چنار گاہیں چنارِ ستان ہے ہفت چنار کی داستان تاریخی جھروکہ

غلام رسول شال ، سرینگر
کیاخطا میر ی تھی ظالم تونے کیوں کاٹا مجھے
کیوں نہ میری عمر تک اس حال پہ چھوڑا مجھے
میں ایک مظلوم خستہ حال چنار کسمپرسی کی حالت میں ہاتھ اور گردن باندھے ہونے سے دست وپا اپنے شانے کٹوا کر اپنی رود ا د ِسخن کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہوں:
میں کشمیر کی شان تھا میںکشمیر کی جان تھا
 میںکشمیر کی پہچان تھا میں کشمیر کی میراث تھا
میں کشمیر کے ماتھے پر تاج شاہی کی انمول نشانی تھا ۔ میں درو یشوں کی فکر و ذ کر کے لئے خاموش خلوت گاہ، صوفیوں کیلئے ایران صغیر ، مغل بادشاہوںکیلئے فردوس بروئے زمین، صاحب طرز شاعروں کے اظہار حسن فطرت کا انمول شاہکار، سخن وروں کیلئے بہشت بریں، مجذبوں کیلئے مقام حیرت کا کرشمہ۔
خالق کائنات کی بندہ نوازی اور ان کی فیاضی کی ایک دلفریب تصویر میرا وجود ہی خود بذات ایک تاریخ حیات جاوداں تھا۔ میں نے گردش زمانے کے کئی انقلاب صبرو تحمل کے ساتھ سہے ہیں۔ جب شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 1586ء میں کشمیر کو تسخیر کر کے سلطنت مغلیہ میں شامل کر کے 1753ء تک کشمیر پر قابض رہے۔ مغل دراصل وسط ایشاء کی پیداوار تھی۔ وہ یہاں کے آب وہوا اور جغرافیائی گردوپیش کو اپنے آبائی وطن کے عین موافق پاکر فوراً اس حسین وادی کو سنوار نے سنبھالنے کی طرف راغب ہوئے۔ انہوں نے جھیل ڈل کے گردو نواح سیات سو باغات تعمیر کر وا کر ان باغوں کو بر جستہ چناروں کے تناور درختوں سے آراستہ پیراستہ کر کے کشمیر کے چپے چپے پر فقط درختان چنار کے شامیانے نصب کر کے سورج کی کرن کو زمین سے چھونے سے قاصر کر دیا۔
جن باغات کی مختصر تفصیل درجہ ذیل بیان کرتا ہوں۔
(۱) باغ درشن برلب نگین لیک موجودہ سنٹرل جیل تعمیر کر دہ اکبر شاہ 1597ء(۲) باغ الہیٰ تعمیر کر دہ ظفر خان(۳) باغ نسیم برلب جھیل ڈل موجودہ یونیورسٹی کیمپس ، تعمیر کردہ اعظم خان بارہ سو درختان چنار بیک وقت نصب کئے گئے(۴)باغ بہر آ را بر لب نگین لیک تعمیر کر دہ نور جہاں 1635ء (۵)باغ نور زنمبر عیدگاہ 1618ء (۶)باغ حیدر نوشہرہ(۷) باغ علی مردان خان 1667ء(۸)باغ صادق آباد موجودہ درگاہ شریف(۹) باغ ظفر خان 1634ء ۔24باغ داراشکوہ بجبہاڑ ہ اننت ناگ(۱۰) باغ گلشن (۱۱) باغ حسن آباد(۱۲) باغ دلاور خان متصل گاندھی کالج (۱۳)باغ گنگی ریشی(۱۴) باغ یوسف خان(۱۵) باغ اقوام الدین(۱۶) باغ ملشاہی باغ(۱۷) عشائی باغ (۱۸)چنار باغ تعمیر کردہ فاضل خان مغل گورنر 1689ء (۱۹) باغ علی آباد موجودہ تیل بل(۲۰) شالیمار باغ(۲۱) نشاط باغ (۲۲)باغ ارادت خان موجودہ ناؤپورہ مسکین باغ ۔(اخذ کردہ ازنسخہ احوال شاہی توکل بیگ کلابی)اسکے علاوہ باغ سند ر۔رام باغ۔ پٹھان باغ۔ سکھ باغ۔رنبیر باغ۔ راج باغ۔ تلسی باغ۔ کول باغ۔ رام منشی باغ۔ سمندر باغ۔ کوٹھی باغ ۔ شیخ باغ ۔ کاوجی باغ۔پیراباغ۔شراب باغ۔ آلوچہ باغ۔ گگجی باغ۔ وزیر باغ۔ گدود باغ۔دیوان باغ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام باغات چنار ستان چنارستا ن ہی تھے۔
