ڈاکٹر کے زدکوب کامعاملہ،جونیئر ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے

سرینگر//منگل اور بدھ کی درمیانی رات پولیس کی جانب سے صدر اسپتال سرینگر کے شعبہ میڈیکل ایمرجنسی میںڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر کی شدید مارپیٹ کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے اور جمعہ سے گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سے منسلک دیگر اسپتالوں میں بھی پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہڑتال پر جارہے ہیں جبکہ پولیس اور ضلع انتظامیہ ابتک ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کے معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔بدھ کو شروع ہوئی پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کی کام چھوڑ ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی۔ بدھ کو  ایک مرتبہ پھر پرنسپل گورنمنٹ میدیکل کالج سرینگر ڈاکٹر ثامیہ رشید، ڈی سی سرینگر فاروق احمد لون اور ڈی آئی جی وسطی کشمیر غلام حسن بٹ نے جونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی تاہم ڈاکٹروں نے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا  ۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ڈی سی سرینگر اور ڈی آئی جی کشمیر نے احتجاجی طلبہ سے مذکورہ واقعہ پر معافی طلب کی تاہم احتجاجی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فراہم کرنا بھی ٹھیک ہے مگر ڈاکٹر پر حملے کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ایف آئی آر درج ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر وںنے بتایا ’’ جونیئر ڈاکٹروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ تب تک کام پر نہیں جائیں گے جب تک نہ ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ میں ملوث اہلکاروں کے معطلی کے احکامات صادر نہیں ہونگے۔ ‘‘پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر ثامیہ رشید نے کہا ’’ جمعرات کو صبح ہی ڈی سی سرینگر فاروق احمد لون اور ڈی آئی جی وسطی کشمیر غلام حسن بٹ نے جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں سمجھایا ۔‘‘ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے کہا ’’ڈی آئی جی نے اسپتال میں ڈاکٹروں کی حفاظت کیلئے 17پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا بھی حکم دیا ہے اور خود بھی معافی مانگی تاہم اسکے بائوجود بھی وہ ہڑتال ختم کرنے کو تیار نہیں ‘‘۔ادھر جونیئر ڈاکٹروں کے ایک وفد نے جمعرات کو بون اینڈ جوائنٹ، لعل دید اور جی بی پنتھ اسپتال جاکر وہاں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کو کام چھوڑ ہڑتال میں شامل ہونے کی درخواست کی اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سے جڑے دیگراسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