چاکِ گریباں!!!

چند  ایام قبل میں نے اپنے ایک کالم زیر عنوان ’’اپنی بات‘‘ کے اخیر میں لکھا تھا : البتہ یہ بتانے میںعار نہیں سمجھتا کہ دین کو ہم نے پکوڑے بناکر چبا ڈالا ہے اور اُسی وجہ سے غیر مسلم ہمارے سر پر سوار اور سینے پر مونگ دل کر مزہ لیتے ہیں۔
مندرجہ بالا سطور میں لفظ غیر مسلم پر ہمارے چند قارئین نے اعتراض کیا تھا کہ اس طرح سے بات فرقہ پرستانہ (communalize)ہوجاتی ہے ،یا بہ الفاظ دیگر اس جملے سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے ۔ٹھیک ہے آپ کا فرمانا بجا ہے مگر یہ تو فرمایئے کہ میں نے لفظ ہندوؔ کہاں لکھا تھا اور جب ہندو نہیں لکھا تھا تو پھر یہ بات آپ اپنی طرف کیوں موڑ رہے ہیں یا اِسے اپنی قوم کے ساتھ جوڑرہے ہیں۔ عیسائی،یہود،بودھ،کمیونسٹ،سکھ ،آدھی واسی ،جنگلی،ہندوستان کے کے نارتھ ایسٹ میںرہنے والی کئی ذاتیں اور ٹرائب نکسل وادی ،آریہ سماجی ،منگول،بوڈو ،اُلفا ، ظلمات یا شیطان کے پجاری،براعظم افریقہ اور براعظم آسڑیلیا کے کئی قبائیل وغیرہ کیا یہ سب غیر مسلم نہیں ہیں ۔غیر مسلم ہماری چھاتی پر سوار ہوکر مونگ دَلتے ہیں، اُس سے ہماری کیا مراد ہے ،اُس پر بات کرتے ہیں اور اُس کی چندجھلکیاں آپ کو دکھاتے ہیں ۔ البتہ آپ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ میں نے کشمیر میں بیٹھ کر مضمون لکھا تو ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق برصغیر ہند پر ہی ہونا چاہیے ۔جی نہیں! ایسا نہیں ہے کیونکہ ہمارے مذہبی صحیفے میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی گئی ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔اس لئے ایک مسلمان عالم ،امام،دانش ور جب کوئی بات کہتا ہے تو اُس کا اطلاق عامتہ المسلمین پر ہوتا ہے، پھر وہ عجمی ہو یا عربی۔اُسی طرح اگر کوئی مسلمان ادیب کچھ لکھتا ہے تو اُس کے قلم کا مخاطب سارا مسلم جہاں یعنی (Muslimdom)ہوتا ہے ، پورے کاپورا مسلم ورلڈ ہوتا ہے ۔
صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کی مسلمانوں کی بستیوں کی بستیاں صفحہ ٔ ہستی سے نابود کرنا ،بلا امتیاز عمر مردوزَن کو تہ تیغ کرنا ،منگولوں کی یلغار میں قتل عام ،کھوپڑیوں کا مینا ر،مسجدوں میں شراب نوشی کے ساتھ لحم ممنوعہ کے گوشت کا سیون ، مہاراجہ رنجیت سنکھ کے مظالم ،مسجدوں کو اصطبلوں میں تبدیل کرنا ، اذان پر پابندی ،مسلمان مستورات کا حرم بنانا ،لاہور کے پنجاب سے لے کر مظفر آباد( موجودہ’’ آزاد کشمیر‘‘) تک قتل عام بشمول شہدائے بالا کوٹ ،سن 1857ء کو انگریز وں کے خلاف ناکام جنگ آزادی کے موقع پر برطانوی فوج کے سکھ سپاہیوں کی انتقام گیری اور ایسے ہی بیسیوں واقعات سے قطع نظر ہم زیادہ پیچھے نہیں جائیں گے ،دوسری جنگ عظیم سے شروع کرتے ہیں تو بہ نگاہ صد حسرت دیکھتے ہیں کہ صرف غیر مسلم ہی مسلمان کے سینے پر سوارہوکر اُس کی چھاتی پر مونگ دَلتے ہیں ۔انگریز یعنی حکومت برطانیہ نے یہود کو ہوم لینڈ دینے کا وعدہ کیا تھا کیونکہ ان دنوںبرطانیہ میں یہودیوں کی اچھی خاصی آبادی تھی، اس لئے جو یہود سپاہ برطانیہ کی طرف سے جنگ عظیم دوم میں شریک تھے اور اُن میں سے جو زندہ بچ کر وطن واپس آگئے  تھے،اُن کو برطانیہ کے وزیر اعظم بالفورڈ نے حاکم بناکر فلسطین روانہ کردیا ،جہاں انہوں نے جدی بودی صدیوں سے آباد عربوں کے گھروں کو آگ لگائی ، ان کاقتل عام کیا ،مستورات کی بے حرمتی کی ،مقدس شہر کے تقدس کو پامال کیا اور فلسطین کے آبائی لوگوں کو وطن بدر کرکے رفیوجی کیمپوں میں دھکیلا جو آج بھی اُسی بری حالت میں ہیں، گرچہ اُن کی دو نسلیں اُس عتاب وعذاب کی شکار ہوچکی ہیں ، یہ لوگ بھگائے گئے اور زندہ بچے رہے لوگوں سے زمینیں چھینی گئیں اور وہاں یہود آبادکارؔ بسائے گئے ۔