ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

  کشمیر پر ہند و پاک کے درمیان تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں: وزیر خارجہ

 
نئی دہلی // بھارت نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر امریکی صدر سے ثالثی کرنے کی کوئی درخواست کی گئی ۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے اس مطالبے پر کہ وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے،  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایسی کوئی بھی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کیساتھ سبھی حل طلب مسائل کو آپس میں ہی حل کیا جائیگا جس میں کسی بھی تیسرے فریق کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کیساتھ دوطرفہ رتعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن میں سرحد پار دہشت گردی سے کڑی روک لگانا شامل ہے۔اس سے قبل امریکی صدر کے کشمیر معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی سے متعلق بیان پر اپوزیشن پارٹیوں نے راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پوزیشن واضح کرنے کی مانگ کی جس کی وجہ سے وقفہ صفر اور سوالات نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے دوپہر 12 بجے جیسے ہی وقفہ سوالات کا اعلان کیاتو اپوزیشن پارٹیوںکانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بایاں محاذ کے رکن اپنی اپنی سیٹ سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی کرنے لگے ۔ بعد میں وہ ایوان کے وسط میں آکر نعرے لگانے لگے ۔ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان میں آئے اور بیان دے اس کااپوزیشن فیصلہ نہیں کرے گا۔ سوالات کا جواب دینا کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ ہری ونش نے ارکان سے اپنی سیٹ پر جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اہم ہوتا ہے اور اس پر حکومت کے بھاری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ارکان کا ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بیان دیا تھا۔ اس سے مطمئن نہ ہونے پر کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بایاں محاذ کے رکن اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کرنے لگے ۔ بعد میں ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔
 

 بھارتی رد عمل حیران کن: عمران خان

کشمیر حل ناگزیر، برصغیر70برسوں سے یرغمال

نیوز ڈیسک
 
    اسلام آباد//پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر کے بیان پر بھارتی رد عمل کو حیران کن قرار دیا ہے۔سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا ’’ کشمیر تنازعہ حل کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کو مذاکراتی میز پر لانے کی غرض سے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے جواب میں بھارتی ردعمل پر حیرت ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا’’اس مسئلے نے گزشتہ 70 سال سے برصغیر میں امن و استحکام کو یرغمال بنا رکھا ہے‘‘۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری گزشتہ کئی دہائیوں سے روزانہ کی بنیاد پرمظالم کا سامنا کررہے ہیں اور کشمیریوں کی کئی نسلیں متاثرہوچکی ہیں، اب یہ مسئلہ حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر کے آفس میں پریس کانفرنس کے دوران جب امریکی صدر نے ثالثی کی پیش کش کی بات کی تو عمران خان نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ ایسا کرکے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کروڑوں لوگ انہیں دعائیں دیں گے۔
 
 

امریکی ثالثی میں کوئی قباحت نہیں

ڈاکٹر فاروق اور محبوبہ مفتی کا ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندوستان اور پاکستان کودیرینہ مسئلہ حل کرنے میں مدد کی پیشکش کرتا ہے تو اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپنا رول نبھانے کیلئے کہا ہے تو یہ ایک خوش آئندہ امر ہے،میں وزیر اعظم مودی کو اس بات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ماضی میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان متعدد موقعوں پر کئی بار تیسرے ملک نے ثالثی کی ہے۔ ادھرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اجمیر شریف میںخواجہ محی الدین چستی  ؒ کی درگاہ پر حاضری دی۔ اُن کے ہمراہ محمد اکبر لون اور جسٹس حسنین مسعودی بھی تھے۔  ادھرمحبوبہ مفتی نے ٹرمپ کے بیان کو پالیسی شفٹ قرار دیا۔ محبوبہ مفتی نے ہندوستان اور پاکستان کی مملکتوں پر زور دیا کہ وہ موقعے کو غنیمت جان کر مفاہمت کے ذریعے امن کو فروغ دینے کی پہل کریں۔ محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کی طرف سے کشمیر پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی سے مسلسل انکار کرنے کے باوجود امریکی صدر کا بیان پالیسی شفٹ کا مظہر ہے، امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک اس بیان سے فائدہ اُٹھاکر مفاہمتی راستے کے ذریعے امن کو موقع فراہم کریں گے‘‘۔