چین کیساتھ سرحدی کشیدگی کے بیـچ

لیہہ//صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے پیر کے روز لیہہ کا ایک روزہ دورہ کیا۔ ہندوستان اور چین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور لداخ میں چین کے ساتھ لگنے والی سرحد ’لائن آف ایکچول کنٹرول‘ پر 15 اگست کو دونوں اطراف کے فوجیوں کے مابین پتھروں کے تبادلے کے تناظر میں صدر جمہوریہ کے اس دورے کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ صدر جمہوریہ کے اس ’دورہ لداخ‘ کی سب سے بڑی اور خاص بات یہ ہے کہ ملک کے صدر جمہوریہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ کووند کا دہلی سے باہر کسی ریاست کا پہلا دورہ ہے۔ صدر جمہوریہ پیر کی صبح یہاں پہنچے اور ایک شاندار تقریب میں لداخ سکاؤ ٹس ریجیمینٹل سنٹراور رجمنٹ کی پانچ بٹالینوں کو ’صدارتی کلرس‘ پیش کئے۔  اس سے قبل جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرا، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، فوجی سربراہ راوت ، کابینی وزراء اور دیگر مقامی سول ، پولیس و ملٹری عہدیداروں نے مسٹر کووند کا لیہہ ائرپورٹ پر شاندار استقبال کیا۔ کووند نے پیر کی صبح اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ ’پریذیڈنٹ آف انڈیا‘ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’صدر جمہوریہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میرا دہلی سے باہر پہلا دورہ۔ لیہہ میں لداخ سکاؤٹس کو اعزاز سے نوازوں گا۔ میں یہ دورہ اپنی مسلح افواج کے نام کرتا ہوں‘۔ خیال رہے کہ ڈوکلام کو لیکر ہندوستان اور چین کے درمیان جاری کشیدگی اور لداخ میں چین کے ساتھ لگنے والی سرحد 15 اگست کو دونوں اطراف کے فوجیوں کے مابین پتھروں کے تبادلے کے تناظر میں صدر جمہوریہ کے اس دورے کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ 15 اگست کو چینی فوجیوں نے ’لائن آف ایکچول کنٹرول‘ پر پنگونگ جھیل کے نزدیک بھارتی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد دونوں طرف کے فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں دونوں اطراف فوجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں۔ پتھراؤ کے اس واقعہ کی مبینہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جارہی ہے۔ تاہم پتھراؤ کے اس واقعہ کے بعد دونوں طرف کے فوجی عہدیداروں نے صورتحال کو ٹھنڈا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