ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

 
وادی کشمیر کا ضلع کپوارہ اپنی قدرتی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ علم و ادب کی مشعل کو فروزاں رکھنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے، جہاں  صوفیوں ،سنتوں اور درویشوں نے اس ضلع کو اپنا مسکن بنا کر دینی تعلیم سے منور کر دیا ہے وہیںکئی مفکروں ،دانشوروں ،ادیبوں اور شعرا نے علم ادب کے گلشن کو سیراب کرکے رنگ برنگے پھول کھلا کر نام اور عزت کمائی ہے ۔ان ہی علمی شخصیات میںڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری کانام بھی شامل ہے ‘ جنہوں نے عصر حاضر کے علمی وادبی منظرنامے میںاپنی تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوںکی بدولت نہ صرف کشمیر بلکہ قومی اورعالمی سطح پر اپنی منفرد پہچان بنا ئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ بنیادی طور پر اقبالیات میں ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں اور ان کی پہلی تنقیدی کتاب ’’جہان اقبال‘‘ ہی ہے تاہم ایک ادب شناس شخصیت کی حیثیت سے وہ اقبالیات کے علاوہ فکشن اور تنقید میں بھی ایک ممتاز مقام پر فائز نظر آتے ہیں۔ان کا اصل نام ریاض احمد بٹ جب کہ قلمی نام ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری ہے ۔ان کا جنم وڈی پورہ ہند وارہ میں ہواہے ۔ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول وڈی پورہ‘انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ بائز ہائر اسکینڈری ہندوارہ اور بعد ازاں ڈگری کالج ہندوارہ سے  گریجویشن کی ‘جب کہ کشمیر یونیورسٹی سے ایم ۔اے اردو ،ایم فل اور پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔تعلیم سے فراغت کے بعد آپ محکمہ تعلیم میں بحیثیت لیکچررتعینات ہوئے ۔ان کی اب تک ان پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں 'جن میں ’’ جہان اقبال(تنقید وتحقیق)،کالے پیڑوں کا جنگل(افسانے)،ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبال شناس(تحقیق….دو ایڈیشن)،کالے دیووں کا سایہ(افسانے)،معاصر اردو افسانہ۔۔ تفہیم و تجزیہ(تنقید)،کچھ کتابوں کے ایڈیشن پاکستان میں بھی شائع ہوئے ہیں۔  ڈاکٹر ریاض توحیدی کوادبی حلقوں میں کافی احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ تخلیق و تنقید میں یکساں قدرت رکھتے ہیںاورآپ کے افسانے اور تنقیدی مضامین قومی اور بین لاقوامی رسائل وجرائد ،جن میں ادب و ثقافت(امریکا) قندیل(جرمنی) انہماک انٹرنیشنل'تسطیر،ندائے گل‘ذوق( پاکستان) فکرو تحقیق (دہلی) ایوان اردو (دہلی) نیادور(لکھنو) زبان وادب(بہار) موج اردو(علی گڑھ) شیرازہ (کشمیر)  آج کل(دہلی) اردو دنیا(دہلی)‘تحریک ادب (وارانسی)‘فروغ اردو(اڑیسہ) وغیرہ قابل ذکرہیں،میں تواتر سے شائع ہوتے ہیںجب کہ ان کے تحریر کردہ پر مغز مقالے اردو کے معیاری رسائل کی زینت بن رہے ہیں۔علاوہ ازیں آپ سوشل میڈیا خصوصا فیس بک کے بین الاقوامی تنقیدی اور افسانوی فورمز میں میںبطور افسانہ نگار اور ناقد کافی سرگرم نظر آتے ہیں ،شاذنادر ہی کوئی ایسا فورم ہوگا جس میں توحیدی صاحب کو خصوصی طور بحیثیت افسانہ نگار اور تاقد مدعو نہ کیا جاتا ہو۔ سوشل میڈیا پر’’ سفیر مسکراہٹ ‘‘سے مشہور ڈاکٹر توحیدی کوبین لاقوامی سطح کے آن لائین سیمیناروں میں بھی مدعو کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ آپ تیس سے زیادہ مقامی اور قومی سیمیناروں میں بھی شرکت کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب مختلف قومی اور بین لاقوامی ادبی تنظیموں سے وابستہ رہ کر چمنستان علم ادب کی آبیاری کرنے میں منہمک ہیں جن میںچیر پرسن۔۔۔۔.انجمن علم وادب'ساوتھ ایشین کلچرل سوسائٹی آف شکاگو امریکہ ،کوارڈنیٹر۔۔۔ بین الاقوامی اردو اسکالرز ایسوسیشن کشمیر شاخ ،ادبی سنگت ناروے، ممبرجموں وکشمیر فکشن رائٹرز گلڈ ،کاڈینیٹر۔۔۔ ولر اردو ادبی فورم کشمیر،ایڈمن:عالمی اردو فکشن،ایڈمن:انہماک انٹرنیشنل فورم ‘مدیر اعزاز:مجلہ انہماک انٹرنیشنل (پاکستان)وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
بہترین کار کردگی کے صلے میں ڈاکٹر صاحب کوکئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے جن میں کشمیر یونیورسٹی سے اقبالیات میں بیسٹ اسکالر ایوارڈ بصور ت گولڈ میڈل اوراترپردیش اردو اکیڈیمی ایوارڈ 2018؁ء خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ڈاکٹر توحیدی ایک ماہر افسانہ نگاراور صاحب بصیرت نقاد ہیں ۔ان کی افسانوی دنیاکافی وسیع ہے ۔ اسلوب کی بات کریں تو ان کا اپنا ایک منفرداور امتیاز کا حامل علامتی اسلوب ہے ۔آپ زیادہ تر علامتی طرز کے افسانے لکھتے ہیں ۔آپ فکشن کے فنی وتکنیکی لوازمات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور افسانہ کی سبھی اصناف پر مقالے لکھتے رہتے ہیں بلکہ ان میں نمونے کے طور پر اپنی تخلیقات بھی پیش کرتے ہیں۔جن میں افسانہ‘افسانچہ‘فلیش فکشن ‘مائیکرو فکشن‘فیٹیسی فکشن ‘ سائی فائی‘ہارر فکشن وغیرہ شامل ہیں۔اس ضمن ان کی افسانہ نگاری اور تنقیدی خدمات پر کئی ماہرین نے مضامین لکھے ہیں۔ ان کے افسانے کسی ایک علاقے یا یک رخی موضوعات تک محدود نظر نہیں آتے ہیں بلکہ کشمیر کی زندگی کے نشیب وفراز اور عالمی سطح کی گھمبیر صورتحال اورمتنوع موضوعات پر ان کے افسانے موجود ہیں۔کشمیر کے پس منِظر میں’’کالے دیوؤں کا سایہ‘‘’’گمشدہ قبرستان‘‘’’کالے پیڑوں کا جنگل‘‘ ’’ہوم لینڈ‘‘’’ناقوس و آذان‘‘’’ ہمارے بچوں کو بچاؤ‘‘’’کالے دیوؤں کی واپسی‘‘’’گلہ قصائی‘‘ ’’کالا چوہا’’چھوڑ دو‘‘’’کبوتر آباد‘‘ وغیرہ اور بین الاقوامی سطح کے موضوعات پر’’سفید ہاتھی‘‘ ’’جنت کی چابی‘‘’’سفید جنگ‘‘’’ہائی جیک‘‘ ’’گلوبل جھوٹ‘‘’’تاج محل اور گئو شالہ‘‘’’کالی دھند اور سفید کبوتر‘‘’’وفادار پیڑ‘‘وغیرہ افسانے شامل ہیں۔ان کے بیشتر افسانے اگرچہ علامتی اسلوب کے حامل ہیں تاہم وہ پوری تخلیقی ہنرمندی سے قاری کے سامنے معنویت کے در کھول دیتے ہیں ۔جیسا کہ معروف تجزیہ
نگاراظہار خضر اپنے مضمون’’ریاض توحیدی کشمیری کے افسانوں کی علامتی اور استعاراتی جڑیں‘‘میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔
 
