چلہ کلاںکی خشک سالی ۔۔۔ ایک خطرناک انتباہ!

 کشمیر میں سردیوں کے روایتی کلینڈر کے پہلے چالیس روزہ مرحلے چلہ کلان کا  آج آخر دن ہے لیکن مکمل خشک سالی کے بہ سبب یہ لوگوں کی اُن امیدوں پر اُوس ڈال کے جا رہا ہے، جو عمومی طور پر اس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ کشمیر، جو اپنے موسم اور پُر فضا سبزہ زاروں کی وجہ سے جنت اراضی کہلاتا رہا ہے، کئی برسوں سے موسم کی ناہمواری کا شکا رہنے کی وجہ سے وہ شان وشوکت کھوتا جا رہا ہے، جو کبھی اس کی شناخت رہی ہے اور جس پر غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے سفر ناموں میں سینکڑوں صفحے سیاہ کئے ہیں ،مگر آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ماحولیاتی اعتبار سے وہ سیاہی کشمیر کا مقدر بننے جا رہی ہے۔ موسم سرما، خصوصاً چلے کلان، میں برف کی بھاری ذخائر بلند و بالا پہاڑوں پر جم کرموسم گرما میں پانی کی وسیع و عریض ذخائرفراہم کرتے تھے، جس کی وجہ سے نہ صرف سارا کشمیر سرسبز و شاداب رہتا تھا بلکہ زراعت اور باغبانی کا شعبہ پھل پھول کر قومی معیشت کےلئے ریڑھ کی ہڈی کا رول ادا کرتاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر بجلی کی پیداوار، اگر چہ اُسکا بیش تر مالی فائدہ مرکزی این ایچ پی سی ہی اُٹھا تا رہا ہے ، کو بڑھاوا دینے کا کلیدی ذریعہ بنتے تھے، جس سے بہر حال جموںوکشمیر ہی نہیں بلکہ ملک کی شمالی ریاستیں  اور سرحد پار کے کئی خطے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ اب جس عنوان سے خشک سالی نے پانی کے ذخائر کا نقشہ بگاڑ دیا ، اس سے آنے والے ایام میں یقینی طورسے نہ صرف بجلی کی سپلائی متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے بلکہ اگر سردیوں کے  دوسر ےاور تیسرے مرحلے چلے خورد اور چلہ بچہ  میں خشک سالی کا سلسلہ نہ ٹوٹا تو موسم گرماکے ایام میں ایک تو زراعت اور باغبانی کے شعبے بُری طرح متاثر ہونگے بلکہ پینے کے پانی کی قلت کا بھی سامنا ہوگا۔ اس طرح ایک طرف مجموعی طور پر ریاست کی معیشت متاثر ہوگی  اور دوسری جانب  انسانی زندگی بھی منفی اثرات کا شکار ہوسکتی ہے۔ خشک سالی کا شکار خطے اسے منسلک وجوہات کی بنا پر مختلف علالتوں اور بیماریوں کی آماجگاہ  بھی بن جاتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو یہ ایک گھمبیر صورتحال ہے، جس کی وجوہات تلاش کرنے کےلئے ہمیں من حیث القوم کوششیں کرنی ہونگی۔ فی الوقت جموںوکشمیر میں خشک سالی کے بہ سبب طول و عرض میں آئے دن جنگلات کے اند رآگ کی بھیانک وارداتیں پیش آرہی ہیں، جو ایک خطرناک وارننگ ہے۔ گزرے ایک ماہ کے دوران جموں اور کشمیر کے صوبوںمیں جنگلاتی آگ کی ایک درجن کے قریب وارداتیں پیش آئی ہیں ،جس سے نہ صرف ہمارے جنگلات بلکہ جنگلی حیات بھی بُری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اگر یہ سلسلہ طول پکڑ گیا تو وماحولیات کی منفی تبدیلی کی رفتار میں شدت سے اضافہ ہونے کا خدشہ لاحق ہوگا۔ براعظم امریکہ، افریقہ ،آسٹریلیا اور چین میں رواں برس کے دوران جنگلاتی آگ کی وارداتوں میں نہ صرف کوہ جنگل تباہ ہوگئے ہیں بلکہ بڑی بڑی بستیاں اسکی زد میں آکر ہزاروں لوگ بے خانماں برباد ہوگئے۔ اگر یہاں ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو خدا ہی حافظ ہے کیونکہ ان مملکتوں کے پاس جو ذرائع اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ہمارے پاس اُسکا عشرعشیر بھی نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی سطح پر حدت اور خشک سالی کے رجحان سے ہماری ریاست یقیناً متاثر ہو رہی ہے لیکن ہماری طرف سے  بھی مجموعی طور پر جو کوتاہیاں ہو رہی ہیں انہیں نظر انداز کرنا غلط ہے۔ ایک جانب جنگلات کا کٹائو ، جنگلاتی علاقوں کے متصل بستیوں کا قیام، پانی کے ذخائر کی بے قدرتی اور تازہ پانی کے ذرائع کو آلودہ کرنے کا عمل، ٹرانسپورٹ انڈسٹری کابے لگام فروغ ، پالی تھین اور اسی نوعیت کے غیر محلول اجزاء کے استعمال کو اپنی مجبور بنانا اس ساری صورتحال کےلئے ذمہ دار ہے۔ فی الوقت حکومت کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے وہ اُن اسباب کا ازالہ کرنے کےلئے ہمہ تن کوششیں کرے، جو ماحولیاتی تباہی کا بنیادی ذریعہ بنتی ہیں۔ خاص کرحکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اُن سرکاری پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی جرأت کرے، جو ماحولیاتی کثافت میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ صنعتی ترقی، جس میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری بھی شامل ہے، موجودہ دور میں روزگار کا ایک بڑا سبب ہے لیکن حکومت کو اس کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ اُن مسائل کا اداراک کرکے ازالہ کرنا چاہئے جو ماحولیاتی تباہی کا باعث بن کر اس تباہی پر منتج ہو رہے ہیں۔ ریاستی سرکار کو موجودہ خشک سالی کے آنے والے نتائج کا احساس کرکے آئندہ لائحہ عمل تیار کرنےمیں کوئی پس وپیش نہیں کرنا چاہئے۔