چلہ کلان کی قہر سامانیاں: پارہ گرنے سے جگہ جگہ پانی کا سپلائی نظام متاثر

سرینگر //چلہ کلان کے دوران جہاں ایک طرف شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی وہیں پارہ تیزی سے گراوٹ کا شکار ہونے کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر پانی کی سپلائی نظام پر پڑا۔بیشتر گھروں میں گذشتہ ایک ہفتے سے نل اورپانی کے گھریلو ذخائر منجمد ہورہے ہیں ۔اس دوران اس صورتحال میں صارفین کو راحت دلانے میں محکمہ پی ایچ ای بھی بے بس نظر آرہا ہے حتی کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے اس صورتحال کا تدارک کرنے کیلئے کوئی ایڈوائزری تک جاری نہیں کی گئی ہے۔معلوم رہے کہ وادی میں گذشتہ دنوں کم سے کم درجہ حرارت 28سال بعد منفی7.7تک گرواٹ کا شکار ہوا۔ کم سے کم درجہ حرارت میں متواتر گراوٹ کے بعد وادی اور شہر کے اکثر علاقوں میں پانی کا سپلائی نظام جم گیا ہے۔شہر سرینگر کے جھیل ڈل ، کرسو راج باغ ، سونہ وار اور شہر خاص کے علاوہ جہلم کے کناروں پر آباد دیگر بستیوں بھی لوگ اس صورتحال سے دوچار ہیں ۔ سرینگر کے شہری عاقب حسن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈل میں متعدد گھرانوں اور ہاوس بوٹوں کی پائیں پھٹ گئی ہیں ۔عرفان کے مطابق انہیں منہ دھونے کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہوتا ہے کیونکہ نہ صرف بیت الخلائوں میں پانی کے نل جم جاتے ہیں بلکہ کچن میں خالی برتنوں میں رکھا گیا پانی بھی صبح تک جما ہوا ملتا ہے ۔ادھر کرسو راج باغ کی مسجد کمیٹی کے ایک ممبر الطاف احمد شیخ نے کہا کہ بستی کے علاوہ مسجد میں بھی لوگ پانی کی بوند بوندکیلئے ترس رہے ہیں ،اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے نہ صرف آگ کا استعمال کیا بلکہ گرم پانی کا چھڑکا بھی نلوں پر کیا لیکن اس کے باوجود بھی پانی دستیاب نہیں ہو رہا ہے ۔رعنا واڑی کے ایک شہری بلال احمد نے بتایا کہ اُن کی بستی بھی صبح کے وقت پانی سے محروم رہ جاتی ہے ۔ادھر گاندر بل سے اطلاعات ہیں کہ منفی درجہ حرارت میں شدید گراوٹ کی وجہ سے متعدد علاقوں جن میں اکہال ، نجون ، مامر ، ٹینگہ ، چھتر، پرنگ ، گوٹلی باغ ، بابا وائل ، ووڈر ، وریش ،نونر ، ہدر ، کونڈ ، سالورہ ، بملورہ ، گنگر ہامہ کے علاوہ کنگن کے گنڈ ، بابا نگری شامل ہیں، میں بھی پانی کے نل اور ٹینکیاں پھٹ گئی ہیں جبکہ گٹلی باغ میں نلوں کے علاوہ گھروں میں نصب گیزر بھی خراب ہوگئے ہیں ۔ادھر ٹنگمرگ ، گلمرگ ، بابا ریشی ، بارہمولہ کے کنڈی علاقوں کے لوگ بھی صبح کے وقت پانی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور ان علاقوں میں بھی متعدد علاقوں میں پانی کے نل پھٹ گئے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی مشکلات کا ازلہ کرنے کیلئے محکمہ پی ایچ ای کے پاس کوئی بھی متبادل نہیں ہے کہ انہیں اس پریشانی سے نجات دلائی جا سکے ۔محکمہ پی ایچ ای کے چیف انجینئر عبدالواحد نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صبح کے وقت اکثر پانی کی لائنیں جم جاتی ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ درجہ حرارت میں بہتری آنے کے ساتھ ہی سپلائی نظام ٹھیک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی کے گھر میں پانی کا کوئی نل جم جائے تو ایسی صورت میں محکمہ کچھ نہیں کر سکتا ہے اور لوگوں کو خود ہی پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کیلئے کچھ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں لوگوں کو رات 11بجے سے صبح 7بجے تک اپنے گھروں میں موجود نلوں کو تھوڑاساکھلا رکھنا چاہئے تاکہ پانی کا قطرہ قطرہ چلتا رہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس کے باوجود بھی کس علاقے میں پانی کی کوئی مشکلات ہو تو وہ محکمہ کے ساتھ رابطہ قائم کریں تاکہ انہیں ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ کے پاس پوری وادی میں 107پانی کے ٹینکر موجود ہیں جس میں سے 100پورا دن کام پر لگے رہتے ہیں جبکہ دور دازر علاقے جہاں کی سڑکیں تنگ ہیں وہاں کیلئے محکمہ نے 10کے 15چھوٹے ٹینکروں کو کام پر لگایا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت محکمہ کے 16ہزار ملازمین بھی فیلڈ میں کام کر رہے ہیں اور جہاں کہیں بھی لائینیں جم جاتی ہیں تو اس کو ٹھیک کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر میں رہتے ہیں اور یہاں آج ہی نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں بھی کم سے کم درجہ حرارت کے نقطہ انجماد سے نیچے جانے سے لوگوں کو پانی کے حوالے سے مشکلات پیش آسکتی ہیں تاہم ایسی صورت میں لوگوں کو پانی کی پائپیں کھلے میں نہیں بلکہ زمین کے اندر سے گھروں تک پہنچانی چاہیں تاکہ وہ جم نہ جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وادی میں کس بھی جگہ پر محکمہ کی ترسیلی لائنوں کو نقصان نہیں ہوا تاہم یخ کی وجہ سے صبح کچھ علاقوں میں لائیں جم جاتی ہیں ۔