چناب کی سڑکیں یا موت کا کنوں | چار برسوں میں 1719حادثاث رونما ، 481 افراد ہلاک، 2203 زخمی | پرانی گاڑیاں ،خستہ حال سڑکیں ،ڈرائیوروں کی لاپروہی حادثات کا سبب

بانہال // خطہ چناب کی سڑکوں پراکثر وبیشتر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن ان حادثات پر قابو پانے میںحکام اور متعلقہ محکمے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔خطہ کے تین اضلاع ، ڈوڈہ کشتواڑ اور رام بن میں گذشتہ چار برسوں کے دوران 1719سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں جس میں 481 لوگوں کی موت اور 2203 افراد زخمی ہوئے ہیں۔محکمہ ٹریفک کے اعدادوشمار کے مطابق سال2021 کے 2ماہ جنوری اور فروری کے مہینے میں ڈوڈہ ضلع میں 34سڑک حادثات میں9  افراد کی موت اور 44زخمی ہوئے۔جبکہ کشتواڑ ضلع میں ان دو ماہ کے دوران15سڑک حادثات کے دوران 5افراد ہلاک اور 15زخمی ہوئے جبکہ رام بن میں 23سڑک حادثات کے دوران 2 افراد ہلاک اور23زخمی ہوئے۔محکمہ نے اعدادوشمار میں بتایا کہ سال2020میں ڈوڈہ ضلع میں کل197سڑک حادثات کے دوران 36افراد کی موت اور 207زخمی ہوئے جبکہ کشتوار میں67سڑک حادثات میں 28افراد کی موت اور 97زخمی ہوئے جبکہ رام بن میں 200سڑک حادثات کے دوران 51لوگوں کی موت اور 242زخمی ہوئے ہیں۔ سال2019میں ڈوڈہ ضلع میں 259سڑک حادثات کے دوران 55افراد ہلاک اور 298زخمی ہوئے جبکہ کشتواڑ میں77سڑک حادثات کے دوران58لوگوں کی موت اور 167افراد زخمی ہوئے ہیں، اسی طرح رام بن ضلع میں 266سڑک حادثات کے دوران 91 لوگ ہلاک 313 زخمی ہوئے ہیں۔ سال 2018 میں ڈوڈہ میں 223سڑک حادثات کے دوران 28افراد کی موت اور 330افراد زخمی ہوئے ہیں۔کشتواڑہ میں 89سڑک حادثات میں 39افراد ہلاک اور 130زخمی ہوئے ۔رام بن ضلع میں 269سڑک حادثات کے دوران 79افراد ہلاک اور 337زخمی ہوئے ہیں۔معلوم رہے کہ وادی چناب بشمول جموں سرینگر شاہراہ کے سڑک حادثات کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی تصور کی جاتی ہے اور مختلف خونین سڑک حادثات کے رونما ہونے کے بعد مختلف محکموں کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ 95 فیصدی سڑک حادثات ڈرائیوروں کی لاپرواہی کی وجہ سے پیش آتے ہیں،اس کے علاؤہ وادی چناب اور اس کے پہاڑی علاقوں کو جوڑنے والی سڑکوں کی خستہ حالت ، پہاڑی سڑکوں پر پرانی گاڑیوں کا چلن ، ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال اور جلد از جلد منزل تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ایک دوسرے پر سبقت بڑے بڑے سڑک حادثات کا موجب بن جاتے ہیں۔مسافر بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور لالچ نے اب تک سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بہت سے ڈرائیور ایک دن میں ہی ڈوڈہ ، کشتواڑ ، جموں اور سرینگر سے واپس اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش میں درجنوں سڑک حادثات رونما کر چکے ہیں اور درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ پہلے گاڑیوں میں نصب ٹیپ ریکارڈر اور اب ہر ڈرائیور کے ہاتھ میں موبائیل فون بھی سڑکوں پر جاری خونین رقص کیلئے زمہ دار ہیں اور یہ بھی ڈرائیوروں کی لاپرواہی کے زمرے میں آتا ہے۔ پچھلے چند ایک سالوں کے دوران مسافر گاڑیوں کے کئی حادثات میں پایا گیا کہ گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں پائے گئے یہ الگ بات ہے کہ ان معاملات اور کیسوں کو بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیسے نپٹایا۔رام بن ضلع میں کئی سڑک حادثات ایسی رابطہ سڑکوں پر رونما ہوئے ہیں جو سڑکیں ابھی تک ٹریفک چلانے کیلئے پاس ہی نہیں کی گئی ہیں۔ان وجوہات اور سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے سرکار سطح پر کئی پارلیمانی ، اسمبلی اور دیگر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تھی، لیکن زمینی سطح پر اس کے نتائج صفر ہی رہے ہیں۔