ڈاکٹر غضنفر علی غزل کے تیسرے شعری مجموعہ کی رسم اجرائی

سرینگر//کشمیر مرکزادب وثقافت کی طرف سے ڈل جھیل کے آغوش میں واقع کراﺅن آف انڈیا ہاﺅس بوٹ میں ’شام غزل‘ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب پر معروف معالج پروفیسر غضنفر علی غزل کے تیسرے شعری مجموعے ’گل بن خیال‘کی باضابطہ رسم رونمائی انجام دی گئی ۔ اس خوبصورت اور پروقار تقریب کا انعقاد اس لہاظ سے اہم تھا کہ ڈل جھیل کشمیری ثقافت کی پہچان اور شناخت ہے۔ ادبی تقریب جو سنیچروارکی شام کو شروع ہوئی ، تین نشستوں پر مشتمل رہی۔ پہلی نشست میں سنیچر وار کو ”شام غزل“کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر شاد رمضان نے کی ۔ تقریب پر دور درشن کیندر سرینگر کے شعبہ خبر کے سربراہ قاضی سلمان اور محمد امین بٹ ، صدر ادبی مرکز کمراز بطور مہمان ذی وقار تھے۔ تقریب میں جن شعرا ءنے حصہ لیا ان میں پروفیسر محمد زمان آزردہ،ڈاکٹر غضنفر علی غزل، یونس وحید، مشتاق محرم، پروفیسر فاروق فیاض، عنایت گل ، نظیر قریشی ابن شہباز وغیرہ شامل ہیں۔دوسری نشست میں محفل مذاکرہ کا اہتمام ہوا ۔ اس نشست کی صدارت کے فرائض پروفیسر فاروق فیاض نے انجام دئے جبکہ مشتاق محرم مہمان ذی وقار تھے۔ پروفیسر شاد رمضان نے ’غزل کیا ہے‘ کے عنوان کے تحت مقالہ پڑھا جس پر بعد میں سیر حاصل بحث ہوئی ۔ تیسری نشست اتوار گیارہ بجے منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر غضنفر علی کے شعری مجموعہ” گل بن خیال “کی نقاب کشائی عمل میں لائی گئی۔ کتاب پر تنظیم کے میڈیا سیکریٹری مشتاق محرم نے جائزہ پڑھ کر سنایا۔ اس نشست کی صدارت پروفیسر محمد زمان آزردہ نے کی اور مہمان خصوصی فاروق فیاض تھے جبکہ ایوان صدارت میں امین بٹ بھی موجود رہے۔ صائمہ اشرف نے اپنی سریلی آواز میں ڈاکٹر غضنفر علی کی غزل گا کر سامعین کو محظوظ کیا۔