چاکِ گریباں!!!۔۔۔ قسط2

ان  چار ممالک میں کتنے مردو زَ ن ،بوڑھے اور بچے شہید ہوگئے ،کتنے ناکارہ اور اپاہچ ہوگئے اور کتنے مختلف ممالک کے رفیوجی کیمپوں میںبے بسی اور بے کسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ،اُن کا کوئی شمار ہی نہیں۔جو اپنے ممالک میں اپنے شہروں اور اپنے گھروں میں بادشاہ تھے ،آسودہ حال اور خوش و خرم تھے، آج اُجڑے دیاروں کی تلخ یاد لئے رفیوجی کیمپوں میں گداگروں سے بدتر کسمپرسی میں خون کے آنسو بہا رہے ہیں، جب کہ اُن کی مستورات کی عزت بھی سلامت نہیں رہتی ہے ۔کیا یہ سب غیر مسلموں نے نہیں کیا ؟بولئے اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔آپ تو ایک دم خفا ہوگئے تھے۔مشہور تاج دار اور اپنے وقت کا طرح دار بادشاہ جس نے اپنے ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیا ،دیگر ترقیاتی منصوبوں کو رُوبہ عمل لانے کے علاوہ لیبیا کے ریگستان کو گل و گلزار اور باغِ ارم بنایا تھا ۔غیر مسلموں نے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔فرانس کے سابقہ صدر نے ایک تو اُس سے لیا ہوا کروڑوں ڈالر کا قرضہ ہڑپ کرلیا ،دوستی کی آڑ میں دوستی کو شرم سار کیا اور پھر اُس کو ایک گندی سی گلی میں گھٹیا ترین انداز سے ایک خارش زدہ کتے کی طرح مروا ڈالا۔نہ صرف یہ بلکہ مستقبل کے لئے بھی ملک میں اس طرح کی سازشوں کا جال بچھایا کہ آج تک نہ ملک میں امن و امان قائم ہورہا ہے اور نہ بادشاہ کے بچے کھچے رشتہ دار کہیں سکھ کا سانس لے پارہے ہیں ۔خون ِ مسلم بہہ بہہ کر لیبیا کی رتیلی دھرتی میں معدوم ہوتا جارہا ہے کوئی پُرسان ِحال ہی نہیں اور جن سازشیوں کی پاداش میں یہ سب کچھ ہورہا ہے وہ تو جوشِ قدح سے ہر وقت بزم میں چراغاں کرتے رہتے ہوں گے ۔کیا یہ سب تباہی اور موجودہ انتشار غیر مسلموں کا پھیلایا ہوا نہیں ہے ؟آپ بہت جلد کیوں خفا ہوگئے تھے،اب تو کچھ بولئے، چلئے ہم ہی آپ کوسناتے ہیں۔بقول پرویز مانوسؔ   ؎
حوصلہ جو آندھیوں میں بھی نہ ہارے گا چراغ
تیرگی میں  اور  بھی  پُر نور  ہوتا  جائے گا 
اغیار اپنی طرف سے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور آگے بڑھتے ہیں، گوانتا نا موبے اور ابو غریب جیل کس نے بنوائے ؟اور کس کے لئے بنوائے ؟یا کس کے لئے کھولے ؟اُن بدنام زماںجیلوں  اور تعذیب خانوںمیں انسانی اور اخلاقی اقدار کو شرمندہ کرنے والے مظالم کس نے کس پر کئے؟ کیا میانمار ؔ کے بعد بودھوں نے لفظ اخلاق اور انسانیت اپنی ڈکشنری سے نہیں نکال دئے ہیں ؟ظاہر ہے لحم الخنزیر کھانے والے نے لحم الخنزیر کو حرام مطلق ماننے والے پر ۔کیا اُن جیلوں میں کوئی عیسائی ،بودھ ، یہود،یا کوئی ولندیزی بحری لٹیرا تھا ؟عافیہ صدیقی کو کس نے جرم بے گناہی کی سزا دی ؟ایک عورت ذات کے ساتھ بغیر کسی جُرم کے وہ سلوک کیا گیا جس کو لکھنے کے لئے قلم کو بھی پتھر کا کلیجہ درکار ہے ۔مسلم اکثریتی ملک سوڈان میں خانہ جنگی شروع کرواکر کس نے سوڈان کو دو حصوں میںتقسیم کروایا ؟سب سے بڑے مسلم آبادی والے سیکولر ملک انڈونیشیا سے عیسائیوں کے لئے ایک الگ ریاست کا پلان کس نے بنایا ؟اس طرح کی ریشہ دوانیاں ،سازشیں اور تخریب کاریاں کرنے والے کیا وہ سارے غیر مسلم نہیں تھے ؟بھیا جی ! ہم ولندیزیؔ لقمے نہ چلاتے ہیں اور نہ چباتے ہیں،کھری کھری ،دو اور دو چار والی بات کرتے ہیں ۔آپ کو کچھ نامناسب یاغلط لگے تو برملا بتایئے گا ۔
