چوٹیاںکاٹنے کے واقعات پر گیلانی کا سوال

سرینگر//حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے ریاست جموں کشمیر میں آئے روز بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور فوجی دباؤ کے ذریعے انتشار اور خوف وہراس کے ماحول کو عام لوگوں کی نجی زندگی میں داخل کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس سرزمین پر 7 لاکھ کے قریب مسلح افواج کے علاوہ CRPF، BSF، STFاور پولیس انتظامیہ جنگی سازوسامان سے لیس ہو کر ان کی موجودگی میں ایسے کون سے دستِ غیب ہوسکتے ہیں جو عورت ذات کی عفت کو ان کی چوٹیاں کاٹنے سے تار تار کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اربابِ اقتدار کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ انہوں نے ماضی میں بھی اِسی قسم کے مذموم حربوں سے کبھی بستیوں کو نذرآتش کرنے، کبھی فرضی بھوتوں کے ذریعے عام لوگوں کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی ہیں، جنہیں بالآخر یہاں کے عوام نے بھانپ کر بے نقاب کردیا ہے۔ گیلانی نے عوام سے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عفت مآب خواتین اور معصوم بچیوں کی چوٹیاں کاٹنا ایک باضمیر سماج کے لیے رسوا کُن حربہ ہے جس کا بروقت تدارک کرنے کے لیے پورے سماج کو حکمران ٹولے اور پولیس انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی کے مقابلے میں از خود منظم ہونا چاہیے، تاکہ اس میں ملوث ایجنسیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کیا جاسکے۔ گیلانی نے یومِ عاشورہ کے سلسلے میں انتظامیہ کے اعلانات کے باوجود شیعہ برادری کے جلسے جلوسوں پر طاقت کے بے تحاشا استعمال اور پابندیاں عائد کرکے شیعہ راہنماؤں بشمول نثار حسین راتھر، محمد یوسف ندیم، امتیاز حیدر، ایاز احمد بٹ، علی محمد راتھر، بشیر احمد لون، سید شوکت مدنی اور علی محمد نجار کے علاوہ سینکڑوں ارکان کو پولیس تھانوں میں گرفتار کرکے نظربند رکھے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن مذہبی تقریبات اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کرنا صریحاً مداخلت فی الدین  اور بدترین قسم کی فسطائی کارروائی ہے۔انہوںنے مجلس شوریٰ کے رُکن محمد رمضان خان کو بدنامِ زمانہ پی ایس اے کے تحت کوٹ بلوال جیل منتقل کرنے کی ظالمانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حربوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوسکتے۔