چرار شریف میں مہلوک خاتون کے لواحقین کا احتجاج

سرینگر//بڈگام میں 10مئی کو اخروٹ کے درخت سے لٹکی ہوئی خاتون کے لواحقین نے ایک مرتبہ پھر زور دار احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کرنے میں غیر ضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے ۔ ڈرون چرارشریف میں 9اور 10مئی کو درخت سے ایک جواں سال خاتون کی لٹکتی ہوئی لاش پائی گئی تھی۔ خاتون کے لواحقین نے سب ضلع اسپتال چرار شریف کے باہر جمعہ کو زور دار احتجاج کیا ۔ اس موقعہ پر مہلوک خاتون کے بھائی نے ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بہن کو مبینہ طور پر سسرال والوں کی جانب سے جان بوجھ کر قتل کیا گیا اور اسکو پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ اگر اس نے خودکشی کی ہوتی تو ڈاکٹر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تاخیر کیوں کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 10مئی کو پوسٹ مارٹم کیاگی تاہم آج تک اس کی رپورٹ ہمیں فراہم نہیںکی گئی اور 55دن گزر جانے کے باوجود بھی ڈاکٹروں کی جانب سے رپورٹ پیش کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کئی مرتبہ ہم نے اسپتال انتظامیہ کے پاس جاکر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ مانگی تاہم آج تک انہیں فراہم نہیںکی گئی اور غیر ضروری طور پرا س میں تا خیر کی جا رہی ہے ۔ لواحقین کے مطابق انہوںنے پہلے ہی اس ضمن میں کیس درج کر ایا ہے اور ابھی تک پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنا باقی ہے۔