چندوسہ بابا ریشی اور کپوارہ کی بیشتر سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل | ٹرانسپوٹروں اور راہگیروں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا

بارہمولہ+کپوارہ //ضلع بارہمولہ کے چندوسہ بابا ریشی علاقے کی رابطہ سڑک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں میں نہ صرف راہگیروں بلکہ ٹرانسپورٹرں کوگوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ برسوں سے اس سڑک کی مرمت نہیں کی گئی ہے۔ ایک مقامی شہری ریاض احمد نے بتایا کہ حال ہی میں ہوئی چند انچ برف باری کے بعد اس سڑک کی حالت مزید خستہ ہوچکی ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں برس متعدد سڑکوں کی مرمت کی گئی لیکن اس سڑک کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چیراداری ، گوہن ، پچہار، چندوسہ ،شملرن ،راج پورہ ، نوگام اورسلطان پورہ سمیت کئی علاقے اسی سڑک سے جڑرہے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر بڑے بڑے کھڈبن چکے ہیں جس سے ٹرنسپوٹروں اور مریضوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لوگوںکو اپنی اپنی منزلوں تک پہنچنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ادھر ٹرانسپورٹروں کا ہنا ہے کہ انہیں اس خستہ حال سڑک سے نفع کے بجائے روزانہ نقصان ہی ہوتا ہے۔علاقے کی آبادی نے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سڑک کی فوری مرمت کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت دیں۔ادھرشمالی ضلع کپوارہ کے اکثر و بیشتر علاقوں کے سڑک رابطے انتہائی خستہ حالت میں ہیں جس کی وجہ سے لوگو ں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ترہگام سے کنن پوشہ پورہ سڑک اس قدر خستہ حال ہے کہ اب مقامی لوگ پیدل چلنے میں بھی خطرہ محسوس کرتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ترہگام سے کنن پوشہ پورہ تک تین کلو میٹر کی سڑک پر جگہ جگہ گہرے کھڈبن چکے ہیں جس کی وجہ سے گا ڑیو ں کو آمدورفت میں دقتو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کپوارہ سے پوشہ پورہ تک سڑک پر دو سال قبل میکڈم بچھایا گیا لیکن وہ اب اکھڑ چکا ہے جبکہ ترہگام سے پوشہ پورہ تک سڑک جگہ جگہ خستہ حالت میں ہے ۔یہی حال بٹہ پورہ کرالہ پورہ سڑک کی بھی ہے ۔سڑک کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ٹرانسپورٹرو ں نے اپنی سروس بند کی لیکن مقامی لوگو ں نے انہیں چلنے پر مجبور کر دیا تاہم اب ڈرائیور اضافی کرایہ حاصل کرتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سونتی پورہ راوت پورہ سڑک پر دو سال قبل میکڈم بچھا یا گیا لیکن نا قص مواد استعمال کرنے کے نتیجے میں وہ چند ہی مہینو ں کے بعداکھڑ گیا اور آج یہ سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ادھر بٹہ پورہ سے ٹھنڈی پورہ تک تین کلو میٹر سڑک کی حالت کے بارے میںلوگو ں کا کہنا ہے کہ 40سال بعد اس سڑک پر میکڈم بچھا یا گیا جو کچھ ہی مہینو ں بعد اکھڑ گیا اور سڑک کی حالت اب اس قدر تباہ جو 40سال قبل تھی ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ان سڑکو ں کے آس پاس ڈرینج سسٹم بھی نہیں ہے اور نتیجے کے طور بارشو ں اور برف باری کی وجہ سے یہ سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کر جاتی ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سڑکو ں کی ناگفتہ حالت کو دیکھنے کے با وجود بھی متعلقہ محکمہ مر مت کرانے اور انہیں قابل آمد و رفت بنانے کے لئے عدم توجہی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اگر چہ آج میکڈ م بچھانے کاموسم نہیں ہے تاہم ان سڑکو ں کی مرمت کی جائے تاکہ لوگوں کو موسم سرما میںعبور و مرور میں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