ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف ترال ہسپتال میں ہڑتال

ترال//ترال ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر نے مبینہ طور کھانا کھانے کا بہانہ بناکر علیل بچے کو علاج کرنے سے انکار کردیا،جس کے خلاف بیمار بچے کے رشتہ داروں نے ہسپتال کے احاطے میں احتجاج کر کے ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ راجہ ناصر علی ساکن پنیر جاگیرنے پیر کو اپنی ڈھائی سالہ بیٹی حورہ بتول کو علاج کرانے کی غرض سے سب ڈسٹرک ہسپتال ترال پہنچایا جہاں انہوں نے ایک کارڑ زیر نمبر 10106 نکال کرہسپتال میں تعینات بچوں کے ڈاکٹر کے کمرے کے باہرانتظار کیا کیونکہ ڈاکٹر دوپہر کا کھانا کھانے میں مصروف تھا۔ جب مذکورہ شہری کی بچی کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو اُس نے کمرے کے اندر جانے کی کوشش کی جس پر ڈاکٹر آگ بگولہ ہوئے اور علاج  کرنے سے انکار کیا۔جس کے بعدبچی کے والد نے پہلے بی ایم او بعد میں تحصیلدار کے پاس شکایت درج کی ۔مذکورہ شہری بعد میں ایک سومو میں سوار ہوکر بچی کوجی پی پنتھ ہسپتال سرینگر لے گیا ۔اس ساری صورتحال کے خلاف منگل کی صبح بچی کے قریبی رشتہ داروں نے ایس ڈی ایچ کے احاطے میں داخل ہو کر احتجاج کیا ۔ اس حوالے سے ہسپتال میں موجود بچوں کے ڈاکٹر ،ڈاکٹر تصدق نے بتایا کہ بچہ اتنا علیل نہیں تھا کہ اُس کوفوری طور علاج کیا جاتا اور میں کھانا کھارہا تھا۔