سابقہ صدی سے شروع ہونے والا دنیا کا سب سے بڑ ا المیہ( روہنگیا بحران) جس میں چھ بار کی یلغاروں میں لاکھوں مردوزن اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو مارا نہیں گیا ، قتل نہیں کیا گیا بلکہ بڑوں کے انگ و اعضاء کی قطع وبُرید کی گئی اور چھوٹے بچوں کے ٹکڑے کئے گئے ۔کہتے ہیں کہ بودھ بڑے صلح جو اور امن پسند لوگ ہوتے ہیں ۔وہ خدا کو نہیں مانتے ہیں مگر مہاتما گوتم بدھ کو ہی ہر ایک چیز پر قادر مانتے ہیںاور رات دن ’’بُدھم شرنم گچھامی‘‘کا ورد کرتے رہتے ہیں ۔پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ’’شیطانم شرنم ‘‘ یعنی شیطان کی شرن (حفاظت)میں جاکر ابلیس کی پیروی کیوں کرنے لگے ؟ آج لٹے پٹے روہنگیا مسلم خطے کے لوگ ہندوستان اور دیگر ملکوں کو چھوڑ کر اتفاق سے زندہ بچ نکل کربنگلہ دیش میںکس مپرسی کی حالت میں گداگروں کی زندگی بسر کررہے ہیں اور دل تھام کر سنئے تعداداًیہ سات لاکھ مہاجرین ہیں ۔یہ امن و امان کے لئے نوبل انعام یافتہ لوگوں کا حال ہے ۔کیا سوچی مہارانی غیر مسلم نہیں ہے ؟آپ نے ایک معمولی سی بات کا بُرا مانا ۔بہر حال اب آپ مطمئن ہوئے ہوں گے کہ میرا مطلب کیا تھا ۔البتہ یہ بات دُرست ہے کہ اتنے شوریدہ سر حالات میں تقریباً ہر جگہ کا مسلمان مر مر کر جی رہا ہے کیونکہ وہ اُس کی مجبوری ہے ۔وہ جانا بھی چاہے تو کہاں جاسکتا ہے ،اس لئے اُس کو حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔یہ مصرعہ  ہمارے برے حالات و کوائف کا مماثل اورآئینہ دار ہے ۔۔۔ع
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے 
آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مرد کی مرد کے ساتھ شادی یعنی اغلام بازی کے لئے لائسنس، ماورائے نکاح بد کاری کا جرم نہ ہونا یعنی کھلی بے حیائی اور ڈارونؔکی ہم نوائی ،بے گناہ کو ہجوم کی صورت میں پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اُتارنا یعنی قاتلانہ غندہ گردی ،گھروں میں گھس کر یا چلتی ٹرین میں مستورات کی بے حرمتی یعنی چنگیزیت کی انتہا ، حاملہ عورت کی عصمت دری اور پھر پیٹ چاک کرکے حمل کا فٹ بال کھیل کر آگ میں جھونکنا یعنی درندگی کا عروج ،ٹوپی پہننے والے کا ناطقہ بند کرنا ،نماز کے لئے مسجد کا ضروری نہ ماننا یعنی حسبِ منشاء کسی بھی جگہ انہدامِ مسجد اور خانقاہ کی کھلی چھوٹ دینا ۔یہ حق بیزاری کی صرف چند متعین شکلیں ہیں یعنی مشتے از خروارے ۔ان پر سوچنا اور غور وفکر کرنا ہر شریف شہری کا فرض بنتا ہے ۔ہم نے کبھی اس بارے میں اپنا منہ نہیں کھولا اور نہ احتجاج کیا کیونکہ ہمیں اُس کاانجام بد معلوم تھا ۔اب میں اور کیا کہوں ،آپ ماشا ء اللہ خود سمجھ دار ہیں ۔اس شعر کے ساتھ اختتام کرتا ہوں     ؎
اُن سے تو ہوسکا نہ بہاروں کا اہتمام 
گو کاغذی گلاب سجائے گئے بہت
غ۔ن ۔گونی
تمام شد
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او  رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995