چھوٹی تجارت کو کوروناوائرس سے ہوئے خسارہ کوکم کرنے کی پہل

سرینگر// وبائی بیماری کے نتیجے کووِڈ کے نتیجے میں چھوٹے تجارت کو ہوئے خسارے کو کم کرنے اور آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے کل ہند ریاستوں کے دورے پر روانہ ہوئے ممبئی کے جوڑے نے سرینگر میں تاجروں سے ملاقات کی،جس کے دوران تجارت کی بحالی پر آزمائے جانے والے نسخوں پر اتفاق پایا گیا۔کووِڈ کے نتیجے میں لاک ڈائون کی وجہ سے کاروبار کو ہوئے نقصان اور اس کی بحالی پر ممبئی کے ایک جوڈے نے بھارت بھر میں سفر کرکے چھوٹے تجارت کو ہوئے نقصان کی بحالی کیلئے تاجروں سے تبادلہ خیال کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ابھی تک27 ریاستوں اور2مرکزی زیر انتظام والے خطوں کا متواتر اور لگاتار دورہ کرکے وہاں کے تاجروں اور کاروباریوں سے تبادلہ خیال کیا۔ کوستو گوش اور لکشمی نامی اس جوڑے نے سرینگر میں کشمیر اکنامک الائنس سے تبادلہ خیال کیا اور کاروبار کی بحالی،چھوٹے تجارت کو ہوئے نقصان اور آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے و ایک دوسرے سے معاونت کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ کشمیر اکنامک الائنس کے وفد کی قیادت شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار کر رہے تھے،جبکہ وفد میں الائنس کے ترجمان اعلیٰ  محمد صدیق رونگہ،کشمیر فروٹ گروس ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر، روٹری کلب سرینگر کے عمر بٹ اور بھوپندر سنگھ بھی شامل تھے۔ اس موقعہ پر کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کوستو گوش نے کہا کہ انہوں نے’’آئی سپورٹ یور بزنس‘‘ شروع کیا ہے جس کامقصد 110دنوں میں بھارت کی تمام ریاستوں میں چھوٹے تاجروں سے بات کرکے  وبا ء سے ہوئے نقصان سے باہر نکال کر تجارت کو بحال کرنا ہے۔ کوستو گوش نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں بھی انہیں تاجروں سے اچھا تعاون ملا اور انہیں سرینگر میں بھی یہی توقع تھی ،جس پر وہ کھرے اترے۔ انہوں نے کہا کہ آپسی تبادلہ خیال میں کئی معاملات پر زیر بحث آئے،جس کے دوران چھوٹے تجارت کی بحالی اصل توجہ تھی۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین  فاروق احمد ڈار نے کہا کہ وادی میں گزشتہ اڈھائی برسوں کی صورتحال سے کاروبار کو50ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ،اور اس سے باہر نکلنے کی  ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تبادلہ خیال سے تجارت  میں توسیع پیدا ہوگی،اور مزید مواقعے پیدا ہونگے۔ ترجمان اعلیٰ محمد صدیق رونگہ نے میٹنگ کو خوش آئندہ قرار دیتے  ہوئے کہا کہ آپسی روابط سے کاروبار کو مزید تقویت ملتی ہے اور مزید دروازے کھلتے ہیں۔