ڈرائیورکی پولیس ومقامی لوگوں کے ہاتھوں پٹائی کاویڈیووائرل

جموں //ضلع جموں،تحصیل بھلوال ،بلاک متھوارکی پنچایت کیری میں گذشتہ روز ایک ٹاٹاموبائل کاپیچھاکرتے ہوئے پولیس سٹیشن گھروٹہ کے اہلکاروں نے ایک نوجوان جواپنی گاڑی میں ’گتے ‘لادکرریاسی بذریعہ اگور۔رابطہ روڈ لے جارہاتھا،کی کیری کے مقام پرگاڑی سے اتارکرمقامی لوگوں کے ہمراہ مارپٹائی کی سوشل میڈیاپرویڈیووائرہونے کامعاملہ سامنے آیاہے۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ روز جہاں عدم تشددکے علمبردارمہاتماگاندھی کی جینتی مناکرعدم تشددکادرس دیاجارہاتھاوہیں پولیس اہلکاروں نے شرپسندوں کے ساتھ مل کرایک نوجوان کوتشددکانشانہ بنایاجس کی بعدویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوئی جس سے لوگوں میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں اورتشویش کی لہردوڑگئی۔اس بارے میں علاقہ کے لوگوں نے بتایاکہ پنچایت کیری وملحقہ پنچایتوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ کسی گوجرنوجوان کی مارپٹائی گئورکشوں اورپولیس نے مل کی ہے جس سے مخصوص طبقہ خوف میں مبتلاہوگیا۔مقامی لوگوں کاکہناہے اکثر پولیس والوں کا رویہ اس طرح کا رہا ہے اُنہوں نے کہا کہ پولیس والے کوئی نہ کوئی بہانا بنا کر ڈرائیوروں کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں وہ متعددلوگ ا سطرح کے بیہمانہ سلوک سے شکارہوچکے ہیں۔اس سلسلے میں حقیقت جاننے کیلئے جب ایس ایچ اوگھروٹہ دھیرج ناگپال سے رابطہ قائم کیاتوانہوں نے بتایاکہ ایک نوجوان جوکہ راجوری کاتھاکی گاڑی کوگھروٹہ پولیس سٹیشن کاناکہ توڑکر بھاگاتھاجس کے بعدپولیس ٹیم نے اس کاپیچھاکیااورپندرہ بیس کلومیٹردورکیری کے مقام پرپکڑلیا،انہوں نے کہاکہ تیزرفتاری سے ڈرائیونگ کرنے اورپولیس سے بھاگنے پرشبہ ہواتوہی اس کاپیچھاکیا۔انہوں نے کہاکہ لوگوں نے اس لیے ماراکیونکہ وہ راستے میں کوئی بھی حادثہ انجام دے سکتاتھا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ٹاٹاموبائل سے خالی گتے ملے ہیں اورکچھ نہیں۔اس لیے پوچھ تاچھ کے بعداسے چھوڑدیاہے۔