(نوٹ) میںیہاں اس بات کو آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوںکہ میرا غرض باغات کی تفاصیل کے ساتھ بالکل نہیںبلکہ کثرت ، مظلوم لاوارث،یتیم درختان چنار ہے ،میرا اصل مطلب :
جہاں باغ ہیں وہاں چنار نہیں      جہاں چنار ہیں وہاں باغ نہیں
مثال کے طور پررام منشی باغ متصل امرسنگھ کلب یا سعید صاحب سونہ وار تعمیر کردہ منشی تلک چند 1850ء ذرا از راہ کر دیکھنے کی تکلیف گورا کیجئے۔ جہاں آج  بھی باغ کا نام ونشان نہیںمگر خستہ حال درختان کمربستہ استادہ داستان پارینہ بزبان خود سنا رہے ہیں۔ جہاں سورج بھی زمین کو دیکھنے سے قاصر ہے۔
چنارہ گاہیں چنارستان ہے داستان ہفت چنار:۔
کا دوسرا رخ تواریخ کشمیر کے اوراق میں بحکم شہنشاہ مغلیہ سلطنت ہندوستان ابو الظفر شہاب الدین صاحب قرآن شاہ جہاںمدفون روضہ تاج محل کے دور حکومت میں حسن بیگ کو تبدیل کر کے دوبارہ علی مردان خان کو مغل گورنر کشمیر تعینات کر کے تعمیر مغل روڑ پڑاؤبہ پڑاؤ از لاہور تا ناگر نگرمتصل کاٹھی دروازہ سرینگر صادر فرمایا گیا۔ 1658ءتا 1667ء سرینگر سے پہلا پڑاؤ (۱) ہفت چنار(۲) خام پورسرائے(۳) شاجہ مرگ (۴) ہیر پور شوپیان(۵) دبجن(۶) علی آباد۔ علی مردان خان کے نام پر (۷)اپوشیانہ(۸) بہرام گلہ (۹) تہنیہ (۱۰) راجوری نورمی چھم (۱۱) گجرات(۱۲) لاہوردیہ راستہ پہلےبہت ہی کٹھن جانکاہ اور دشوار گزرموت کے منہ میں اپنے آپکو ڈالنے سے کچھ کم نہ تھا۔ ان تمام سرائیوں، جہاں پر مغل بادشاہوں انکی بیگمات، شاہزادیوں، شاہزادوں ،منجملہ دربان، کوچوان، جاکروب، کمیدان فراش، فیل بان، تحویلدار وغیرہ کے قیام وطعام کا شاہی انتظام ہوا کرتا تھا۔ تمام کے تمام درختان چنار کے چھتر چھاؤںتلے فراحت کا سانس لیتے تھےا ور یہ راستہ جابجا ابتداء سے لیکر اختتام تک سربکف تناور درختان چنار سے سر سبز شاداب موسم گرما میں گرمی کی خشک تمازت کوجذب کرنے کے عوض ماحول میںمعتدد فرحت بخش روح افزاء تراوت کاکام کرتے تھے کیونکہ یہ سفر گھوڑوں، خچروں، پالکیوں میں کسارون کے ذریعہ طے کیا جاتا تھا۔
میں یہاں بھی موضوع بحث چنار کا خاص خیال رکھتا تاکہ میرا اصل مقصد بیان چنار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔ سال 1634ء میں شاہی دربار کی طرف آخون ملاشاہ کی موجود گی میں ظفر خان کی خلعت گورنری کشمیر ضمانت کے ساتھ عطاًکردی گئی تاکہ وہ اہل کشمیر کے ساتھ رفیق و امین عدل و انصاف کی نظامت قائم کرے۔ ظفر خان نے اس منصب اعلیٰ کو قبول کرنے کیلئے میرا لٰہی کے ساتھ کشمیرجانے کی حامی بھری جس کو بادشاہ سلامت نے ملا آخون شاہ کے اس شعر کے ساتھ منظور فرمایا جو کہ آب طلائی یعنی سونے کے پانی سے لکھ کر سپرد تاریخ کیا گیاہے۔
باد شاہی راگذار و دوست آگاہی گزیں
چوں با غاہی رسیدی ہر چہ می خواہی گزیں
( الٰہی باغ بژھ پورہ انہی کے نام سے موسوم ہے)
