ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل چیئرمین کے انتخابات

بانہال// حکومت کی طرف سے ضلع ترقیاتی چیئرمین کے انتخابات کیلئے جاری اعلان کے خلاف ضلع رام بن کے بلاک چیئرمینوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف سے حکومت عام لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ اختیارات کو بنیادی سطح پر منتقل کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کیلئے قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سرکار کی طرف سے من مانی کی جارہی ہے۔ بلاک چیئرمین رامسو شفیق احمد کٹوچ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع رام بن کے تمام بلاک کونسل چیئرمین حکومت کے اس اقدام کے خلاف ہیں جس میں پنچایت راج اور بلاک چیئرمینوں کو ایک طرف کرکے عام لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا نیا شگوفہ ڈالا گیا ہے جس سے دیہی علاقوں میں عوام کو پنچایتی راج کے تئیں پہلے ہی سے پائے جارہے اختلافات اور بے دلی میں مزید وسعت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ BDCs کو نہ تو DDC کونسل چیئرمین کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھا جارہا ہے اور نہ ہی وہ بطور امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سرکاری اعلان کرکے سرکار جبری قوانین کو عوام پر مسلط کر کے عام لوگوں کے دلوں کو مزید مجروح کررہی ہے۔ شفیق احمد کٹوچ نے مزید بتایا کہ ضلع رام بن کے تمام بلاک چیئرمین سرکار کے اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر لیفٹنٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا سے گزارش کی کہ وہ DDC کونسل چیئرمین کے انتخاب میں BDC چیئرمینوں کے رول کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سرکار محکمہ دیہی ترقی میں ایک لاکھ سے زیادہ رقومات والے کاموں کو ای ٹینڈرنگ کے زمرے میں لا کر پنچایت راج اور محکمہ دیہی ترقی کو نکما ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس سے بہتر ہے کہ محکمہ دیہی ترقی اور پنچایتوں کو ہی برخواست کر کے اسے بھی محکمہ جل شکتی کی طرح فالج زدہ کردیا جائے جہاں چند پائپوں کے حصول کیلئے آپکو کئی محاذوں پر لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ حقیقی معنوں میں بنیادی سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا عزم رکھتی ہے تو وہ بند کمروں سے نکل کر عوام کی بیچ میں آجائے ورنہ پنچایتی راج اور سرکار کے کام کاج اور وعدوں پر اٹھتے جارہے عوامی بھروسہ اور اعتبار کو دنیا کی کوئی طاقت بحال نہیں کرسکتی اور بیک ٹو ولیج جیسے پرگرام کی طرح محکمہ دیہی ترقی اور پنچایتی راج پر سے عوام کا اعتماد مکمل طور سے ختم ہو جائے گا اور افسر شاہی کو عروج ملے گا۔