ڈوڈہ کے سرکاری سکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حال | بیشتر اداروں میں کھیل میدان، پانی و بیت الخلاء نایاب،لوگ ایل جی سے فریادی

ڈوڈہ //دس تعلیمی زون پر مشتمل ڈوڈہ ضلع کے جہاں سینکڑوں سرکاری اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے وہیں درجنوں عمارتیں خستہ حال ہونے کی وجہ سے غیر محفوظ بن چکی ہیں اور بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ بیشتر مقامات پر خستہ حال عمارتوں میں ہی بچوں کو بٹھایا جاتا ہے۔اعلیٰ حکام کی عدم توجہی و تعمیراتی ایجنسیوں کی ناقص کارکردگی پر سیول سوسائٹی ممبران نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار ایس ایس اے،سمگرا و دیگر اسکیموں پر کروڑوں روپے واگذار کرتی ہے تو دوسری طرف زمینی سطح ان اسکیموں کی کارکردگی صفر کے برابر دکھائی دیتی ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے تعلیمی زون بھٹیاس، بھلیسہ ،ٹھاٹھری ،بھدرواہ ،گھٹ ،بھاگواہ سے مقامی لوگوں نے کہا کہ مڈل و پرائمری اسکولوں میں جہاں کھیل میدان و بیت الخلاء و پینے کے پانی کی کمی پائی جاتی ہے وہیں تعمیراتی ایجنسی کی ناقص کارکردگی سے درجنوں عمارتیں ناقابل استعمال بن چکی ہیں۔سکولوں کی ناگفتہ حالت پر گذشتہ دنوں متعدد مقامات پر سکولی بچوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کئے۔کاہرہ سے نوجوان سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے کہا کہ جوڑا، ہلارن، ملانوں ،ٹانٹا ،گوئلہ میں قائم بیشتر سرکاری سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہوئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی عدم توجہی کی وجہ سے تعمیراتی ایجنسیاں سکولوں کی تعمیر میں غیر معیاری مواد کا استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ ہی دنوں میں عمارت ناقابل استعمال بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 سے شروع زلزلوں کے جھٹکوں سے بھی سب سے زیادہ نقصان سرکاری سکولوں کی عمارتوں کو پہنچا تھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عمارتیں کس قدر محفوظ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکار نے ہرسکول میں پانی، بجلی و بیت الخلاء کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے لاکھوں روپے واگذار کئے لیکن زمینی سطح پر بہت کم ان کا استعمال کیا گیا۔ڈی ڈی سی ممبر معراج الدین ملک نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کی خستہ حالی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن زمینی حقائق سے ناواقف ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو لے کر حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر کے گریونس سیل میں ایک یادداشت پیش کی ہے اور امید ہے کہ ایل جی انتظامیہ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری سکولوں کی تعمیر ایک مخصوص ایجنسی کی زیرنگرانی عمل میں لائی جائے تاکہ بہتر و معیاری تعلیم حاصل کرنے میں غریب بچوں کو آسانی مل سکے۔