کسی طرح سے زندہ رہنے والے لوگوں کے ساتھ آج بھی وہی سلسلہ ٔ  ظلم وبربر یت جاری و ساری ہے ۔آج بھی  یہودیوں کے ہاتھوںوہی مار دھاڑ،ناجائز قبضہ گروپ ،پشتینی باشندوں کو بے گھر کرکے کھلی چھت کے نیچے لانا ، زیتون کے درختوں کی کٹائیاں ،یہود کی آباد کاریاں اور فلسطینی مردو زن کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں پر بموں کی بوچھاڑیں اور معمولی معمولی باتوں پر حبسِ بے جا کی سزائیں ۔ یہ سب کچھ غیرمسلموں کے ہاتھوں کلمہ خوانوں کے سینوں پر مونگ دَلنے کے بد ترین مظاہرے ہی تو ہیں ۔ 
یہود نے داعش کی داغ بیل ڈال کر مشرق ِوسطیٰ میں اب تک لاکھوں مسلمانوں کی گردنیں خصوصی طور کاٹ ڈالیں اور ہزاروں بھولے بھالے مسلم نوجوانوں کو مختلف بہانوں سے گمراہ کر کرکے انہیں عالمی دہشت گرد بنا ڈالا ،حالانکہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور اسی کا درس اس کے عقائد اور اعما ل کا سرنامہ ہے جسے یہ عملی طور ہر شعبہ ٔ حیات میں اپنا تا ہے ۔کیا اسلام کے مقدس نام پر یہ عالمی دہشت گرد تنظیم ،لوگوں کا سکھ اور چین غارت کرنے والی یہ جماعت ،مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش یہود و نصاریٰ کی اختراع نہیں ہے ؟یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ان کی تمام چوٹیں اور ضربیںبھی مسلمانوں پر ہی پڑتی ہیں ۔
اب اس میں کسی ثبوت یا شہادت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ بات خود امریکی ذمہ داروں اور دفاعی اداروں نے افشاء کی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر (9/11)کو تباہ کرنے میں خود امریکہ کا اپنا خفیہ ہاتھ تھا مگر شاطر لوگوں نے یہ الزام چند مسلمانوں پر تھونپ دیا تاکہ مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرکے عالم اسلام پربآسانی اور خود ساختہ جوازیت کے ساتھ ہاتھ ڈالا جاسکے ۔ یقیناً یہ آپ کے علم میں ہوگا کہ تحقیقی ایجنسی نے برملا اپنے رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ عراق میں کوئی بھی قابل اعتراض چیز ،ہتھیار یا کیمیکل نہیں ہے مگر صرف ایک دکھاوا تھا ۔ورلڈ پولیس مین نے ترقی یافتہ مسلمان ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانی تھی، سو اُس نے وہی کیا جو اُس کا شیطانی پلان تھا ۔اسی طرح افغانستان کو بھی خون مسلم سے لالہ زار کیا، آج بھی یہ خو ن خوارانہ سلسلہ جاری ہے ۔اتنا ہی نہیں دو اور مسلم ممالک شام اور لیبیا سے روس اور فرانس کی مکروہ سازشوں کے تحت خاک چٹائی گئی۔کسی زمانے کے عروس البلاد ہنستے مسکراتے پھولوں کے چمن اب اپنے شاندار ماضی کے بجائے سیاہ دھویں کی آڑ میں دنیا کے نقشے سے ہی نابود ہورہے ہیں ۔ظہور اسلام سے قبل بھی عرب کے خاندانی لوگ اور دیگر قبائل شام کے پُر بہار مست مدھر گل بنوں میں اپنے تھکے ماندے کاروانوں کی پیاس بجھاتے اور پائوں پسار کر خوب آسودگی و آرام حاصل کرکے واپسی پر اپنی تمام ضرورت کی چیزیں بشمول خوراک ورسدات اپنے اونٹوں پر بار کیا کرتے تھے ۔اُس خواب آگیں عطر و عنبر والے ونڈر لینڈ کے کھنڈروں پر آج اُلو بولتے ہیں ،فضائیں اور ہوائیں ’’جرسِ ناقۂ لیلیٰ ‘‘ کو ترس گئی ہیں۔
(باقی اگلے ہفتے انشا ء اللہ)
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او  رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995