چدمبرم نے کیا کہا؟

کانگریس حکومت میں شامل سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کا مانناہے کہ موجودہ بی جے پی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت نے کشمیر کو تقریباً کھو دیا ہے لیکن حالات اس حد تک ہاتھوں سے باہر ہوجانے کے باوجود بھی بھارت سرکار کی ہمت ابھی ٹوٹی نہیں ہے۔ وہ کشمیر میں میڈیا، مساجد اور مدارس کو اپنے کنٹرول میں لینے کا ارادہ باندھے ہوئی ہے تاکہ بچوں کو کیک خریدنے کیلئے پھر سے بازار جانا پڑے ، گونگے بول سکیں گے، پیلٹ کی بارشوں میں اندھے ہوئے لوگوں کوپھر سے دیکھنے کی قوت مل سکے گی اور بہروں کو سننے کی طاقت نصیب ہوگی۔یہ جنوں کا رقص ہے یا طاقت کا نشہ ہے؟ نہیں تو اپنے کہنے والے لوگوں کی ایسی حالت نہ بنائی جاتی کہ سابق مرکزی سرکار کے سب سے اہم وزیر کا یہ بیان سننے کو ملتا اور موجودہ مرکزی حکومت سے منسوب خبر میں بے گانگی کا اس حد تک احساس دلایا جاتا۔ اب آبادیوں کو بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی قوت سے محروم کیا جانے لگا ہے۔ مجھے اب یاد بھی نہیں آرہا ہے کہ سوشل نیٹ ورک پر وہ بحث کس نکتے کو لے کر شروع ہوئی تھی کہ میں بھی بات کو آگے بڑھانے کی غرض سے اس میں اُلجھ گیا اور لکھ دیا تھا: ’’میں آئین ہند کی دفعہ ۳۷۰ کو ری ایکٹیویٹ کرنے کے عوض نہ صرف ۳۷۰ روپے کی قیمت چکانے پر تیار ہوں بلکہ اپنا فون سیٹ سم سمیت کفارہ ادا کرنے والے کو تحفہ کے طور بھی دوں گا‘‘۔ کیا معلوم تھا کہ ہندوستان، پاکستان کا ذکر کئے بغیر بھی سراسر مذاحیہ انداز میں لکھے اپنے اس پوسٹ کا کچھ وقفہ بعد جواب پاکر مجھے حواس باختہ ہونا پڑے گا۔اس کے جواب میں دو پوسٹ موصول ہوئے تھے۔ دلی میں رہائش پذیر کرنال کے کسی انجان فیس بک قاری کا پہلا جواب کیا ملا کہ کچھ دیر تک اپنے محتاط رویہ کو لے کر بھی ندامت محسوس کرتا رہا۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی کشمیر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک کشمیری پنڈت کا بھی جواب آگیا۔ یہ انتہائی تلخ اور بے سُرا جواب تھا اور اس کو بار بار پڑھ کر میں زبردست مشتعل بھی ہوا جارہا تھا۔ یوں تو وہ دونوں دوست خیالات کی گہرائی کے حوالے سے کچھ زیادہ تجربہ کار نہیں لگے تھے۔ وہ کم عمربھی ہوسکتے ہیں، لیکن اس حد تک بھی کچے نہیں لگ رہے تھے کہ دوسرے پوسٹ میں تحریر جواب کو خاص طور سے نظر انداز کیا جاتا۔ کرنال کے دوست کے جوابی پوسٹ میں لکھا تھا،’’برطانیہ کبھی بھی مفت سروس مہیا نہیں کرتا تھا لیکن انڈیادیتا ہے اور اس طرح سے تم نے اپنی ہستی کو بھارت کے نام فروخت کر دیا ہے‘‘۔ میں نے اس جواب پر اس وجہ کو لے کر ری ایکٹ نہیں کرنا چاہا تھا کہ وہ پنجابی تھا اور اُس کے ساتھ اپنے نجی معاملے میں کیا لینا دینا۔ لیکن کشمیری پنڈت دوست کے لفظوں میں نمک مرچ کی کافی ملاوٹ تھی۔ انفرادی طور اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ ملاوٹ بی جے پی کا دلی میں اقتدار میں آجانے اور ریاست جموں کشمیر میں بھی جزوی طور صاحب اقتدارہوجانے کی اُس کی خوشی کا مظہربھی ہوسکتا تھا۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا کے رسیا وادی سے باہر مقیم برادران ضبط کی اُن حدوں کو اب پار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، جن کو عبور نہ کرنے کیلئے اب تک بھی پنڈت سماج کو جانا مانا جاتا رہا ہے۔