامیہ اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر پونچھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ہدایات جاری کرکے اس سڑک کی تکمیل کی جائے تاکہ ہزاروں کی آبادی کو فائدہ پہنچ سکے۔