’’ ڈاکٹر ریاض توحیدی کے بیشتر افسانوں کا بیانیاتی فریم ورک حددرجہ Compactاور End-to-end کے فن پر مبنی نظر آتاہے۔ زیادہ سے زیادہ چاریا پانچ صفحات پر مشتمل ان کے افسانے فن ایجاز نویسی کے عمدہ تخلیقی نمونے کی صورتیں دکھای پڑتے ہیں۔ اس کافائدہ یہ ہواکہ افسانہ نگار کا علامتی اور استعاراتی طریقۂ اظہار ژولیدہ بیانی کی فلسفیانہ موشگافیوں سے پاک نظر آتاہے۔ طریقۂ اظہارکا یہ فنّی رویّہ افسانہ نگار نے اس لئے اپنایا تاکہ قاری علامتوں کی مبہم پسندی میں گُم ہوکر نہ رہ جائے۔ آپ ان کے افسانے پڑھ جائیں مجھے یقین ہے کہ افسانوں کی علامتی اور استعارات زبان سے مملو بیانیہ سے آپ کا تفہیمی شعور آزمائش میں مبتلا نہ ہوگا۔ مزید یہ کہ اشاروں اور کنایوں کے راستے جن مسائل و معاملات کا بیان ہوا ہے ان کی نزاکتوں کے پیش نظر معاملہ فہمی کے تخلیقی شعور کی کارفرمائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں‘‘۔                                                               
ا ن کے افسانوں میں کشمیر کے موجودہ حالات و حقائق کو عمدہ اور فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے جب کہ عالمی سطح کے موضوعات و مسائل کو بڑی ہی چابک دستی اور دانشورانہ انداز سے موضوعِ بنایاگیا ہے۔ علامتی افسانوں کے ساتھ ساتھ راست بیانیہ میں بھی وہ معیاری افسانوں سے قاری کو نوازتے ہیں۔ان کے اہم افسانوں میںافسانہ ’’تاج محل اور گئوشالہ‘‘کاشمار بھی ہوتا ہے۔یہ افسانہ غالباََ ایک دوسال قبل تخلیق ہوا ہے اور کئی لوگوں نے اپنے مضامین میں اس افسانے کو مابعدجدید دورکے نمائندہ افسانوں میں رکھا ہے۔ علامتی اسلوب کا حامل یہ افسانہ ملکی سطح پر جاری تہذیبی تصادم کو معنی خیز انداز سے افسانوی ڈسکورس بنارہا ہے ۔یہ افسانہ دراصل ملکی سطح پر پھیلے ہوئے حالات کی وہ کہانی پیش کررہا ہے جس کی گھٹن سارے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔افسانے کا یہ حصہ دیکھیں:
’’خوف کی ہوائیں۔۔۔۔۔۔گلستان کے پھول دھویں کی لپیٹ میں آچکے تھے۔چہچہاتے پرندے بھی کالے دیووں کی ہاہا کار سے سہمے ہوئے تھے۔‘‘  
’’کالے دیو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کیونکہ انہیں بوڑھے ناگ سے آدیش ملا تھا۔کہ اب گلستان کے باسیوں کی سفید ٹوپی کا فیصلہ سنانے کا وقت آیا ہے ۔۔۔وہ اس جابرانہ فیصلے سے آگ بگولہ ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔اس لئے پہلے ہی سارے گلستان کو خوف کے دھویں سے بھر دو تاکہ وہ کھانسنے کے سوا کچھ نہ کرسکیں۔‘‘                                      
تواس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ افسانہ کس طرح کشیدگی اور خوف وہراس کی جان لیوا گھٹن کو موضوع بنارہا ہے۔ افسانے کا مکمل جائزہ لینے کے لئے کئی صفحات درکار ہونگے۔یہ افسانہ فنی اور موضوعاتی برتاؤ میں ایک مثالی افسانہ ہے۔
ریاض توحیدی کی افسانہ نگاری کا احاطہ کرتے ہوئیمعروف نقاد پر وفیسر حامدی کاشمیری ’’کالے دیوؤں کاسایہ ‘‘کے پیش لفظ لکھتے ہیں:  
’’گر دو پیش کے ماحول میں لو گوں کو جس ظلم و تشد دسے گذرنا پڑا ہے اس کی تصو یر یں ریاض تو حیدی اپنےافسانوں میں پورے خلوص درد مندی اور دُکھ کے ساتھ پیش کر تے ہیں ۔ان پر حقیقت نگاری کا اسلوب حاوی نہیں ‘وہ جانتے ہیں کہ فن کے رموز کیا ہیں اور وہ ان کو اچھی طرح لفظوں میں منتقل کرتے ہیں۔ریاض توحیدی کو زبان وبیان پر پورا عبور حاصل ہے۔وہ افسانے کے واقعات کو بہت حد تک فرضیت میں مبدل کرتے ہیں اور یہی ان کی افسانہ نگاری کی پہچان ہے‘ ‘۔
