ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن

ہر ی  ونش رائے بچن( پیدائش27نومبر 1907 ،دیہانت : 18جنوری 2003) کا اصل نام  ہری ونش رائے سری واستوہے ۔ آ پ ہندی ادب کے ایک ممتاز شاعر، ایک ممتاز ہستی، ایک خاموش مگر بلند آواز کا تخلیق کار کا نام ہے۔ ہری ونش رائے بچن کی صحیح شناخت ہندی میں ان کی شعری تخلیق ’’مدھو شالا‘‘ (اردو ترجمہ نیچے ماحظہ فرمائیں) ہے۔ اس طویل نظم نے انہیں ملک گیر شہرت اور مقبولیت سے نوازا۔ اس نظم کو آج بھی ہندی ادب میں کلاسیکی حیثیت حاصل ہے۔ 1907ء میں اُتر پردیش کے الہ آباد شہر کے نزدیک اموڑھا گاؤں میں اُن کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس دور کی تعلیمی سہولیات کے تحت انہوں نے ہندی اور انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔ والد چونکہ با حیثیت تھے، اس لئے اعلیٰ تعلیم کے لئے انہیں ولایت بھیج دیا گیا۔ وہاں رہ کر انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی اور انگریزی میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہیں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل ہو گئی۔ ان کا مزاج اپنے ہم عصر ساتھیوں سے بالکل جدا تھا۔ سنجیدگی اور برد باری ان کا مزاج تھی۔ اس زمانے میں کسی کا ولایت جانا اور وہاں سے تعلیم پا کر لوٹنا بڑا کام مانا جاتا تھا۔ ہری ونش رائے بچن ایک چھوٹے سے گاؤں کے باشندے تھے، اس لئے گاؤں کے لئے یہ بہت فخر کی بات تھی۔ 
اُتر پردیش کے شہروں میں علم و ادب کی شمعیں روشن تھیں۔ اردو کے ساتھ ہی ہندی شاعروں اور ادیبوں، کی محفلیں گویا رات میں دن کا سماں پیدا کرتی تھیں۔ ہری ونش رائے بچن کو جب ایسے ہی ہم عصروں کا ساتھ ملا تو وہ بھی کو یتائیں کہنے لگے۔ ان کی کویتاؤں کے عنوانات سے ہی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ ان میں ایک وطن پرست نوجوان کے رومانی جذبات کا کیسا اظہار ہے۔ ’’مدھو شالا‘آکورانتر،نشانرمنتر‘‘وغیرہ نظموں میں اُمید اور نا اُمیدی کی اضطرابی کیفیت ہے لیکن جو مقبولیت انہیں ’’مدھو شالا‘‘ سے ملی وہ ان کے تمام کلام پر بھاری ہے۔ اس کی مقبولیت کا سب سے بڑا صلہ ان کے بیٹے فلم سٹار امیتابھ بچن کو دے دیا جانا چاہئے۔ 
ہری ونش کی شادی تیجی بچن سے ہوئی تھی، جو خود بھی تعلیم یافتہ اور مہذب خاتون تھیں۔ ان سے ہری ونش رائے کے دو بیٹے امیتابھ بچن اور اجیتابھ بچن ہوئے۔ امیتابھ بچن موجودہ عہد میں ہندوستانی فلم صنعت کے ممتاز اور مقبول اداکار ہیں۔ وہ اپنے والدین کا بہت احترام کرتے تھے اور والد کی شعری تخلیقات سے کچھ زیادہ ہی متاثر تھے۔ انہوں نے’’ مدھو شالا‘‘ کو اپنی آواز میں ریکارڈ بھی کیا ہے۔ ہری ونش رائے بچن کے کلام کی اس خوبی کے مد نظر فلم سازوں نے ان کے گیتوں کو اپنی فلموں میں شامل کر کے گویا انہیں خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ہری ونش رائے بچن فلم اور سنیما کے کسی بھی شعبے میں اپنا مقام بنانے کے خواہش مند نہیں رہے۔ صرف تین فلموں میں ان کے صرف تین گیتوں کو ہی موسیقاروں نے راگوں میں ڈھال کر فلموں میں پیکچرائز کیا تھا۔ ہری ونش نے طویل عمر پائی تھی۔ ایک بڑے فلمی اداکار کے والد ہونے کے ناطے انہیں دنیا کاعیش وآرام حاصل تھا۔ بمبئی جیسے میٹرو پولیٹین شہر کے بے حد پوش علاقے میں رہائش پذیر تھے اور ان کے گھر پر فلم سیاست اور سماج کی بڑی بڑی ہستیاں نیاز مندانہ آیاکرتی تھیں لیکن ہری ونش اس تہذیب کے نمائندہ فرد تھے جس میں سب سے پہلے بچوں کو مہذب آداب و اطوار سکھائے جاتے ہیں۔ وہ میزبان کی حیثیت سے ہر مہمان سے خندہ پیشانی سے ملتے، ان کی پذیرائی کرتے لیکن کبھی کسی محفل کا حصہ بننے سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا۔ وہ اپنی دیا کے وہ خاموش فرد تھے جہاں تنہائی تخلیق کی صورت میں بولتی ہے اور تخلیق کار کے ذہن میں اطمینان بخش طمانیت کا احساس جاگزیں ہوتا ہے ،جس میں سر شاری ہے، سرفرازی ہے، لطافت ہے جو جذبات کے فن کی تزئین کرتی ہے اور ذات کی کائنات کو گل بدنی دے کر ہر مصنوعیت سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہری ونش رائے بچن نے ہندی ادب میں جائزمقام حاصل کیا اور جنوری2003ء میں 96سال کی طویل عمر پا کر بمبئی میں انتقال کیا۔ 
ہری ونش رائے بچن کے فلمی گیت:
1971ء ’’بدنام بستی‘‘ موسیقار: وجے راگھو راؤ۔ ’’میلے میں کھوئی گجریا‘‘(آواز: ہری ونش رائے بچن)1971ء "پھربھی" موسیقار: رگھو ناتھ سیٹھ ’’سانجھے کھلے، بھورجھرے، پھول ہر سنگھارکے‘‘(ہیمنت کمار اور انو مکرجی)1977ء ’’آلاپ‘‘ موسیقار: جے دیو۔’’کوئی گاتا میں سوجاتا۔‘‘ (یسوداس)1981ء ’’سلسلہ‘‘ موسیقار: شوہری۔’’رنگ برسے بھیگے چنر والی رنگ برسے‘‘ (امیتابھ بچن اور ساتھی) 