ڈونگی میں کالج اورراجوری میں زنانہ کالج دیا جائے:قمر

 جموں//رکن اسمبلی راجوری ایڈووکیٹ قمر حسین چوہدری نے ڈونگی میں ڈگری کالج کے قیام کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اس سرحدی علاقہ سے وابستہ طلاب کو میلوں کی مسافت طے کرکے راجوری یا نوشہرہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانا پڑتا ہے ۔وقفہ سوالات کے دوران انہوںنے کہاکہ یہ علاقہ پہاڑی اور دشوار گزار ہے اور راستے میں جنگلات ہیں جنہیں طلباء عبور کرکے تعلیمی اداروں تک پہنچتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ غربت ، گوناں گوںمسائل اور محدود وسائل کو دیکھتے ہوئے اس علاقے کو ڈگری کالج دیاجاناچاہئے ۔موصوف نے راجوری میں زنانہ کالج کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ایک الگ زنانہ کالج کی اشد ضرورت ہے ۔انہوں نے جموں یونیورسٹی میں عربی اور فارسی کے شعبہ جات نہ کھولے جانے پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کالجوں میں فارسی اورعربی مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پوسٹ گریجویٹ سطح پر ان مضامین میں داخلے کے خواہشمندطلباکو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔انہوںنے کہاکہ ریاسی،اودھم پور،کٹھوعہ،سانبہ ،رام بن،ڈوڈہ ،کشتواڑ، راجوری اورپونچھ اضلاع کے کالجوں میں انڈرگریجویٹ سطح پر فارسی اور عربی مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن جموں یونیورسٹی میں پی جی میں عربی اورفارسی کے شعبے ہی قائم نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ان شعبوںکے طلباء کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ۔ قمر حسین چوہدری نے خطہ پیرپنچال میں باالعموم اور راجوری ٰمیںباالخصوص کلسٹر یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے اس خطہ کے ساتھ سرا سر ناانصافی کی ہے اورجہاں جموں اور کشمیر میں دو کلسٹر یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے وہیں راجوری اور پونچھ سے ایک بھی کالج یونیورسٹی میں شامل نہ کیا گیاہے ۔