کچھ یہی حال ملک میں رہائش پزیر بہت سارے لوگوں کا ہوتا جارہا ہے۔ کرگل جنگ میں یتیم ہوئی ایک فوجی آفیسر کی بیٹی کے امن پیغام میں۳۴۷ لفظ شامل ہیں لیکن ملک میںفرقہ پرستی کا اب یہ حال ہے کہ اس پیغام میں شامل فقط ۹ لفظوں کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ یہ الفاظ بھی سراسر امن کا پیغام ہیں۔’’ پاکستان نے میرے باپ کو نہیں مارا ہے، جنگ نے مارا ہے‘‘۔ بیٹی گُرمہر کے پیچھے پڑے فرقہ پرست اُس کو مارنے، اُس کی عصمت خراب کرنے اور سکھ چین چھین لینے کی مہم چلارہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے کچھ مایہ ناز کھلاڑی بھی گُرمہر کی نکتہ چینی کرنے میں شامل ہو گئے ہیں۔یوں تو یہ خبر برحق ہے کہ گُرمہر کے والد کو پاکستان کی ہی گولی لگی تھی لیکن گُرمہر اس خطے میں قیام امن کیلئے کوشان ہے اور ذاتی نقصان پر خطے کے کروڑوں لوگوں کی سلامتی کیلئے فکر مند ہے۔ حالات اب جو نہج اختیار کرتے جارہے ہیں، وہ واقعی باعث افسوس ہیں۔ پہلے کبھی بھی اس قدر خراب نہیں تھے ۔
وادی سے پنڈت برادری کی ترک مکانی کے کوئی دوسال بعد جب مجھے جموں جانے کا موقعہ ملا تھا، توپیر بابا کے مزار پر عجیب سماں دیکھ کر آنسوئوں کے سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ پنڈت خواتین کا ایک ہجوم مزار کے متولی ( مسلمان پیر صاحب) سے تعویز حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے رہی تھیں اور اس کیلئے آپس میں دھکم دھکابھی ہورہی تھیں۔ اگلے روز ریلوے سٹیشن پر ایک پنڈت دوست سے ملاقات کیا ہوئی کہ میری آنکھوں سے اشکوں کے چشمے اُبل پڑے۔ وہ دوست بھی آنسو بہائے جارہا تھا۔ ٹرین بھی کب کی چل پڑی تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کے کندھے سے سر لگائے بے حس پڑے تھے۔ ٹرین کچھ دور آگے کسی وجہ سے رُک نہ جاتی، تو مجھے اگلے اسٹیشن سے ہی لوٹ آنا پڑتا یا پھر ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے کے الزام میں پکڑا جاتا۔ بہرحال یہ ہمارے مخلوط تمدن اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام ہونے کاعملی مظاہرہ تھا۔ افسوس کہ اب دن دن گزرجانے کے ساتھ ساتھ یہ جذبات اوریہ روایات کمزور پڑتی جارہی ہیں اور ان قدروں میں دراڑیں پیدا کرنے کیلئے کسی حد تک سوشل میڈیا کا بھی منفی رول رہاہے۔  
  اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے یہ پنڈت بھائی غریب الوطنی کے زیر بار ہیں اور یہ بار معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ غریب الوطنی کے شکار سب کے سب لوگوں کے مزاج میں تلخی پیدا ہوجانا فطری ردعمل ہوتا ہے ۔ زیر تذکرہ مباحثے میں پہلے سے ہی شامل تین چار مسلم نوجوانوں نے بھی با د مخالف بنتے ہو ئے نہ صرف خانہ پُری کردی تھی بلکہ شعلوں کو بھڑکانے کیلئے مساوی طور پیٹرول بھی ڈال دیا تھا۔ دونوں اطراف سے گولے داغ دئے جارہے تھے۔ اُدھر سے پنجابی اور کشمیری پنڈت بھی جیسے جنون کی آگ میں جھلستے انداز بیان سے آزادی اور پاکستان کے خلاف پوسٹ پر پوسٹ تحریر کررہے تھے اور پیر پنچال کے اس طرف سے اتنے ہی سخت الفاظ میں مسلم نوجوان تابڑ توڑ حملے جاری رکھ کر اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہے تھے۔ یہ سلسلہ اب رُکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔پنڈت برادری دیار غیر میں مشکلات سے ہمکنار تو ہیں، پر اُن کے ہم وطن وادی میں محصور مسلمان بھی راحت کی سانسیں نہیں لے رہے ہیں۔ مسلم آبادی کو اپنے ہی گھروں سے ہانکا جانے کا عمل ابھی تک بھی جاری ہے ۔جب پنڈت برادری وادی کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں خیمے اور دیگر پناہ گاہوں کی تلاش میں تھے، تو مسلم آبادی کو تب بھی اپنے گھربار چھوڑ کر دوسری جگہوں میں مارے مارے پھرنا پڑا تھا۔پھولوں کی وادی میںہر طرف بندوقوں کی گن گرج جاری تھی۔ ملی ٹینٹ لیبل چڑھائے ہوئے ایک فرد کی تلاش میں بستیوں کو ہی تہہ و تیغ کیا جارہا تھا۔دن تو دن، راتوں کو بھی کھلے آسمان تلے حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔وادی میں یہ عمل کسی نہ کسی صورت میں اب بھی جاری ہے اور جان کے مارے در در ٹھوکریں کھانے والے لوگوں کو گھٹنوں کے بل چلنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ بہرحال میں ابھی تک بھی انٹرنیٹ (موبائیل فون) پر جاری اس مباحثے میں شامل ہوجانے کا ماتم منارہا تھا۔ تاہم اتنا سا اطمینان دل کیلئے سامان راحت تھا کہ میں نے کسی کو رنجیدہ کرنے کے ارادے سے پوسٹ میں ایک بھی لفظ نہیں لکھا تھا اور کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت بھی نہیں کی تھی۔یہ سراسر ایک مزاحیہ انداز تھااور دفعہ ۳۷۰ کا تذکرہ کرنے سے پنڈت برادری کوکسی قسم کا خطرہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ موبائیل سیٹ کے سکرین پر ظاہر کشمیری پنڈت کے پوسٹ میں درج تھا ۔
  ’’ تمہارا یہ نام نہیں ہونا چاہے تھا۔ تم اس مقدس نام کے لائق نہیں ہو۔آرٹیکل ۳۷۰ کا خاتمہ بہت جلد ہونے کو ہے۔ وہ وقت عنقریب آرہا ہے۔ جیسے نوٹ بندی سے متعلق اعلان کیا گیا تھا۔ آرمی چیف کا بیان اس سلسلے کا پہلا عندیہ مان لو۔ آئی ایس آئی ایس نہیں، پاکستان کے جھنڈے نہیں۔ اب اپنے دنوں کی گنتی شروع کرلو، مہینوں کی بات ہی نہیں ہے۔‘‘  اب تک میں نے ارادہ بدل کر کرنال کے دوست کے پوسٹ کا یوں جواب بھیج دیا۔’’ برطانیہ نے ۱۸۴۶ء میں کشمیر کو فروخت کردیا تھا۔ لیکن ہم نے سخت جدوجہد کرکے اس سودا کو رد کروایا۔ اس طرح سے جموں کشمیر کے تمام باشندوں کو کھلی فضائوں میںسانس لینے کا موقعہ ملا تھا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی اب دوسرے دوست سے بھی مخاطب ہوا۔ ’’ تم کو میرے نام سے کیا ڈر محسوس ہورہا ہے۔ میں نے نہ تمہاری ذات کے خلاف کوئی لفظ لکھا ہے اور نہ ہی تمہارے خیالوں کی دنیا میں مداخلت کرنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ وفاقی آئین کا ایک حصہ ہے اور ہمیشہ رہنے کیلئے لکھا گیا ہے۔
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
 
سرینگر کیلئے نیا منصوبہ ۔۔۔۔۔
حکومت کےلئے ایک امتحان !