جس میں انگنت درختان چناراستادہ شاہ خداوندی بیان کرتے تھے۔ میرا لٰہی کا مقبرہ آستانہ عالیہ حضرت شیخ بہاؤ الدین گنج بخش محلہ بہاؤ الدین میں موجود ہے جہاں سنگ مزار پر یہ عبارت درج ہے۔
میرا لٰہی ملک ملک نظم بود
دراقلیم سخن بی قرین
سال وفاتش علیدم زعقل
کنفت بگو سخن آفریں
تاریخ وفات 1063 ھ مطابق 1653ء۔
یا الٰہی زا لٰہی توچہ برسی درحشر آنچہ او کر دتو دیدی گفتن دار د: مطلب یا الٰہی تو حشر میں الٰہی سے پوچھے گا اس نے جو کچھ دنیا میں کیا تو نے دیکھ لیا، پھر کہنے کی کیا بات رہ گئی۔
فضیلت ہفت چنار تاریخ کی روشنی میں
از تاریخ کشمیر اعظمیٰ صفحہ نمبر 289 ۔جناب مقرب بارگاہ معبود حضرت ایشان خواجہ خاوند محمود بخار ا کے اکا برین میں سے تھے جن کا سلسلہ شجرہ نسب پانچ پشتوں سے حضرت الا برار خواجہ علاء الدین عطار سے ملتا ہے۔یہی کشمیر میں سلسلہ نقشبندیہ کے بانی تھے۔
واقعہ یوں وقوع پذیر ہوا:آج کا مائسمہ اس وقت کا تکیہ مایہ سوامی از بڈشاہ پل تا سلیمان کمپلیکس دوب کدل ہیڈ آفس جے کے بینک اس رقبہ کثیر پرلالچوک کاوجی باغ شیخ باغ، پرتاپ باغ، سمندر باغ، گاف میدان، پولو گراؤنڈ ، نیو کشمیر پارک ، ہری سنگھ نلورہ موجودہ ایمپوریم مشتمل ہے۔ ان دنوں درختان سدا بہار سر سبز و شاداب چناروں سے بھر پور ایک عمیق جنگل تھا جہاں اکثر مقرب و جوار کے مال مویشی گھاس چرنے آیا کرتے تھے۔ اسی رقبہ کا ایک حصہ درختان شہتوت عوام کے نام وقف تھا جہاں دو فرقوں کے لوگ شہتوت کھانے کیلئے آتے تھے۔ دوران خوردو نوش باہمی نزاع وقوع پذیرہوا معاملہ قاضی وقت البو القاسم کی خدمت میں پیش کیا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے ملزمان کے نام شرعی وارنٹ اجرا ء کی ملزمان کی طلبی میں کچھ تاخیر سے کام لیا گیا جس کی ذمہ داری قاضی پر عائد ہوئی یہ حال دیکھ کرلوگ شورش پر اتر آئے لوگوں نے ارابات شہود کے پیشوا حضرت ایشان خواجہ محمد نقشبندی کی طرف رجوع کیا انہوں نے حاکم شرعی اورناظم صوبہ کو نزاع سے آگاہ کیا۔ دوران تضاد حضرت گوشہ ہفت چنار میں ہی مکین رہے واقعات کشمیر صفحہ نمبر 288۔
اسی گورنر کے دور حکومت میں دریائے امراوتی یا دریائے دودھ گنگا یا کشمیری میں چھژکول کے بے وقت سیلابوں کی روک تھام کیلئے ایک بند ھ تعمیر کیا گیا جس بندھ کو تاریخ میں ہفت چنار بندسے یاد کیا جاتا ہے۔یہ بند زمین کے کٹاؤ کو محفوظ رکھنے کیلئے خالص درختان چنار کی پیوندکاری سے عمل میں لایاگیاتھا جوکہ سال 1956ء تک اپنی اصلیت میں قائم و دائم تھا ۔ اس کا وجودو ہیںتھا جہاں آج بخشی اسٹیڈیم موجود ہے۔
یہاں پر میری ذاتی اپیل ان اہل علم سے ہے جنہوں نے اپنی تعلیمی ڈگریاں امرسنگھ کالج میں 1956 ء سے پہلے حاصل کیں ہیں، وہ اُن چناروں کا حال اپنے نو نہالان سے بیان کریں جوکہ دوران کالج آتے جاتے اُن کالطف اٹھاتے ہیں۔حضوری باغ موجودہ اسٹیڈیم ، موجودہ اقبال پارک ، لل دید ہسپتال جہاں چناروں کے سوا اورکچھ ہی نہ تھاوہ چنار کہا ں گئے؟
(بُلبل باغ،برزلہ سرینگر)              رابطہ۔0194 – 2441388