چین۔ہندوستان تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے پر متفق ، اقتصادی جرائم سے نمٹنے کیلئے ہندوستان نے جی ۔20 ممالک کونو نکاتی تجویز پیش کی

بیونس آئرس//ہندوستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین حکومتی اداروں کی مالیاتی ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو اقتصادی مفرور مجرموں کی معیاری وضاحت کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے اور ایسے مجرموں کی شناخت، حوالگی اور ان سے نمٹنے کے قانونی طریقہ کار کے بارے میں اتفاق رائے اور معیاری عمل ہونا چاہئے ۔ہندوستان نے جی -20 ممالک کے سربراہ اجلاس میں اقتصادی جرائم اور اثاثے کی برآمدگی سے متعلق اپنی نو نکاتی تجویز میں کہا ہے کہ اقتصادی جرائم کے مرتکب مفرور مجرموں سے نمٹنے کے لئے ‘‘جی -20 ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور فعال تعاون’’ ہونا چاہئے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو جی -20 ممالک کی رہنمائی اور مدد فراہم کرنے کے علاوہ مفرور اقتصادی مجرموں سے نمٹنے ، ان کی شناخت، حوالگی اور عدالتی کارروائی سے متعلق معمول کے مطابق اتفاق اور معیاری طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہئے ’’۔ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سبھی ممالک کو قانونی طریقہ کار میں تعاون اور ایسے مجرموں کے جلد حوالگی کو یقینی بنانے کی کی کارروائی کرنی چاہیے ’’۔اس کے علاوہ جی -20 ممالک کو مشترکہ طور پر ایک ایسا نظام وضع کرنا چاہئے جس کے تحت تمام مفرور اقتصادی مجرموں کے داخلے اور انہیں پناہ دینے پر پابندی عائد کی جاسکے ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کانفرنس کے اصولوں (یواین سی اے سی)، منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے معاہدے (یو این او ٹی سی ) جو بین الاقوامی تعاون کے بارے میں ہے ، اسے مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کرنا چاہئے ۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو بین الاقوامی تعاون پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ اہل اتھارٹیوں اور مالیاتی انٹیلی جنس یونٹوں (ایف آئی یو) کے درمیان صحیح اطلاعات کی بر وقت اشتراک اور وسیع سطح پر تبادلہ ہوسکے ۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ تجربات اور بہترین طریقہ کار کے اشتراک کے لئے ایک عام پلیٹ فارم ہونا چاہئے جس میں حوالگی کے کامیاب معاملوں، حوالگی کی موجودہ نظام میں فرق اور قانونی امداد وغیرہ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے ۔ادھر چینی صدر شی جن پنگ نے ارجنٹینا میں جی 20 سربراہ اجلاس سے الگ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور باہمی اعتماد میں اضافہ اور دو طرفہ تعلقات کو اعلی سطح پر پہنچانے پر اتفاق کیا۔مسٹر شی نے کہا کہ چین-ہندوستان کے تعلقات مثبت نقطہ نظر سے تیزی سے آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جو نہ صرف دونوں ملکوں کی ترقی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ اس میں بھی تیز رفتار تبدیلی کے دوران عالمی نظام میں استحکام اور یقین قائم کرتے ہیں۔ ادھر ہندوستان، روس اور چین نے عالمی سطح پر اقتصادی شعبے میں ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان 12 سال میں پہلی بار یہاں ہند، روس-چین سہ فریقی مذاکرات ہوئے ۔ قبل ازیں، 2006 میں ان تینوں ممالک کے درمیان میٹنگ ہوئی تھی ۔ خارجہ سکریٹری اجے گوکھلے نے تینوں رہنماؤں کے اجلاس کے بعد اس کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے کہا،‘‘تینوں رہنماؤں کے درمیان بہت مثبت اور گرم جوشی کے ساتھ میٹنگ ہوئی