چک چولند حرمین شوپیان میں خونین معرکہ| 3مقامی عسکریت پسند جاں بحق

 شوپیان//جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے چک چولند حرمین گائوں میں ایک خونریز تصادم آرائی کے دوران 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ 2رہائشی مکان تباہ ہوئے۔پولیس کے مطابق انہیں گائوں میں 3جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد رات کے دوران ہی  34 آر آر سی  اورآر پی ایف  178 بٹالین کیساتھ مشترکہ طور پرمحاصرہ کیا گیا اور گائوں کی مکمل طور پر ناکہ بندی کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ شدید سردی اور منفی درجہ حرارتکے دوران ممکنہ جگہ کو گھیرے میں لیا گیا اور جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی لیکن ملی ٹینٹوں نے ایسا نہیں کیا  بلکہ جواب میں فائرنگ کی۔پولیس نے بتایا کہ صبح کے 4بجے کے بعد فائرنگ شروع ہوئی لیکن سیکورٹی فورسز نے صبح ہونے کا انتظار کیا تاکہ صاف آپریشن کیا جاسکے۔صبح کے وقت طرفین کے درمیان آپریشن شروع ہونے کیساتھ ہی فائرنگ شروع ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس کے دوران بارودی مواد سے ایک رہائشی مکان تباہ ہوا لیکن ملی ٹینٹوں نے دوسرے مکان میں پناہ لی اور فورسز پر فائرنگ کرتے ہوئے جس کے دوران دوسرا مکان بھی تباہ ہوا۔ بعد میں مکانوں کے ملبے سے تین لاشیں بر آمد کی گئیں جن کی شناخت رئیس احمد میر ولد نذیر احمد میر ساکن کاپرن شوپیان،عامر منظور گنائی ولد منظور احمد گنائی ساکن چک چولند اور حسیب احمد ساکن ریڈونی کولگام کے بطور ہوئی ۔عامر حسین ستمبر 2020سے سرگرم تھا۔رئیس احمد جون 2021سے سرگرم ہوا تھا جب اس نے ہتھیار اٹھائے تھے۔انکی تحویل سے ایک رائفل اور دو پستول بر آمد کئے گئے۔
 
 

دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ابتک

366جنگجو،96 شہری اور81سیکورٹی اہلکارہلاک

نئی دہلی//مرکزی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا میں یہ جانکاری دی کہ 5،اگست2019کودفعہ 370کی منسوخی سے 30،نومبر2021تک کشمیرمیں ملی ٹنسی سے جڑی تشددکی وارداتوںکے دوران کل 543جانیں تلف ہوئیں ،جن میں366جنگجو،96عام شہری اور81سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں راجیہ سبھا کوبتایاکہ5 اگست2019 (دفعہ 370 کی منسوخی) اور 30 نومبر2021 کے درمیان کشمیر میں366 ملی ٹینٹ مارے گئے۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ اس دوران 96 شہری اور 81 سیکورٹی اہلکاربھی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وادی سے کوئی کشمیری پنڈت بے گھر نہیں ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ5اگست2019سے کسی پنڈت کنبے نے کشمیرسے نقل مکانی یاہجرت نہیں کی ۔تاہم، حال ہی میں کشمیری پنڈتوںکے کچھ خاندان، زیادہ تر خواتین اور بچے جموں کے علاقے میں منتقل ہو گئے ہیں۔انہوںنے واضح کیاکہ ان خاندانوں کے افراد سرکاری ملازم ہیں، جن میں سے اکثر افسران کی نقل و حرکت اور تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے طور پر سردیوں میں جموں چلے جاتے ہیں۔ایک اورسوال کے جواب میںمرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ 2018سے2020کے دوران ملک میں ہوئے فسادات میں101 افراد ہلاک اور 3366 افراد زخمی ہوئے۔