ڈاک کے ذریعے خط بھیجنا ختم | سینکڑوں لیٹر بکس برسوں سے تالا کھلنے کے منتظر

سرینگر //ترقی کے اس جدید دور میںپرانی روایات میں تبدیلیاں آنے سے جہاں بہت کچھ بدل چکا ہے، وہیں ڈاکیہ کے ذریعے آنے والے خط اور ڈاک ڈبہ جیسی اصطلاحات میں بھی کمی ہوئی ہے ۔شہروں ،قصبوں اور گائوں دیہات میں نصب ڈک ڈبے برسوں سے تالا بند پڑے ہیں کیونکہ نہ کہیں ڈاک آتی ہے نہ خط اور نہ ہی صبح کے وقت ڈاکیہ سائیکل پر خاکی وردی میں ملبوس ہو کر ڈاک لے کر گھر گھر پہنچتا ہے بلکہ اس نے بھی وردی اُتار کر دیگر لوگوں کی طرح اس جدید دور میں اپنا کام انجام دینا شروع کر دیا ہے ۔وہیں یہ تاثر بھی غلط ثابت ہو گیا ہے کہ انٹر نیٹ کے جدید دور میں ڈاک خانہ کا کام متاثر ہو گیا ہے ،بلکہ آن لائن شاپنگ سے لیکر سپیڈ پوسٹ اور رجسٹرڈ لیٹرنگ کے کام میںاضافہ ہو گیا ہے ۔کشمیر وادی کے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں ایسے ڈاک ڈبے ہیں جو زنگ آلودہ ہو چکے ہیں، تاہم محکمہ ڈاک کو یہ اُمید ہے کہ ان ڈبوں میں کوئی نہ کوئی ڈاک یا پھر خط وغیرہ ڈالنے ضرور آئے گا ۔معلوم رہے کہ ڈاک  نظام ایک تاریخی عالمی نظام ہے۔بھارت میں پوسٹ آفس یعنی ڈاکخانہ کی بنیاد 1854 میں لارڈ ڈلہوزی نے جدید ہندوستان کے ڈاک نظام کو بہتر کرنے کیلئے رکھی تھی اور جموں وکشمیر میں بھی یہ نظام اُسی وقت شروع کیا گیا ۔اس وقت جموں وکشمیر میں متعدد ڈاک خانے موجود ہیں جو متعدد خدمات فراہم کرتے ہیں جیسے درست پتہ پر خطوط  ، منی آرڈر کے نام سے رقم پہنچانا ، رقم جمع کرنا، لائف انشورنس کی سہولت مہیا کرنا اور مختلف طرح کے فارم فروخت کرنا وغیرہ۔ حکومت عوام کو قومی دیہی روزگارضمانتی قانون 2005ء کی پنشن بھارتی ڈاک ہی سے تقسیم کرتی ہے۔ لیکن جدید دور میں انٹر نیٹ اور دیگر مواصلات نے جہاں کئی ایک پرانی روایات میں تبدیلیاں لائی، وہیں ڈاکیہ، ماسٹر بابو، ڈاک ڈبہ جیسی اصطلاحات میں بھی کمی ہوئی ہے۔ خاکی وردی میں ملبوس سائیکل پر سوار ڈاکیے نے بھی وردی اُتار کر دیگر سیول کپڑوں میں اپنا کام انجام دینا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ بھی اس جدید دور میں دوسرے لوگوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے ۔ایک عمر رسیدہ شہری محمد مقبول شیخ کہتے ہیں ، انٹر نیٹ نے رابطہ کو اس قدر آسان اور نزدیک بنا دیا کہ پرانی روایات ہم سے چھن گئیں ،اب بچے سے لیکر بوڑھے تک سب موبائل اور انٹر نیٹ پر بھی کام نپٹا لیتے ہیں اور برسوں پہلے جس خبر کو ہم تک پہنچنے میں مہینے لگتے تھے ،اب منٹوں اور سکنڈوں میں ہم تک پہنچ جاتی ہے ۔ خط لکھنے اور پھر پوسٹ کرنے کا رجحان بھی کم ہوتا جا رہا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل کو ڈاک خانہ اور ڈاکیہ کے بارے میں سمجھانا بھی کافی مشکل بن گیا ہے کیونکہ انہیں اس کا علم ہی نہیں کہ ڈاک کیا تھی اور ڈاکیہ اور ڈاک خانہ کیا ہے ۔کپوارہ کے محمد اسماعیل نامی ایک شہری کہتے ہیں ایک وہ دور تھا جب طلاب ، نوکریوں کی تلاش کرنے والے امیدار اور وادی سے باہر نوکری کرنے والوں کے گھر والوں کو صبح کے وقت ڈاکیے کی آمد کا انتظار رہتا تھا۔ خوشی کی خبر لیکر آنے والے ڈاکیہ کو انعام ملتا تھا اور جب کبھی ڈاکیہ کوئی غم کی خبر لاتا ، تو بنا کسی کلام کے وہ دے جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے  ڈاکخانوں کے باہر بڑی تعداد میں لوگ کرسیاں لگا کر بیٹھ جاتے تھے جو لوگوں کے خط لکھتے تھے اور پارسل کو محفوظ طریقے سے بند کرتے تھے ،یا پھر منی آڑد کے فارم وغیر بھرتے تھے ،لیکن اب کچھ ہی جگہوں پر اِکا دُکا لوگ ہی اس سے منسلک ہیں اور باقی لوگوں نے یہ کام چھوڑ کر دوسرا کام دھندہ شروع کر دیا ہے ۔محکمہ ڈاک کے ایک ملازم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انٹرنیٹ ، ای میل  اورموبائیل فون آنے سے ان روایات پر گہرا اثر پڑاہے ۔ ایک وہ دور تھا کہ فرصت نہیں ملتی تھی ڈبے کھولنے کی اور ڈاک پہنچانے کی لیکن اب خطوں کا کام کم ہوا ہے، البتہ سپیڈ پوسٹ اور رجسٹرڈ لیٹرنگ کا کام زیادہ بڑھ گیا ہے ۔اب آن لائن شاپنگ اسی کے ذریعے آتی ہے۔ صرف چٹھوں کا کام متاثر ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت محکمہ ڈاک بھی نئے دور کے ساتھ چل رہا ہے ،جہاں ان میں انٹر نیٹ کی سہولت ہے، وہیں آن لائن سسٹم بھی یہاں معتارف کرایا گیا ہے بہت سی سکیمیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو جانکاری ہونی چاہئے۔ اس وقت تمام پوسٹ آفس آن لائن ہوئے ہیں او ر ان میں اے ٹی ایم سہولیات بھی دستیاب ہیں ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ وادی کے دوراافتادہ علاقوں میں قائم پوسٹ آفسوں کو آن لائن نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہاں پر بجلی جنریٹر اور بجلی دستیاب ہے جس  وجہ سے سپیڈ پوسٹ کا کام سست ہے ۔