ڈل جھیل کی سطح پر نہ چلیں

سرینگر//ضلع انتظامیہ سرینگر نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ آبی ذخائر ، خاص طور پرڈل جھیل کی جمی ہوئی سطح پر نہ چلیں ،کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے جمعرات کو کہا کہ ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ مقامی لوگوں کو اس طرح کی خطرناک مہم جوئی یعنی ڈل جھیل کی جمی ہوئی سطح پرچلنے پھرنے سے روکیں۔ انہوں نے خبردارکیاکہ ڈل جھیل کے منجمدشدہ حصے پر چلنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا’جھیل ڈل کے منجمد حصے پرچلنے سے اجتناب کریں کیونکہ ایسا عمل خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ ہم نے جھیل ڈل کے منجمد حصے پرعام لوگوں کے چلنے پھرنے یاکسی دوسرے عمل کوروکنے کیلئے ایس ڈی آرایف کی ٹیمیں تعینات کردی ہیں۔ڈپٹی کمشنر سری نگرڈاکٹر شاہداقبال چودھر ی کے اس ٹویٹ کے جواب میں ، ایک مشہور ڈاکٹرطارق ترمبو نے لکھا کہ ڈوبنے والے متاثرین میں سے تقریبا ً50 فیصد9 سال سے کم عمر کے بچے ہیں، جو برف پر کھیل رہے تھے۔ڈاکٹر نے مزید کہا کہ گاڑیوں ، جیسے اسنو موٹر سائیکلوں میں ڈوبنے سے متاثرہ افراد میں سے زیادہ تر 24 سال سے کم عمر نوجوان ہیں۔ڈل جھیل کو منجمد کرنے سے ان اوقات کی یادیں بھی تازہ ہوجاتی ہیں جب قریب 6 دہائی قبل جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے اپنی جیپ کو منجمد جھیل پر چلایا تھا۔