ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کا معاملہ

 سرینگر //جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر اپنے روز گار کیلئے پرائیویٹ پریکٹس اور مالی فوائد حاصل کرنے کیلئے نہیں کرسکتے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملہ کی جانچ پڑتال کریں۔ عالمی وباء کے دوران عدالت عالیہ میں دائر کی گئی عوامی مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس پنیت گپتا کی بینچ نے کہا ’’خود غرض سرکاری ڈاکٹروں اور پیشہ ورانہ طبی ماہرین کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ملازمت اور دیگر سہولیات کو تجارتی استحصال اور پرائیویٹ پریکٹس کیلئے عمارتیں بنائیں۔پیپلز پارٹی فورم کی جانب سے ایم ایم شجاع ایڈوکیٹ کی وساطت سے مفاد عامہ عرضی میںمعالجین کی پرائیویٹ پریکٹس سے طبی ڈھانچہ پر پڑنے والے منفی اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عامر شاہ نے درخواست پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب دائر کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا ۔ انہوں نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے نوٹس کو قبول کیا ۔ عدالت نے کہا ’’ درخواست میں جو الزامات لگائے گئے ہیں ، اگر وہ صحیح ہیں، تو وہ اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو کس قسم کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں‘‘۔ طبی نگہداشت اور عوامی مفاد کو ترجیح قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا ’’ پرائیویٹ پریکٹس کی حوصلہ شکنی ہر صورت میں کرنی ہے کیونکہ اس سے سرکاری اسپتالوںسے تنخواہ حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کی توجہ اپنے کام پر نہیں رہے گی‘‘۔عدالت نے کہا ’’ جموں و کشمیر عوام کے ساتھ دھوکہ اور عوامی مفادات کو نظر انداز کرکے سرکاری ڈاکٹروں کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے کی اجازت دینے  پرسنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ درخواست دہندہ نے اپنے درخواست میں عدالت کو بتایا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر اپنے عہدے کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ درخواست دہند نے لکھا ہے کہ سینئر ڈاکٹر اور کنسلٹنٹ اس وباء میں بھی مریضوں کا کوئی خیال نہیں کررہے بلکہ اپنے نجی کلنکوں پر توجہ دے رہے ہیں اور وہاں وائرس کے بغیر دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں سے موٹی رقومات حاصل کررہے ہیں۔