ڈاکٹروں کی بار بار ہڑتالیں: مریضوں کو یرغمال بنا کر مطالبات پر دبائو بنانا کتنا صحیح؟

سرینگر //کشمیر صوبے کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کے تئیںریاستی سرکار کے نرم رویے کا خمیازہ غریب مریضوں کوبھگتنا پڑ رہا ہے۔ وادی کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال سے نہ صرف مریضوں کے علاج و معالجہ میں دشواریاں پیش آتی ہیں بلکہ مریضوں کیلئے ضروری تشخیصی ٹیسٹوں کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ جونیئر ڈاکٹروں کی بار بار ہڑتال کے عمل کو اب فیکلٹی ممبران بھی غیر قانی اور غیر اخلاقی قرار دے رہے ہیںوہیں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے اعلیٰ افسران جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو بچگانہ حرکت قرار دے رہے ہیں۔ وادی کے سرکاری اسپتال میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنی مانگوں کیلئے مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کو اپنا ہتھیار بنایا ہے اور آئے دن ہڑتال کرکے غریب مریضوںکو نجی کلنکوں پر جانے کیلئے مجبور کررہے ہیں۔سال 2017میں ریاستی سرکار نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کے تحت کام کرنے والے 8بڑے اسپتالوں میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کے مشاہرے میں 100فیصد اضافہ کرکے نہ صرف 24ہزار روپے معاوضہ پانے والے جونیئر ڈاکٹروں کو نومبر 2017سے 48ہزار روپے بطور مشاہرہ دینا شروع کردیا وہیں6ماہ کے بعد ہی گورنمنٹ میڈیکل کالج کے مختلف اسپتالوں میں کام کرنے والے جونیئرڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن ریذیڈنٹ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے اپنی ایک چھٹی زیر نمبر RDA/GMC/2018-19/8بتاریخ 12/05/2018میں پرنسپل میڈیکل کالج سرینگر سے مطالبہ کیا کہ انہیں 7ویں تنخواہ کمیشن کے فوائد کے علاوہ  سیکمز میڈیکل کالج میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے برابر معاوضہ بھی دیا جائے۔ مذکورہ ایسوسی ایشن نے اپنی چھٹی میں سکمز میں جونیئر ڈاکٹروں کو ملنے والے این پی ائے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے سکمز میں جاری ہڑتال کو جائز قرار دیتے ہوئے چھٹی میں لکھا ہے کہ سکمز میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹر بھی ان ہی مانگوں کو لیکر ہڑتال پر ہیں۔ مذکورہ ایسوسی ایشن نے اپنی چھٹی میں لکھا ہے کہ اگر ریاستی سرکار نے رواں ماہ کے اختتام تک انکے مطالبے منظور نہیں کئے تو وہ بھی ہڑتال پر جانے کیلئے مجبور ہونگے ۔ وادی کے سرکاری اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹروں کی بار بار ہڑتال پر بات کرتے ہوئے سکمز فیکلٹی فورم کے سیکریٹری ڈاکٹر سمیر نقاش کا کہنا ہے کہ سکمز میں جونیئر ڈاکٹروں کی مانگیں جائز ہیں اور ہم بھی ان مانگوں میں انکے ساتھ ہیں مگر ہڑتال کا طریقہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔‘‘ ڈاکٹر سمیر نے بتایا ’’ جونیئر ڈاکٹروں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ہم کس کو ہڑتال کرکے یرغمال بنا رہے ہیں، مریضوں میں ہمارا بھائی اور بہن بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ہم بھی اسی سماج کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ احتجاج کو منفرد بنانے کیلئے ہم دو گھنٹے اضافی کام کریں گے جس سے ہمارا احتجاج بھی درج ہوگا اور ہمارے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچے گا تاہم وہ اس کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کی موجودہ صورتحال میں مریضوں کو یرغمال بنانے کے عمل کو کبھی بھی صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ جونیئر ڈاکٹروں کی بار بار ہڑتال پر پرنسپل گورنمنٹ میدیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید نے بتایا ’’موجود نامساعد صورتحال میں جب لوگ مررہے ہیں، جونیئر ڈاکٹروں کو اپنے معاوضے کی پڑی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان ڈاکٹروں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ زیر تربیت ڈاکٹروں کو معاوضہ دیا جاتا ہے تنخواہ نہیں اور معاوضے پر 7ویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات لاگو نہیں ہوسکتی۔‘‘ ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا کہ جونیئر ڈاکٹروں کے معاضہ میں پچھلے سال نومبر مہینے میں 100فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچگانی حرکتیں ہیں ، ان پر کیا کاروائی کی جاسکتی ہے مگر اگر انہوں نے کوئی ہڑتال کی تو کاروائی ریاستی سرکار کا فیصلہ ہوگا۔