ڈورو اور بیروہ میں ضلع کا درجہ دینے کی مانگ

 ڈورو//ڈورو شاہ آباد کو ضلع صدر درجہ دینے کے مطالبہ کو لے کر قصبہ کے تمام چھوٹی بڑی مساجد میں جمعہ کو پُر امن احتجاجی مطالبہ دہرایا گیا ۔جس میں ائمہ مساجد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تاریخی قصبہ کو ضلع صدر مقام بنانے کے حوالے سے احکامات صادرکرے۔قصبہ کے پائین یعنی کعبہ مرگ،لارکی پورہ ،شاہ آباد وسط کی تمام مساجد میں خاص کر خانقاہ فیض پناہ ڈورو اور شاہ آباد بالا کے ویری ناگ ،قمر،کپرن کی تمام مساجدمیں معاملہ کے متعلق مطالبہ پیش ہوا اور پُر زور الفاظ میں موجودہ سرکار سے استحقاق اور جائیز جوازیت کے ساتھ جغرافیائی ،تواریخی ،سیاسی اور تہذیبی و ادبی اعتبار کے لحاظ سے شاہ آباد آل پارٹیز جوائینٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے مطالبہ پیش کیا گیا ۔
 
 

نماز جمعہ کے بعد قصبہ میں جلوس برآمد

سرینگر// بیروہ کو ضلع کا درجہ دینے کیلئے نماز جمعہ کے بعد قصبے میں جلوس برآمد کیا گیا،جس میں سیول سوسائٹی،تاجروں اور دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ بڈگام کے بیروہ علاقے کو ضلع کا درجہ دینے کے مطالبے پر گزشتہ چند روز سے جاری مانگ کے بیچ جمعہ کو قصبے کی مرکزی جامع مسجد سے پرامن احتجاجی ریلی برآمد کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی میں شامل لوگ بیروہ کو قصبے کا درجہ دینے کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس ریلی کا انعقاد مقامی سیول سوسائٹی نے کیا تھا،جبکہ اس میں ٹریڈرس فیڈریشن کے علاوہ علاقائی ترقیاتی فیڈریشن کے زعمائے کرام نے بھی شرکت کی۔ریلی سے خورشید احمد بانڈے،مشتاق احمد،غلام حسن ملک اور ٹریڈرس فیڈریشن کے صدر ارشاد احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کو ضلع کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ پسماندہ ہے،اور ضلع کا درجہ دینے کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی عمل شروع ہوسکتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل حکومتوں اور انتظامیہ نے بیروہ تحصیل کو نذر انداز کیا ہے،اور یہ انکی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ بیروہ کو ضلع کا درجہ دیا جائے۔
 

ڈورو کا درجہ بڑھا مگر ہنوز بے سود،متعلقہ ایس ڈی ایم کوباضابطہ اختیارات تفویض نہیں ہوئے

ڈورو//عارف بلوچ//ڈورو شاہ آباد میں تعینات سب ڈسڑکٹ مجسٹریٹ گذشتہ ایک مہینے سے اختیارات کے بغیر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جس کے سبب مقامی لوگوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔نئی حد بندی کے ساتھ ہی ڈورو شاہ آباد تحصیل کا درجہ 57سال کے بعد ایس ڈی ایم تک بڑھایا گیا جس پر یہاں کے لوگوں نے حکومت کے فیصلے کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی تاہم نئی حدبندی کا فائدہ یہاں کے عوام کو کم ہی دیکھنے کو ملا ہے ،کیونکہ آئے روز افسران کے تبادلہ کے سبب ایس ڈی ایم آفس کے کام کاج پر منفی اثر پڑا ہے ۔گذشتہ مہینے ایک بار پھر ایس ڈی ایم کا تبادلہ عمل میں لایا گیا جس کے بعد نئے ایس ڈی ایم نے چارج سنبھالا تاہم ایک مہینہ گذر جانے کے بعد بھی نئے ایس ڈی ایم کو اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ،جس پر عوام میں حیرانگی پائی جارہی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مہینے سے پی آر سی سرٹفکیٹس و دیگر معاملات کے حوالے سے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں تاہم آفیسر مذکورہ کو اختیارات نہ ہونے کے سبب اُنہیں مایوس واپس گھر لوٹنا پڑتا ہے ۔اُنہوں نے حکومت سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