ڈاکٹر فاروق عبداللہ کاالیکشن کمشنر کو خط | گرورہ بانڈی پورہ میں دوبارہ پولنگ کامطالبہ | چترگام وچی میں ووٹنگ کے دوران مداخلت کاالزام

سرینگر//مختلف سیاسی پارٹیوں کے مشترکہ پلیٹ فارم ’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ‘ کے صدر اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے جمعرات کو ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شرما کو ایک خط لکھا جس میں گرورہ اے بانڈی پورہ کے ایک بوتھ میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے خط میں شوپیان میں ووٹنگ کے دوران سرکاری مداخلت کو افسوس ناک قرار دیا۔ کے این ایس کے مطابق عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خط میں بانڈی پورہ کے گرورہ( اے) دیہات میں ووٹنگ کے دن پولنگ بوتھ پر قبضہ کرنے اور بعد میں بوگس ووٹنگ کا الزام لگاتے ہوئے اس پورے عمل کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور جموں کشمیر کے الیکشن کمشنر سے اس پورے واقعے کی اعلی سطحی تحقیقات اور مذکورہ علاقے جہاں پر 13دسمبر کو پولنگ ہوئی تھی میں دربارہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات پر بھی زبردست افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دن بانڈی پورہ کے متعدد مقامات پر پی اے جی ڈی امیدواروں کے حامیوں اور حقیقی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ کئی ایک مقامات پر انکے ووٹروں کو روکا گیا اور پولنگ مراکز پر غیر ضروری مداخلت بھی کی گئی۔اس دوران ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن کو تحریری طور آگاہی فراہم کی کہ حلقہ انتخاب وچی کے چترم گام شوپیان دیہات جہاں پر26 دسمبر کے دن ووٹنگ تھی ،میں بھی رائے دہندگان کو زبردستی اپنے ووٹ کاسٹ کرنے سے روک دیا گیا تھا اور سرکاری مداخلت کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