 سابق حکومت نے ترقی یافتہ کشمیر کے خاکے میں رنگ بھرنے کا اعلان کیا تھا جس سے بظاہر یہی اخذ ہوتا تھا کہ انکی حکومت شہر سرینگر کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا ؟اسکا جواب وہی دے سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے روز گزشتہ سرینگر ضلع ترقیاتی اجلاس میں شہر سرینگر کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرنے  اور اس کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اس کے ترقیاتی منظر نامے کو جدید ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔کیا ایسا ہوتا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الوقت اتنا کہا جا سکتا ہے کہ حزب اقتداراور حزب اختلاف کا شاید ہی اس بات پر اتفاق نہ ہو کہ سرینگر کو تعمیر وترقی کے حوالے سے مجموعی طور کئی برسوں سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہاہے ۔ شہر کی پرانی بستیوں اور نئی رہائشی کالونیوں پر ایک سرسری نظر دوڑائیے تو صاف نظر آئے گا کہ ۱۱لاکھ کی آبادی کا یہ مسکن ہر اعتبار سے پچھڑا ہواہے ۔ یہاں کی سڑکیں خستہ حال ہیں ،گلی کوچے مرمت اور دیکھ ریکھ کے لئے چیخ وپکار کررہے ہیں ۔گندے پانی کی نکاسی کا نظام مفلوج ہے ، بلدیاتی سہولیات کا فقدان اپنے عروج پر ہے ، ٹریفک جاموں اور اوورلوڈنگ کے ان گنت مسائل ہیں،گند اور غلاظت کے ڈھیر شہر کے چپے چپے پر بدنمائی میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس ناگفتہ بہہ صورتحال کو بدلنے کے لئے اگر موجودہ حکومت کوئیعزم وارادہ رکھتی ہے تو اسکا ہر سمت سے خیر مقدم کیا جائے گا۔یہاں ہر شعبے میں مسائل کی اتنی بھرمارہے کہ جب تک ایک ہمہ گیراور ہمہ پہلو ترقیاتی منصوبہ ترتیب نہ دیا جائے اور پھر ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل کا تیر بہدف حل نہ نکالا جائے اُس وقت تک سرینگر کو ایک قابل رہائش جدید شہر میں بدل ڈالنا دیوانے کی بڑ ہوگی ۔بورڈ میٹنگ میں سرینگر اور جموں شہروں کے لئے کیپٹل سٹی ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کرے اسکے لئے علیحدہ رقوم مختص رکھنے اور اسے ضلع ترقیاتی پلان سے علیحدہ کرنے کے بارے میں جو اعلان کیا گیا ہے، وہ یقیناً خوش آئند ہے تاہم اس میں اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس میں بھی اسی طرح سے امیتازی سلوک نہ روا رکھا جائے جیسا کہ ضلع ترقیاتی پلانوں سے ظاہر ہے ، جسکے تحت ضلع سرینگر کے ساتھ جموں کے کئی اضلاع کے مقابلہ میں زبردست امتیاز برتا گیا ہے اور جسکا ذکر نہ صرف بورڈ میٹنگ میں بھی ہوا بلکہ اپوزیشن جماعت این سی نے اس پر وزیر اعلیٰ کو میمورینڈم بھی پیش کیا۔  اب فی الوقت سرینگر شہر کے لئے کیپٹل سٹی ڈیولپمنٹ پلان کے تحت چھ سو کروڑ روپے فرام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو 102 کروڑ پر مشتمل عمومی پلان سے  ہوگا اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ شہر کے تمام حلقہ ہا ئےانتخاب کے لئے فی حلقہ50لاکھ روپے فنڈ فراہم کئے جائیں گے ۔ جبکہ سرینگر میونسپل کونسل، سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور لاوڈا کو نئے ڈیولپمنٹ پلان سے رقوم میسر ہونگی۔ اس انتظام کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ان محکمہ جات، جو عمومی اعتبار سے شہر کی ترقی کےلئے ستون کی حثیت رکھتے ہیں، کو مستقبل میں کارکردگی کے فقدان کےلئے کوئی بہانہ نہیں ملنا چاہئے ، کیونکہ شہر میں چاروں اور جو تباہی مچی ہوئی ہے ۔ اس کے لئے متعلقہ حکام ہی ذمہ دار ہیںجنہو ں نے ڈرنیج کے نام پر ان بستیوں میں کاغذی گھوڑے ضروردوڑاے اور خزانہ عامرہ کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کے ریکارڈ بھی توڑے مگر عملی طور عوامی بہبود کا کوئی کام نہ کیا ۔یہ ان کی نالائقی اور بدعنوانیوں کا خمیازہ ہے جو آج عوام الناس کو مفت میں اُٹھانا پڑ رہاہے ۔ اس حوالے سے اکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی کا رول کافی حوصلہ شکن رہا ہے۔ کہنے کو یہ ادارہ سڑکوں کا جال بچھانے اور ڈرینج کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے معرض وجود میں لایا جاچکاہے مگر اس کی کارکردگی دیکھی جائے تو یہ فی الواقع لاوڈاکا مقلد دکھائی دیتاہے ۔ جس طرح لاوڈا ڈل اور نگین جھیلوں اور دوسرے بیش قیمت آبائی اثاثوں کی محافظت اور نگہداشت پر مامور ہونے کے باوجود قدرت کے ان حسین تحفوں کی ناقدری کرنے اور خودغرض عناصر کی پردہ پوشی کرنے میں پیش پیش ہے اُسی طرح کا رول ERA نے بھی نبھایا ۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نہ ان محکموں کا کوئی مواخذہ ہو تاہے نہ یہاں کے عوام کا کوئی پرسان حال ہے ۔حکومت اگرسرینگر کے  نئے پلان کو ایک نعرے سے زیادہ حقیقت کے قالب میں ڈھالنے میں سنجیدہ ہے تو اسے چاہئے کہ ڈرینج اور سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے لئے ایک ایسا منصوبہ وضع کرے جس میں متعلقین کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمنانہ طرزِ عمل اپنانے کا کوئی رتی بھر امکان نہ رہے ۔ ہر کام ٹائم باؤنڈ ہو اور عوام کے لئے کوئی بھی پروجیکٹ سوہانِ رُوح نہ بنے ۔ کوشش یہ کی جائے کہ کم سے کم مدت کے اندر پروجیکٹ کو مکمل کرکے سڑکوں اور گلی کوچوں کو میکڈامائزکیا جائے ورنہ اگرکوئی پروجیکٹ شیطان کی آنت کی مانند طوالت کھینچے تو بہتر یہی ہے کہ اسے ترک ہی کیا جائے کیونکہ تیز رفتار زمانے میں کچھوئے کی چال چلنے سے ترقیاتی منظر نامے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شہر کی تاریخی آبگاہوں، جن میں ڈل، نگین، آنچار، خوشحال سر اور براری نمبل جیسی چھوٹی بڑی جھلیں  شامل ہے، کو جو ہڑوںمیں بدلنے سے بچایا جائے ، تاکہ آنے والی نسلیں ہمارے عہد پر لعن وطعن کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ ان سارے منصوبوں کی عمل آوری میں یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ معاملات سیاست سے بالا تر ہوکر انجام کو پہنچائے جائیں۔