چوکیدار کے مقابلے میں مجاہد

بارہمولہ  انتخابی حلقے میںکس کو زیادہ ووٹ ملے ۔کس کی جیت ہوگی کس کی ہار ۔ اننت ناگ میں محبوبہ مفتی کی قسمت داو پر ہے کیا وہ جیتنے میں کامیاب ہوں گی ۔ سرینگر بڈگام حلقہ انتخاب میں کیا ہوگا ۔ہندوستان میں کیا بی جے پی پھر طاقتور منڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ عمران خان کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ظاہرکی کے پس پردہ کیا ہے ۔ کشمیرمیں عسکریت پر دباو، بے تحاشہ گرفتاریوں ، این آئی اے کی سرگرمیوں ، شاہراہ پر دو روز شہری ٹرانسپورٹ پر پابندی اوردیگرسخت گیرانہ اقدامات کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں ۔یہ اور ایسے ہی بے شمار دہکتے ہوئے موضوعات ہیں جن کو نظر انداز کرکے کوئی اور بات کرنا ممکن نہیںلیکن بعض اوقات کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو گھمبیر حالات اور تباہ کن واقعات میں بہت کم توجہ کا باعث ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ واقعات معاشرے میں پیدا ہونے والی ان تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں جو رفتہ رفتہ زندگی کے تمام شعبوں پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں ۔ بیدار ذہنوں کیلئے یہ کسی تازیانے سے کم نہیں ہوتے ۔ میں ایسے ہی دو واقعات کاذکر کروں گا ۔ ایک واقعہ یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنے آپ کو چوکیدار کہنے کے ردعمل میں اپنے نام کے ساتھ مجاہد لگانے کا اعلان کیا ۔ بظاہر یہ بہت ہی عام سا اور معمولی واقع ہے لیکن یہ اس پست ترین ، بدترین اورجاہلانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو بدقسمتی سے اس وقت عام ہورہی ہے اور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ خطرناک بات یہ ہے کہ یہی ذہنیت اختیار کے ایوانوں میں داخل ہورہی ہے اور فیصلہ سازی کی ذمہ داریاں ہاتھ میں لے رہی ہے ۔دوسرا وہ شرمناک واقعہ ہے جس کا ذکر کرنا بھی ضمیر کو گوارا نہیں لیکن ایسے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنا اسکی سنگینی کو کم کرنے اور قبولیت دینے کے برابر ہوسکتا ہے۔ یہ واقعہ آر گام بانڈی پورہ کا ہے جہاں ایک معصوم سی بچی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا کیونکہ اس کی عزت کا آبگینہ اس کے سگے باپ نے ہی تار تار کردیا تھا ۔ گو کہ ہر انسان کے پہلو میں ایک درندہ بھی موجود ہوتا ہے اور کسی کسی وجود پر ہی یہ درندہ حاوی ہوکر اس سے ایسے کام کراتا ہے لیکن اگر اس درندے کی موجودگی کااحساس ختم ہو تو اس کی آزادی کی راہیں کھل سکتی ہیں اس لئے اس احساس کوزندہ رکھنے کے لئے بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ کبھی کبھی ایک فرد کی غلط کاری اپنے اثرات پھیلانے کا باعث بھی ہوتی ہے ۔ سماج افراد کا ہی مجموعہ ہوتا ہے اور افراد میں پیدا ہونے والی بیماریوںکا بروقت تدارک نہ ہو تو پوراسماج بیمار ہوجاتا ہے ۔
 سرینگر میونسپل کارپوریشن کا ڈپٹی مئیر شیخ عمران جب سے ڈپٹی مئیر کے عہدے پر فائر ہوا ہے، اپنے آپ کو خبروں میں رکھنے کی کئی کامیاب کوششیں کرچکا ہے ۔ظاہر ہے کہ نام کی تبدیلی کااعلان بھی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس نے چوکیدار کے مقابلے میں اپنے نام کے ساتھ مجاہدہی کیوں لگایا ۔ وہ کوئی اور نام بھی سوچ سکتا تھالیکن اسے معلوم تھا کہ یہ ایک مقبول اور معتبر لفظ ہے جو اس کی شہرت اور عزت میں اضافے کا باعث ہوسکتا ہے ۔ اسے اس بات کا مکمل یقین تھا کہ اس پر اعتراض کرنے والا کوئی نہیں ہوگا حالانکہ ایسا کرکے وہ اس لفظ کی کتنی بڑی توہین کررہا تھا اس کا کوئی اندازہ نہ اسے تھا اور نہ ہی کسی اور کو ۔ مجاہد کا لفظ ایک ایسا مقدس لفظ ہے جس کا تعلق براہ راست اسلام کے فلسفہ حیات سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ اپنے اندر بے پناہ کشش ، لگا و اور سب سے بڑھ کر عقیدت رکھتا ہے ۔ چاہے کوئی اس کے معنی اوراس کی عظمت سے آشنا ہو یا نہ ہویہ لفظ کانوں کو شگفتگی وتراوٹ اور روح کو سکون بخشتا ہے ۔ یہ کسی اور کا نہیں خود مسلمانوں کا ہی المیہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس لفظ کا بے لگام بلکہ جائز اور ناجائز ہر طرح کا استعمال ہوا جس کے نتیجے میں اس کی حرمت پامال ہوئی ، اس کے تقدس پر حرف آیا اور اس کے مفہوم میں بھی کئی الجھنیں پیداہوئیں ۔افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ کے دوران اس لفظ کا استعمال عام ہوا ۔ اس جنگ میں افغانیوں اور غیر افغانیوں کے جو گروپ شامل ہوئے انہیں مجاہدین کے نام سے پکارا جانے لگا ۔سوویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان کی خانہ جنگی میں ملوث ہر ایک گروپ خود کو مجاہدین کا گروپ قرار دیتا رہا ۔ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے لڑنے والوں نے اپنے گروپ کے نام کے ساتھ قران اور اسلام کے ساتھ صحابہ کبار کے ناموں کا بھی خوب استعمال کیا اور مجاہد ہر ایک نام کے ساتھ جوڑا گیا ۔کئی بین الاقوامی گروپ جو دنیا کی بڑی قوتوں کو نیست و نابود کرنے نکلے مجاہدین کا ٹیگ لگا کر ہی نکلے اور جب ان کے خلاف عالمی ردعمل سامنے آیا تو انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ۔اسلام کے نقطہ نظر سے مجاہد ایک ایسے وجود کا نام ہوسکتا ہے جس کے کردار پر اس کا بدترین دشمن بھی انگلی نہیں اٹھاسکتا ۔ اسے د ہشت گرد قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے ۔لیکن اس دور میں اپنے آپ کومجاہدین قرار دینے والے اسلام کی سربلندی کے نام پر اپنے ہی دینی بھائیوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہوئے ۔آئی ایس آئی ایس بھی مجاہدین تھے اور جو ان کے خلاف لڑرہے تھے وہ بھی خود کو مجاہد ہی کہتے تھے ۔ شام میں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑنے والے مجاہدین ہی کہلاتے ہیں اور عراق میں بھی ۔سعودی عرب کی اتحادی فوج بھی مجاہدین ہی کہلاتی ہے اوروہ جن کے خلاف لڑرہی ہے  وہ بھی مجاہدین ہی کہلاتے ہیں ۔ اور ان تمام جنگجوںمیں مرنے والے خود کو شہادت کے منصب پر ہی فائز سمجھتے ہیں ۔اس طرح سے ان دونوں لفظوں جو اسلام کے بنیادی ستون ہیں کے مفہوم الجھ گئے ۔یہ اسلام کے فلسفہ حیات کو تبدیل کرنے کی وہ سازش ہے جو خود مسلمانوں کے ہاتھوں سرانجام دی جارہی ہے اور کوئی ذی ہوش مسلمان اس پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں ۔اپنے یہاں بھی ہر کوئی اپنے آپ کو مجاہد کہتا ہے ۔ جو اپنے آپ کو چھپاتا پھر رہا ہے وہ بھی مجاہد ہے۔ جس کے ہاتھ میں بندوق ہے وہ مجاہد ہے ۔ قاتل بھی مجاہد ہے اور مقتول بھی مجاہد ہے ۔ایک ہی مزار شہدا میں دونوں مدفون ہیں ۔ عرف عام میں مجاہد ہر اس شخص کو سمجھا جاتا ہے جو لڑتا ہے ۔ لڑنے کی وجہ کوئی بھی ہو لڑنے کا مقصد کچھ بھی ہو اورلڑنے کا طریقہ کار کچھ بھی ہو لڑنے والا مجاہد ہے اور اب چوکیدار کے مقابلے میں بھی اس مقدس ترین لفظ کا استعمال ایک ایسا شخص کررہا ہے جس نے شاید کبھی اس لفظ کے معنی اور اس کی عظمت کے بارے نہ کچھ جانا ہے اور نہ ہی کچھ سمجھا ہے ۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس لفظ کی اتنی بڑی بے حرمتی جو اصل میں اسلام کے فلسفہ حیات کی بے حرمتی ہے پر کوئی ایک فرد پر تڑپ نہیں رہا ہے ۔ کسی کو بھی درد نہیں ہورہا ہے ۔ بے حسی کی یہ انتہا ہے ۔ اس کا انجام کیا ہونا ہے وہی جانتا ہے جس کا نام دنیا میں مجاہدین کے دم سے گونجا ہے ۔
 آرگام بانڈی پورہ واقعے پر نہ ہمارے کسی عالم نے زباں کھولی نہ کسی مبلغ نے نہ کسی دینی ادارے نے ۔یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ایسی ذلیل حرکت کا مرتکب ہونے والے کی ذہنی حالت کیا ہے ۔کیا وہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے یا کسے نشے کا عادی ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہے اور وہ ایک نارمل انسان ہے تو یہ ایک خطرناک معاملہ ہے ۔ یہ زمانے کے بدلتے ہوئے معیار ، رحجان اور عقاید کی ٹوٹ پھوٹ کا نتیجہ ہے جو اپنے اثرات دو ر تک پھیلا سکتا ہے ۔
 ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر