ڈنہ شاہستار یونیورسٹی کیمپس کیلئے موزوں نہیں

سرنکوٹ //نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر و سابق وزیر سید مشتاق احمد شاہ بخاری نے حکومت کی طرف سے جموں یونیورسٹی کا کیمپس ڈنہ شاہستار میں قائم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے بھی موزوں جگہ جڑانوالی گلی ہے ۔ انہوںنے سرنکوٹ میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈنہ شاہستار یونیورسٹی کیمپس کیلئے کوئی مرکزی یا موزوں جگہ نہیں اور حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے اور یہ کیمپس جڑانوالی گلی میں قائم کیاجائے جو مینڈھر اور سرنکوٹ کے درمیان ایک مرکزی مقام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جڑانولی گلی میں جگہ بھی اچھی ہے اور یہ مرکزی مقام بھی ہے اس لئے حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ایک غیر آبا د جگہ میںیونیورسٹی کیمپس نہ بنایاجائے ۔ بخاری نے کہاکہ وہ اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے بھی رجوع کریںگے اور یہ معاملہ حکام سے اٹھایاجائے گا۔ اس موقعہ پر انہوںنے ریاست کے نئے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کو کٹھوعہ سے متعلق بیان پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ افسوسناک بات ہے کہ ایسے لوگ بھی وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچ گئے جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ کٹھوعہ واقعہ کس نوعیت کاہے جس نے قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ متاثر کی اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کو بھی اس میں مداخلت کرناپڑی جبکہ وزیر اعظم اور صدر ہند نے اس واقعہ پر برہمی کا اظہار کیا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس کا از خود نوٹس لیا ۔