چیف سیکریٹری کا 1500 امرت سروور وقف کرنے پر زور کہا ترقیاتی سرگرمی میں پی آر آئیز اور مقامی لوگوں کو شامل کرنے کی ہدایت

 

سر ینگر//چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے تمام امرت سروور ( اے ایس ) کو مقررہ وقت کے اَندر وقف کرنے پر زوریا۔انہوں نے اِن باتوں کا اِظہار یہاں امرت سروور کے لئے تشکیل دی گئی یوٹی سطح کی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔میٹنگ میں جل شکتی کے اِنتظامی سیکرٹریوں ، پی ڈبلیو ڈی ، فارسٹ ، آر ڈی ڈی ، ریونیو ، کلچر، ضلع ترقیاتی کمشنران ، این ایچ اے آئی کے نمائندوں کے علاوہ متعلقہ محکموں کے دیگر اَفسران نے شرکت کی جبکہ آئوٹ سائٹ اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اَفسران سے کہا کہ وہ تمام 1,500 اے ایس کے لئے جگہوں کی نشاندہی کرنے کے لئے مشن موڈ کے تحت کام کریں اور ان میں سے ہر ایک پر جلد از جلد کام شروع کریں۔اُنہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کام کے موسم کو مؤثر طریقے سے اِستعمال کریں۔ اُنہوں نے انہیں مشورہ دیاکہ وہ ان علاقوں میں مون سون کو مد نظر رکھیں جہاں اس کے دوران بہت زیادہ بارش ہوتی ہے اور اس کے شروع ہونے سے پہلے تمام کھدائی اور زمین کا کام مکمل کریں۔چیف سیکریٹری نے گائوں کی زندگی کے لئے اِس طرح کے اثاثوں کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انہیں ان کے لئے ترقی کاسنگ میل قرار دیا۔ اُنہوں نے ان اثاثوں کو بناتے وقت تمام متعلقہ رہنما اَصولوں کو پورا کرنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ کاموں کو عام لوگوں کے تعاون سے اَنجام دیا جانا چاہئے۔انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اِس فلیگ شپ سکیم کے بڑے مقاصد کے مطابق اِس ترقیاتی سرگرمی میں پی آر آئیز اور مقامی لوگوں کو شامل کریں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ امرت سروور کو عام طور پر کم از کم ایک ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جانا ہے جس میں تقریباً 10,000کیوبک میٹر پانی رکھنے کی گنجائش ہے ۔ مشن کا مقصد آزادی کا امرت مہااُتسو کے جشن کے ایک حصے کے طور پر ملک کے ہر ضلع میں 75 آبی ذخائر کو ترقی دینا اور ان کی تجدید کرنا ہے ۔میٹنگ میں مزید بتایا گیاکہ لیفٹیننٹ گورنر نے حال ہی میں جموںوکشمیر کے تمام اَضلاع میں 100 امرت سروور عوام کے لئے وقف کئے ہیں ۔ یہ واضح کیا گیا کہ یہ کل 44.41کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئے ہیں ۔ اِس میں سے 15.09 کروڑ روپے منریگا سے اور 3.98 کروڑ روپے ایس بی ایم سے استعمال کئے گئے جیساکہ میٹنگ میں بتایا گیا ۔میٹنگ میں اِس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ 1,500 اے ایس کے صد فیصد کی ٹائم لائن 15؍ اگست 2023ء ہے ۔ ان سائٹس میں سے 1214 ( 81فیصد) اے ایس کے لئے شناخت کر کے قومی پورٹل پر اَپ لوڈ کی گئی ہے ۔ ان پر 142.14 کرو ڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں 82.54کروڑ روپے منریگا سے اور 59.60 کروڑ روپے دیگر ذرائع سے فراہم کئے جائیں گے ۔میٹنگ میںمزید بتایا گیا کہ اِس کی عمل آوری تمام سطحوں پر لوگوں کی شرکت پورے اِقدام کی کلید ہے کیوں کہ اس کا مقصد کمیونٹی کے اِجتماعی جذبے کو اُبھارنا ہے ۔

اِس میں کام کے لئے عوامی شرکت کی حوصلہ اَفزائی بھی شامل ہے۔ پروجیکٹوں کے لئے جہاں تک فنڈنگ کا تعلق ہے اِس مقصد کے لئے مہاتما گاندھی این آر اِی جی ایس ، ایکس وی فائنانس کمیشن گرانٹس یا ریاست ،مرکزی حکومت کی اسی طرح کی سکیموں سے دستیاب وسائل تک اِنفرادی طور پر یا مشترکہ طور پر رَسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔اِس کے اجزأ میںپونڈیج ائیریا کی ترقی ، کیچ منٹ بینک کا ٹریٹمنٹ ،تجاوزات کا خاتمہ ، گرے واٹر ٹریٹمنٹ ، شجرکاری کی سرگرمیاں ، نکاسی آب کے راستوں کی بہتری ، اے ایس کے قریب سپرنگ کی ترقی ، مشترکہ سائن بورڈ،نقاب کشائی کے لئے پلیٹ فارم وغیرہ شامل ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ وزیر اعظم نے 24؍اَپریل 2022ء کو قومی یوم پنچایت کے موقعہ مستقبل کے لئے پانی کو محفوط کرنے کے مقصد سے مشن امرت سروور کا آغاز کیا تھا ۔ اِس پروگرام کے تحت پورے ملک میں تقریباً50,000 اَمرت سروور تعمیر کئے جائیں گے جیساکہ میٹنگ میں طے ہواتھا۔