چوٹی کٹ لہر : شہرکے متعدد علاقوں میں نوجوانوں کا شبانہ گشت شروع

سرینگر//نا معلوم افراد کی طرف سے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کا تدارک کرنے کیلئے سرینگراوروادی کے دیگر علاقوں میں مقامی نوجوانوں نے شبانہ گشت شروع کیا ہے جبکہ علاقوں میں داخل ہونے والوں کی پوچھ تاچھ بھی جا رہی ہے۔ وادی میں گزشتہ ایک ماہ سے ایک سو سے زائدگیسو تراشی کے واقعات سے خواتین میں خوف ودہشت کا شکار ہیں۔خواتین کے بال کاٹنے کی لہر کے بعدسرینگر کے پائین علاقوں اور سیول لائنزعلاقوں میں مقامی سطح پر نوجوانوں نے اپنے محلوں میں رات کے دوران گشت شروع کیا ہے ۔پائین شہر کے خانیار،رعناواری،نوہٹہ،سعدہ کدل، صفاکدل،کاوڑارہ کے علاوہ سیول لائنز کے باغات،بمنہ،بٹہ مالو،چھانہ پورہ نوگام،ریلوئے کالونی،کرسو،پادشاہی باغ اور دیگر علاقوں میں نوجوان رات کے دوران گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔ نوجوان رات کوسڑکوں پرآلائوجلا کر علاقے میں داخل ہونے والی اندروانی سڑکوں،کوچوں اور گلیوں پر پہرہ دیتے ہیںاور اس دوران علاقے میں داخل ہونے والے افراد اور گاڑیوں میں سوار لوگوں کی پوچھ تاچھ کی جاتی ہے اور یقین دہانی کے بعد ہی انہیں آگے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ شہر خاص کے ایک شہری نے بتایا کہ90 کی دہائی میں بھی وہ اسی طرح کے شبانہ گشت کا اہتمام کرتے تھے۔انہوںنے بتایا’’ جب وادی میں بھوت کی افواہیں تیز ہونے لگی اور شہر و قصبہ جات میں خوف وہراس کا ماحول پیدا ہواتو شہر خاص میں نوجوانوں نے شبانہ گشت کا سلسلہ شروع کیااور آخر کار آپریشن بھوت کو ناکام بنادیا گیا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ ماحول کو نظر میں رکھتے ہوئے اور کوئی بھی چارہ نہیں ہے کہ از خود خواتین اور گھر کے دیگر لوگوں کو تحفظ فرہم کیا جائے۔حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھی دوران شب نوجوانوں کی گشت کی پذیررائی کرتے ہوئے سماجی وئب سائٹ ٹیوٹر پر ان نوجوانوں کی دوران گشت تصاویر کو شائع کرتے ہوئے تحریر کیا’’جو ہمیشہ اپنے لوگوں کو تحفظ اور مدد فرہم کرنے کے چلینج سے مقابلہ کرنے کیلئے کھڑے ہوئے!اللہ تعالی رحم کریں!‘‘۔ادھر وسطی کشمیر کے چاڑوہ اور بڈگام کے بیشتر علاقوں میں کھیت کھلیانوں میں بھی نوجوانوں کی طرف سے پہرے دینے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ از خود اپنی حفاظت کرنے پر اب بھروسہ کر رہے ہیںکیونکہ سرکارخواتین کو تحفظ فرہم کرنے میں ناکام ہو ئی ہے۔ادھر گاندربل کے علاوہ وادی کے جنوب و شمال میں بھی رات کے دوران نوجوان اپنے علاقوں کی حفاظت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔لاٹھیوں سے لیس یہ نوجوان اندروانی کوچوں اور گلیوں میں رات کے بیشتر حصے میں گشت کررہے ہیں۔کئی بزرگ شہریوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس دوران نوجوانوں کو چاہے کہ وہ صبر سے کام لیںاور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ کسی بے قصور شخص کو بے وجہ تنگ وطلب نہ کیا جائے۔