ڈوڈہ ،ٹھاٹھری ،گندوہ و بونجواہ کے اہم مقامات حکام کی نظروں سے اوجھل

ڈوڈہ //مرکزی حکومت و یوٹی انتظامیہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کئی مؤثر اقدامات اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ڈوڈہ ضلع کے کئی ایسے درجنوں خوبصورت و دلکش مقامات آج بھی حکام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔سیول سوسائٹی نے حکام کی بے رخی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ، ٹھاٹھری، گندوہ بھلیسہ ،بونجواہ کے اہم مقامات کو آج تک سیاحتی نقشہ پر لانے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے۔ڈوڈہ کا لال درمن، ڈل درمن، ٹھاٹھری میں جنترون دھار ،بونجواہ کا دیوی گول بھلیسہ میں بھال پدری،گاشر برمی، لاکھن ،میہاڈ،کانٹھی ،سوئی بیگار کا شکار ڈوڈہ ضلع کے خوبصورت و اہم سیاحتی مقامات میں کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے بیشتر مقامات آج بھی سڑک رابطوں سے محروم ہیں۔چیئرمین ایجوکیشنل اینوائرمنٹل سوشل سپورٹس و کلچرل سوسائٹی محمد ایوب زرگر کے مطابق کسی بھی خطہ کی تعمیر و ترقی و بے روزگاری کے خاتمے کیلئے سیاحتی شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھدرواہ، بھلیسہ، بونجواہ، ٹھاٹھری کئی درجنوں اہم مقامات محکمہ سیاحت کی نظروں سے اوجھل ہیں. زرگر نے کہا کہ وادی چناب میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن یہاں کے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکومتی سطح پر کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دنوں بھلیسہ و دیگر مضافات کے کے اہم خوبصورتی مقامات کی مختصر ڈاکومنٹری تیار کی گئی تھی جس کا افتتاح مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندرا سنگھ نے وریچول میٹنگ کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے بھلیسہ ٹھاٹھری و بونجواہ کو الگ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تب تک ان علاقوں کی ترقی ممکن نہیں ہے۔سیاسی و سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ خطہ میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس علاقہ کو ہر سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں و مزدور پیشہ افراد کے لئے سیاحتی شعبہ کو فروغ دینا ایک بہترین طریقہ ہے مگر حکام زبانی دعوے زیادہ و عملی کام نا کے برابر کرتی ہے۔انہوں نے ڈوڈہ، بھلیسہ ٹھاٹھری کاہرہ کو علیحدہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملنے کے ساتھ ساتھ اہم و خوبصورت مقامات کو سیاحتی نقشہ پر لانے کا بھی موقع ملے گا۔