ڈاکٹروں کا طبقہ تاریخ کی سب سے مہلک لڑائی لڑنے میں مصروف

سرینگر//ڈاکٹروں کے عالمی دن کے موقعہ پرڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے کووِڈ- 19عالمگیر وباء کیخلاف جنگ میں ڈاکٹروں کے رول کی تعریف کی ہے۔ ایک بیان میں ڈاکٹرس اایسوسی ایشن کشمیر کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کے دوران ڈاکٹروں کی انتھک اور بے مثال کام کو سراہااورکہا کہ عالمی سطح پرصحت کے اس بحران کے پہلے دن سے ہی ڈاکٹرانتھک کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زندگیاں بچانے کیلئے ڈاکٹرچوبیسوں گھنٹے کام پر لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کی جان بچانے کیلئے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ جب لوگ کووِڈمریضوں سے بھاگ رہے تھے اور خود کوالگ تھلگ کررہے تھے، ڈاکٹر اس وائرس کے انفیکشن کا شکارافراد کی جانیں بچانے کیلئے پیش پیش تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ بغیر مناسب کھانا کھائے اور بغیرآرام کئے ،شفٹ ڈیوٹی کے علاوہ بھی کووِڈ مریضوں کا علاج کرنے اوران کے رشتہ داروں کوتسلی دینے میں مصروف تھے۔انہوں نے کہا کہ میں اس عالمگیر وباء کاجی جان سے مقابلہ کرنے کیلئے اُن میں سے ہر ایک کا شکر گزار ہوں اور ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرکے نائب صدر ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ کووِڈ کے نازک مریض کاعلاج کرنا ڈاکٹر کیلئے جسمانی،ذہنی اور جذباتی طور کافی سخت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ڈاکٹر کو مریض کے صحت یاب ہونے سے زیادہ کسی اور چیز سے خوشی نہیں ملتی۔ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سہیل شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر صدی کی سب سے زیادہ کٹھن اورمشکل لڑائی لڑ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ عالمگیر وباء ڈاکٹروں کیلئے بھی سخت رہا اورہم نے اس دوران اپنے قریبی ساتھوں اور نزدیکی کنبے کے افراد کو بھی اس وائرس کی وجہ سے کھویا۔لیکن ڈاکٹروں نے اس کے باوجود اپناکام جاری رکھا۔ڈاک کے ایگزیکٹوممبرڈاکٹر جاوید قانون گو نے کہا ڈاکٹر ،نرسیں اور نیم طبی عملہ ان سخت حالات میں کام کررہے اور جو سامان اور لباس انہوں نے پہنا ہوتا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ دن رات انتھک کام کررہے ہیں۔ایسوسی ایشن کے ترجمان داکٹر ریاض احمدڈگہ نے کہا کہ اس طرح کے شدیدبحران سے نمٹنے کا کسی نے تصور بھی نہیں کیاتھالیکن ہم جیالوں کے عزم نے اس کو کرکے دکھایا۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹروں کا عالمی دن ہرسال یکم جولائی کو منایا جاتا ہے تاکہ طبی پیش رفت میں ڈاکٹروں کی خدمات کااعتراف کیا جائے۔