اسی طرح ڈاکٹر توحیدی کے افسانوی اسلوب کی انفرادیت سے متعلق پروفیسر قدوس جاوید یوں رقم طراز ہیں۔
’’اسلوب کی بات کریں تو اسلوب کی دلکشی کسی بھی تخلیق کار کی شناخت بن جاتی ہے ۔ریاض توحید ی کا اسلوب بھی امتیازکا حامل ہے ۔خصوصا ان کا علامتی اسلوب اب اتنا جانا پہچانا لگتا ہے کہ چند علامتیں تو ان کی افسانوی پہچان بن گئیںہیں:جیسے ’کالے دیو ‘  ’سفید کبوتر‘ ’سفید نور ‘’کوا اور کبوتر‘کالے بھوت‘کالے پیڑ ‘کالا چوہا‘سفید ہاتھی ‘تاج محل اور گئو شالہ وغیرہ ۔تاہم ان کے علامتی افسانے پہیلی نما ‘گنجلک یا تجریدی ابہام کے حامل نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ علامت کو بڑی فن کاری سے متن یا کہانی کا حصہ بناتے ہیں اور قاری‘دوران قرأت تفہیم وترسیل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔کیونکہ ان میں تخئیل آمیز تخلیقی برتاؤ ہوتا ہے‘‘۔
     ادب کے حوالے سے ڈاکٹر ریاض توحیدی کی سوچ اور رویہ بالکل مختلف ہے ،آپ نئے لکھنے والوں کی کافی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جب کہ پیش رو افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ ہم عصروں کی تحریروں کو بھی خاص اہمیت دے کر اپنے بہترین تجزیوں اور تبصروں سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ان کے اس مثبت روئے سے افسانوی ادب کو کافی فائیدہ پہنچ رہا ہے ۔اس حوالے سے آپ اپنی تنقیدی کتاب’’ معاصر  اردو افسانہ ۔۔۔تفہیم وتجزیہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ۔
’’اردو افسانہ ارتقاء کی جانب گامزن ہے ،عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ آج بھی بیشتر احباب معاصر افسانے کے برعکس صرف پرانے افسانوںیا افسانہ نگاروں کو ہی زیر مطالعہ رکھتے ہیں ۔اس میں اگر چہ کوئی زیادہ قباحت نہیں ہے لیکن اس طرح سے ایک تو معاصر افسانہ نظر انداز ہو رہا ہے اور دوسرا افسانے کا ارتقائی سفر بھی متاثر نظر آرہا ہے ۔اگر ہم معاصر شعر و ادب کو تنقید و تجزیہ اور تخلیقی نقظہ نگاہ سے زیر مطالعہ نہیں لائیں گے تو پھر کون اس کام کو انجام دے گا ۔آج کا ادب پہلے آج کے قاری کے لئے ہے ا س کے بعد مستقبل کے قاری کا نمبر آتا ہے تو آج کے ادب پر آج کا قاری بات کیوں نہ کرے ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
(معاصر اردو افسانہ ص۔۔۔12 (۔
      المختصر‘ ادبی صلاحیتوں سے مالا مال ڈاکٹر ریاض توحیدی موجودہ ادبی منظر نامے میںایک اہم مقام پر فائزنظرآتے ہیںاور اردو زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر ادب کی زلفیں سنوارنے میں منہمک ہیں جب کہ اپنی محنت اورلگن سے قومی اور بین الاقوامی ادبی حلقوں میں اپنی ایک منفرد پہچان بنا چکے ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کے قلم کو مزید طاقت اور توانائی بخشے ۔۔۔۔۔۔ آمین 
ہر روز جلاتے ہیں ہم خون جگر اپنا 
یونہی تو نہیں ہوتی تشکیل خیالوں کی
٭٭٭
اجس بانڈی پورہ
موبائل  نمبر؛9906526432