چرالہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان

ڈوڈہ //30 ہزار کے قریب آبادی پر مشتمل ڈوڈہ کی تحصیل چرالہ میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پی ایچ سی، بنک شاخ، سماجی و بہبود دفتر، ڈگری کالج و بجلی گریڈ اسٹیشن جیسی اہم سہولیات سے محروم و سیاسی جماعتوں سے ناخوش ہوکر چرالہ ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے حد بندی کمیشن سے اس علاقہ کو الگ اسمبلی حلقہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔چیئرمین چرالہ ڈیولپمنٹ سوسائٹی محمد امین لون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ پنچائتوں پر مشتمل علاقہ چرالہ دہائیوں سے بھدرواہ اسمبلی حلقہ کے ساتھ جڑا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر جماعت کے حکمران انتخابات میں ہی اس علاقہ کا دورہ کرتے ہیں اور اس کے بعد عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پانچ سال تک بھول جاتے ہیں۔لون نے کہا کہ چرالہ میں ڈگری کالج، پرائمری ہیلتھ سینٹر، جموں و کشمیر بنک شاخ، بجلی گریڈ اسٹیشن کی کمی ہے جبکہ یہاں کے اہم و خوبصورت سیاحتی مقامات بھی سرکار کی نظروں سے اوجھل ہیں جس میں جنترون دھار و دیوی دھار قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سیاسی جماعت نے اس علاقہ کو نمائندگی سے بھی محروم رکھا ہے۔ ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے چرالہ کو علیحدہ اسمبلی حلقہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