ڈرون طیاروں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب

سرینگر//ڈرون طیاروں کے ممکنہ حملوں اور خطرات سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے اور مستقبل میں ایسے حملوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام تر تیاریاں کی جارہی ہیں۔ان باتوں کااظہار چیف آف ڈیفینس اسٹاف جنرل بپن راوت نے ایک نیوز چینل کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ ۔ سی این آئی کے مطابق چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بپن رائوت کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے سیکورٹی فورسز کیلئے ملک میں ایک نیا چیلنج ہے اور اس سے چیلنج سے نمٹنے کیلئے نئی حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی ماہرین اور ریسرچ کمیٹی نے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کچھ حد تک حکمت عملی بنانے میںکامیابی حاصل کر لی ہے اور اس پر ابھی کام جاری ہے ۔ بیپن رائوت کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ڈرون کو ایک جنگی صورتحال میں استعمال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اس کیلئے ہمیں پہلے سے ہی تیاری کی حالت میں رہنا ہوگا ۔ انہوںنے مزید کہا کہ ائر فورس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکورٹی فورسز بھی ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے چوکس ہیں اور آگے کسی بھی طرح کی کوشش کو کامیاب نہیںہونے دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیںہے تاہم اس کے باوجود بھی  فضائیہ کو ایسے آلات سے لیس کیا جا رہا ہے جو وقت پر کسی بھی ممکنہ حملے کو ناکام بناسکے ۔ انہوںنے مزید کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہم اس ساری صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام جدید آلات سے لیس ہونگے اور پھر ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنا کوئی بڑی بات نہیںہو گی ۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے جموں کے ائر فورس اسٹیشن پر دوان شب دو مرتبہ ڈورن حملے ہوئے جس کے بعد جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا تھا جبکہ معاملے کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کو سونپ دیا گیا  ۔